اسوۃالصلحاء مخدوم المشائخ والعلماء فخر نقشبند خواجہ خواجگان
حضر ت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ
سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ کندیا ں ضلع میانوالی پاکستان
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
امابعد
حضرت مولانا محمد عمرقریشیصاحب دامت برکاتہم العالی کی تصنیف ’’عادلانہ جواب ‘‘کا جستہ جستہ مطالعہ کیا اور فہرست مضامین دیکھی ہے۔ فقیر کا دل بہت خوش ہوا اور دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے مصنف کے لئے دعانکلی مماتی فتنہ اہل ایمان کے لئے لمحہ فکریہ ہے اس کی سرکوبی کے لئے جہد مسلسل چاہیئے ۔فقیر دعا گوہے کہ اللہ رب العزت مصنف کی اس کاوش سعید کو قبول فرماوے اور آئندہ بھی علماء حقہ علماء دیوبند کی ترجمانی کی سعادت نصیب فرماوے آمین
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہوآمین
والسلام
فقیر خان محمد عفی عنہ
خانقاہ سراجیہ
حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ
کی ایک یاد گار تحریر
ملک حاکم خان صاحب
مکرمی السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرون اولیٰ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علہیم اجمعین سے لیکر آج تک جمیع علماء کرام کا اجماعی طورپر حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو عقیدہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام وفات کے بعد اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور ان کے ابدان مقدسہ بعینہا محفوظ ہیں اور جسد عنصری کے ساتھ عالم برزخ میں انکو حیات حاصل ہے اور حیات دنیوی کے مماثل ہے۔
صرف یہ ہے کہ احکام شریعہ کے وہ مکلف نہیں ہیں روضۂ اقدس پر جو درود شریف پڑھے وہ بلا واسطہ سنتے ہیں اورسلام کا جواب دیتے ہیں ۔حضرات دیوبند کا بھی یہی عقیدہ ہے اب جو اس مسلک کے خلاف کرے اتنی بات یقینی ہے کہ اس کا اکابر دیوبند کے مسلک سے کوئی واسطہ نہیں ہے جو شخص اکابر دیوبند کے مسلک کے خلاف رات دن تقریریں بھی کرے اوراپنے آپ کو دیوبندی بھی کہے یہ بات کم از کم ہمیں تو سمجھ نہیں آتی ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم اور اکابر دیوبند کے مسلک پر صحیح پابند فرماکر استقامت نصیب فرماوے ۔
فقیر خان محمد عفی عنہ ۔خانقاہ سراجیہ
نوٹ:۔یہ تحریر حضرت مدظلہ نے خود عنایت فرمائی اور نئے ایڈیشن میں شائع کرنے کا حکم فرمایا۔
قدوۃ العلماء شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ
سابق رکن شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان
استاذ حدیث دارالعلوم کراچی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وعلی کل من تبعہم امابعد جناب مولانا محمد عمر قریشی ہاشمی صاحب مدظلہم نے اپنی کتاب ’’ عادلانہ جواب‘‘ بندہ کو تبصرے کے لئے بھیجی جس کے لئے میں ان کا ممنون ہوں باحسان الی یوم الدین
منکرین حدیث محض اپنی عقل نارساکی بنیاد پر صحیح احادیث کا انکار کچھ عرصے سے کرتے آئے ہیں لیکن ان میں سے کچھ لوگوں نے اس انکار کے ساتھ استہزاء اور سوقیانہ انداز کلام اختیار کرکے امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور جلیل القدر محدثین پر تنقید کی نہیں سب وشتم کی بارش کی ہے جس پر اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ من یضل اللہ فلاہادی لہ
ایک ایسے ہی صاحب نے حال میں حضر ت امام بخاری ؒ اور متعدد رواۃحدیث کے بارے میں جو دریدہ دھنی کی ہے جناب مولانا محمد عمر قریشی صاحب نے اسی کتاب میں اس کا مفصل جواب دیا ہے جن جن احادیث پر اعتراضات کئے گئے ہیں ان میں سے ایک ایک کے بارے میں علماء اہلسنت کے موقف کو واضح اور روشن علمی دلائل کے ساتھ بیان فرمایا ہے جو ایک طالب حق کے لئے حق تک پہنچنے کیلئے کافی وافی ہیں البتہ من یضل اللہ فلا ہادی لہ
اللہ تعالی مولانا موصوف کو اس خدمت پر جزائے خیر عطاء فرماویں اور ان کی اس کاوش کو قبول فرما کر اسے خاص وعام کے لئے نافع بنائیں ۔آمین ۔۲۴ذیقعدہ ۱۴۲۹ھ
بندہ محمد تقی عثمانی عفی عنہ
دارالعلوم کراچی نمبر ۱۴
حضرت اقدس مدظلہ کانوازش نامہ بنام حضرت قریشی صاحب مدظلہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
گرامی قدر مکرم جناب مولانا محمد عمر قریشی صاحب زید مجد کم العالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گرامی نامہ نے ممنون فرمایا اوراس کے ساتھ آپ کی کتاب ’’عادلانہ جواب‘‘ بھی موصول ہوئی جب شروع میں کسی نے میرے پاس ان صاحب کی کتاب کے اقتباسات بھیجے تھے تو یقین نہیں آتا تھا کہ کوئی شخص جو اپنے آپ کو عالم کہتا یا سمجھتا ہو وہ ایسی باتیں لکھ سکتاہے لیکن من یضل اللہ فلاھادی لہ
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں کہ آپ نے تما م اعتراضات کا پردہ چاک کرکے مسلک اہل السنت کی مدلل ترجمانی فرمائی ہے ۔آپ کے ارشاد کے مطابق چند سطور ارسال خدمت ہیں دعا میں یاد رکھنے کی درخواست ہے ۔
والسلام ۔بندہ محمد تقی عثمانی
منبع العلوم مخزن الفہوم المحد ث الکامل حضرت اقدس مولانا
ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندرمدظلہ مدیر جامعۃالعلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
باسمہ تعالیٰ
برادر محترم جناب مولانا محمد عمر قریشی ہاشمی صاحب
وفقکم اللہ تعالیٰ وحفظکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ
امید ہے کہ مزاج بخیر ہوں گے
مبارک ہو،آپ نے اس تحریفی ،تخریبی اور جاہلی فتنہ کے خلاف ،،عادلانہ جواب لکھ کر علماء کرام کی طرف سے فرض کفایہ ادا کردیا اور رسول ﷺ کے اس ارشاد کے مستحق بنے ہیں ،
یحمل ہذہ العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتاویل الجاہلین
(مشکوٰۃ المصابیح ۳۶بحوالہ بیہقی )
فجزاکم اللہ عن العلم والعلماء احسن الجزاء وزاد کم علماوتوفیقا
والسلام طالب دعا
عبدالرزاق اسکندر
مہتمم جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن
سید الفضلاء والعلماء فخر المحدثین امام اہل السنۃ والجماعۃ حضرت اقد س علامہ مولانا ابو الزاہدمحمد سرفراز خان صاحب صفدرمدظلہ
فاضل دارالعلوم دیوبند شریف
نحمد ہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم
وعلی آلہ واصحابہ وأتباعہ اجمعین
حضرت والدمحترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدر دامت برکاتہم کی خدمت میں حضرت مولانا محمد عمرقریشی زید مجدہم کی کتاب ’’عادلانہ جواب‘‘ پیش کئی گئی ہے انہوں نے اس سے اتفاق فرمایا ہے اور موصوف کے لئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس دینی وعلمی خدمت پر جزائے خیر سے نوازیں۔
آمین یا رب العالمین ۔۲۔۱۲۔۲۰۰۸
ابو عمار زاہد الراشدی۔خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
جامع الکمال صادق الاحوال فاضل دارالعلوم دیوبند حضرت شیخ الحدیث
مولانا محمد یوسف خان صاحب مدظلہ پلندری ۔آزاد کشمیر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم المقام حضرت العلامہ مولانا جناب قریشی صاحب دامت برکاتکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ :۔آپ کی کتاب’’ عادلانہ جواب‘‘ بذریعہ پارسل وصول ہوئی جناب کی یاد آوری اور مہر بانی کا شکر گزار ہوں۔
افسوس ہے کہ ضعف عمری کی وجہ سے کوئی طویل تبصرہ یا تقریظ تحریر میں لانے سے بہت قاصرہوں۔ پھر دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ کے بعدکسی تبصرہ یا تقریظ کی ضرورت ہی کیا ہے ۔
حسن اتفاق کہ صبح درس بخاری میں ابتدائی طور پر بخاری کی کتاب او را سکے رواۃ کے بارہ گفتگو کے دوران ملتانی صاحب کا ذکر آگیا جس کا میں نے طلباء کے سامنے بڑے دکھے دل کے ساتھ اظہار خیال کیا۔ درس سے فارغ ہواتو آپ کا پارسل وصول ہوا۔ کھولا تو آپ کی کتاب دیکھی ۔جستہ جستہ مقام پر نظر پڑی۔ دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی سعی کو قبول فرماکر اس طرح کے فضول لوگوں کی ہفوات سے عامۃ الناس کو گمراہی سے بچنے کا ذریعہ بنائے۔ آپ کو اس سعی مشکور پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گوہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے والد گرامی کا صحیح جانشین بنائے ۔آمین دعاؤں کا محتاج ہوں
والسلام ۔الافقر محمد یوسف پلندری
۲۳شوال المکرم ۱۴۲۹
شیخ التفسیر والحدیث بقیۃ السلف حضرت مولانا عبدالکریم صاحب مدظلہ
مدیر مدرسہ عربیہ نجم المدارس کلاچی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان
فاضل دارالعلو م دیوبند شریف
گرامی قدر مولانا محمد عمر صاحب دامت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گراں قدر’’ عادلانہ جواب‘‘ مل گیا آپ کی جانب اس اعزاز پر دوخوشیاں تو نقد حاصل ہوئیں۔ایک یہ کہ خداوند کریم کا شکر ہے کہ حضرت مرحوم آپ کے والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کی جگہ خالی نہیں ہے اور آپ جیسے باقیات صالحات سے ان کی روح مبارک کو مسرتیں حاصل ہورہی ہیں۔ اللہم زد فزد
دوسری مسرت یہ کہ بخاری شریف صدیوں سے مقبول ترین کتا ب کے خلا ف ہرزہ سرائی کرنے والے ذلیل شخص کے خلاف مہر سکوت توڑدینے کی ابتداء ہوگئی فلہ الحمد والشکر
دعا کریں آپ کی اس محنت سے مجھے استفادہ کی توفیق مل جائے ۔حسن خاتمہ اور حفاظت عن المعاصی والمصائب کی دعا کا خواستگار ہوں دریغ نہ فرماویں
والسلام ۔ناکارہ عبدالکریم غفر لہ
جمعہ ۲۴ شوال المکرم ۱۴۲۹
بقیۃ السلف قدوۃ الخلف محقق اہل السنۃ والجماعۃ حضرت اقدس
مولانا محمد نافع صاحب مدظلہ فاضل دارالعلوم دیوبندشریف
عزیزم مولانا محمد عمر صاحب قریشی زید مجدکم وشرفکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی
تسلیمات مسنونہ کے بعد تحریر ہے کہ آپ کی طرف سے کتاب ’’عادلانہ جواب‘‘ بذریعہ ڈاک موصول ہوئی ۔یاد آوری کا بہت بہت شکریہ
میری طبیعت بہت ناساز رہتی ہے پیرانہ سالی کی وجہ سے ضعف غالب ہے اور صاحب فراش ہوں ۔اس وجہ سے کچھ مستقل مطالعہ جاری نہیں رہ سکتا طبیعت بہتر حالت میں ہوئی تو کتاب دیکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ
چترو ڑ گڑھی ملتانی کی کتا ب کا جواب لکھنے کی ضرورت تھی آپ نے اس کو پور ا کردیا ۔جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء ۔یہ شخص بے دین ہے اور بد گو ہے
والسلام مع الاکرام
محمد نافع ۔محمد ی شریف جھنگ
فخر الاماثل محدث جلیل مفکر اسلام حضرت مو لانا
ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
مد ظلہ شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
نحمدہ وتبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم
وعلی الہ واصحابہ واتباعہ اجمعین
قرآن مقدس اور بخاری محدث نامی رسالہ میری نظر سے بھی گذرا ہے مگر دوچار صفحات سے زیادہ پڑھنے کی ہمت نہ کرسکا کیونکہ علمی دنیا میں اور اہل علم کے بارے میں سوقیانہ گفتگو پڑھنے یا سننے کا مجھ میں کبھی تحمل نہیں رہا ۔
حضر ت امام المحدثین محمدابن اسماعیل بخاری قدس اللہ سرہ العزیز امت کے اکابر اہل علم وفضل میں سے ہیں ان کی علمی ودینی خدمات وافادات سے امت مسلمہ کم وبیش بارہ صدیوں سے مسلسل استفادہ کرتی آرہی ہیں اور ان کے معاندین ومعترضین کی تمام تر مخالفت کے باوجود یہ سلسلہ ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک جاری رہے گا
دیگر اہل علم کی طرح حضرت امام بخاری کے اجتہادات واستنباطات سے بھی اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور بخاری شریف کے مندرجات کے بارے میں علمی گفتگو ہمیشہ سے ہوتی آرہی ہے لیکن علمی گفتگو کا اپنا ایک انداز اور معیار ہوتا ہے ۔جبکہ حضرت امام بخاری کے بارے میں مذکورہ رسالہ میں جس لہجے میں گفتگو کی گئی ہے میں اسے کسی بھی درجہ میں قابل جواب یا قابل التفات نہیں سمجھتا اور غالبا ایسے ہی مواقع کیلئے قرآن کریم نے سلام کہہ کر توجہ دوسری طرف کرلینے کی بات کی ہے ۔
حضرت مولانا محمد عمرقریشی زید ت مکارمہم ہمارے محترم بزرگ ہیں میں ان کے حوصلے کی داد دیتا ہوں کہ انہوں نے یہ رسالہ نہ صرف پورا پڑھ لیا بلکہ اس کا تفصیلی اور مدلل جواب بھی تحریر فرمادیا جس کی بہت سے حضرات ضرورت محسوس فرمارہے تھے ۔
اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو قبولیت سے نوازیں اورزیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے ہدایت اور راہ نمائی کا ذریعہ بنائیں ۔
آمین یا رب العالمین
ابو عمار زاہد الراشدی ۔خطیب مرکزی جامع مسجدگوجرانوالہ
پیر طریقت رہبر شریعت استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا
اسفند یار خان صاحب مدظلہ جامعہ دارالخیر کراچی
بندہ حقیر محمد اسفند یارمولانا محمد عمر قریشی ہاشمی مد ظلہ العالی کی تصنیف ’’عادلانہ جواب ‘‘ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور حضرت موصو ف کے لیے دعا نکلی ۔ا لحمد للہ اب بھی ایسے حضرات موجود ہیں جن میں دینی غیرت موجود ہے
اسفندیار جامعہ دارالخیر کراچی
صاحب الرأی الصائب ذوالفہم الثاقب آیۃ الخیر حضرت مولانا
قاری محمد حنیف صاحب جالند ھری مدظلہ
مدیر جامعہ خیرالمدارس ملتان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ۔۔۔۔۔۔اما بعد
یہ دور اسلاف کی آراء کے خلاف خود رائی کا ہے ۔اسلاف سے کٹ کر ہرشخص اپنے نئے نظریات کے مطابق قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے اور پھر بعض اوقات قرآن پاک کی بعض آیات کو دوسری آیات سے متعارض سمجھ کر قرآن پاک کی حجیت کا انکار کرتا ہے۔ منکرین حدیث نے اپنی غلط سوچ سے بعض احادیث کو قرآن کے متعارض قراردیا، بعض لوگ فقہ کے مسائل کو اپنی غلط سوچ کے منافی ہونے کی وجہ سے قرآن یا حدیث کے منافی قرار دیتے ہیں ۔
اسی آزاد خیال کے نتیجہ میں چندماہ قبل بخاری شریف کے قرآن پاک سے متضاد ہونے پر ایک کتاب قرآن مقدس اور بخاری محدث کے نام سے شائع ہوئی جن میں ۵۴ احادیث کو کتاب اللہ کے معارض ثابت کرکے بخاری اور بخاری کے راویوں کی کردار کشی کی گئی ۔
اس کے جواب میں بہت سے مضمون چھپے مگر ہر اعتراض کا تفصیلی جواب ہر سوال کے تجزیہ کے ساتھ نظر سے نہیں گزرا تھا ۔اس کمی کا کافی احساس تھا یہاں تک کہ مناظر اسلام حضرت مولانا محمد عمرقریشی مدظلہ کی کتاب ’’عادلانہ جواب‘‘ موصول ہوئی اس میں ہر اعتراض کا تفصیلی جواب موجودہے پڑھ کر خوشی ہوئی اور الو لدسر لابیہ کا نظارہ ہوا ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو شرف قبولیت سے نوازیں۔
آمین ثم آمین
محمد حنیف جالندھری
۳ ذی الحجہ ۱۴۲۹۔۲ دسمبر ۲۰۰۸
نوٹ :۔
حضرت والانے ایک مقام پر نظر ثانی کاارشاد فرمایاجو کہ کر دی گئی
عمدۃ الاقران والاماثل صاحب البیان والبنان حضرت
علامہ عبد القیوم حقانی صاحب مدظلہ مدیر جامعہ ابوہریرہ خالق آباد سرحد
الحمدلحضرۃ الجلالۃ والصلٰو ۃ والسلام علی خاتم الرسالۃ
پیر طریقت حضرت العلامہ مولانا محمد عمر قریشی ہاشمی دامت برکاتہم ایک بلند پایہ علمی تحقیقی شخصیت ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو مروجہ علوم وفنون میں کافی دسترس عطاء فرمائی ہے ۔ موصوف خطیب بھی ہیں اور مدرس بھی۔ مناظر بھی ہیں اور صاحب طرز مصنف بھی ۔ادیب بھی ہیں اور پیر بھی۔
آپ کے والد گرامی امام اہلسنت علامہ دوست محمد قریشیؒ سے شاید کوئی ہو جو ان کے اسم گرامی سے واقف نہ ہو ۔علامہ قریشی ؒ نے ایک درجن سے زائد کتب تصنیف فرمائی ہیں ان میں اکثر فرق باطلہ کے تعاقب میں ہیں ۔اصلاح عقائد میں موصوف کے کارنامے ناقابل فراموش ہیں۔
ان کے جانشین وفرزند ارجمند حضر ت مولانا علامہ محمد عمر قریشی بھی اپنے عظیم والد کے نقش قدم پر رواں دواں ہیں ماشاء اللہ مولانا موصو ف نے بھی فرق باطلہ کا خوب تعاقب کیاہے اور اپنے والد کے علوم ومعارف کا ترجمان مشن کا علمبردار اور صحیح جانشین ہونے کا ثبوت دیا ۔
حال ہی میں انہوں نے اپنی تازہ علمی وقلمی کاوش ’’عادلانہ جواب‘‘ میں احمد سعید ملتانی کی بدنام زمانہ کتاب قرآن مقدس اور بخاری محدث میں امام بخاری رواۃ بخاری اور صحیح بخاری پر کیئے گئے ۵۴ اعتراضات کا مسکت او رعادلانہ جواب دیا ہے کتاب دیکھنے سے مولانا کی علمیت اور تحقیق وتدقیق کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
الحمد للہ ملتانی کی خرافات کو سب سے پہلے ماہنامہ القاسم نے دنیا پرواضح کیا کہ دنیامیں ایسے غلیظ عقائد رکھنے والے اور سلف صالحین کے خلاف اس طرح جارحانہ اور گستاخانہ زبان وقلم استعمال کرنے والے لوگ بھی ہیں۔الحمد للہ ثم الحمد للہ القاسم کا تیر ہدف پرلگا اور علامہ قریشی نے نہایت مدلل اور مسکت جواب تحریر فرماکر علماء کی طرف سے فرض کفایہ ادا کردیا۔
مولانا نے ’’عادلانہ جواب ‘‘میں واضح کردیا ہے کہ ملتانی نے بخاری کی جن روایات کو قرآن کے خلاف ومتضاد ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہ ملتانی کے قرآن وحدیث سے جہالت کج فہمی اور کم فہمی پر واضح دلیل ہے
یقینا’’ عادلانہ جواب‘‘ علم وتحقیق کی دنیا میں ایک نیا اضافہ اور عظیم کارنامہ ہے اس سے مولانا کی علمی استعداد وسعت مطالعہ اور دفاع دین کا جذبہ بھی نمایاں نظر آتا ہے ۔اللہ کریم ان کی کوشش کو قبول فرمائیں ۔عبدالقیوم حقانی
جامعہ ابوھریرہ خالق آباد نوشہر ہ ۔۲ ذوالحجہ ۱۴۲۹
ولی ابن ولی یادگار اسلاف حضر ت مولانا
قاضی محمد ارشد الحسینی صاحب مدظلہ
سجادہ نشین خانقاہ مدنی خطیب مدینہ مسجد اٹک شہر
حضر ت المحترم زید مجدکم وفضلکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گرامی نامہ مع ہدیہ ثمینہ وصول ہوا جزاکم اللہ احسن الجزاء
امام بخاری امیر المؤمنین فی الحدیث ؒ کی طرف سے آپ نے گستاخ اور بے ادبوں کے سرخیل احمد سعید ملتانی زندیق لعین کو علمی وتحقیقی جواب دے کر امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کردیا ہے ضرورت ہے اس پورے شرذمہ قلیلہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ بحمد اللہ ہمارے احباب اس پر کام کررہے ہیں اگراسمیں باہم رابطہ رہے توانشاء اللہ کامیابی جلد ہوگی۔
حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ کا بیان آپ نے القاسم میں مطالعہ فرمالیا ہوگا۔ آپ کو انشاء اللہ اپریل کے پہلے ہفتے میں یہاں اٹک کے لئے تکلیف دیں گے۔
والسلام
مخلص خادم ارشدالحسینی
جامع المعقول والمنقول استاذ العلماء حضرت مولانا
مفتی محمد صدیق صاحب مدظلہ مدیر مدرسہ عربیہ امداد العلوم محمود کوٹ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بگرا میقدر عزیز حضرت قریشی صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ :۔ آپ کتاب دے کر چلے گئے اور مجھے اعتکاف کی حالت میں ایک محبوب مشغلہ مل گیا۔ جزا کم اللہ احسن الجزاء ۔اسی دوران کتاب پڑھی
ایک منحوس مغرور متکبر نخوت سے پر مغز موہن علماء وصلحاء کی یاوہ گوئی ہرزہ سرائی کے جواب میں آپ کی علمی متانت سنجیدہ طر زگفتگو وسعت ظرفی نوعمری کے پر سکون علمی جذبات معتمد علیہا کتب سے مضبوط ومستحکم مسکراتے دلائل دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنے والد گرامی رحمۃ اللہ علیہ کی مسند علمی کو سنبھال لیا ۔ اللہم زد فزد
محدثین ماضی قریب وبعیداور علماء کی طرف سے دفاعی راستہ اختیار کرکے آپ نے ان کی علمی شان کو تحفظ دیا او رکتاب کو اسم بامسمی بنادیا و الحمدللہ علی ذالک ۔
آپ نے ایک چترے کوڑھی (چتروڑگڑھی )کو جس طرح قعرذلت میں دھکیلا تازیست انشا ء اللہ سنبھل نہ پائیگا ۔اللہ تعالیٰ آپ کی اس کاوش علمی کو قبول فرمائے
محمد صدیق مدرسہ امدا دالعلوم محمود کوٹ شہر ۔۶ شوال المکرم ۱۴۲۹ ھ
مناظر اسلام محقق وقت حضرت العلامہ مولانا ابو احمد نور محمد قادری تونسوی
خطیب مرکزی جامع مسجد ترنڈہ محمد پناہ مدیر الجامعۃ العثمانیہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
واجب الاحترام والتکریم حضرت العلام مولانا محمد عمر صاحب قریشی ہاشمی دامت برکاتہم العالیہ
آپ کی تازہ تصنیف ’’عادلانہ جواب‘‘ بذریعہ ڈاک معہ محبت نامہ موصول ہوا کتاب کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور پڑھا تو ایمان تازہ ہوگیا ۔الحمد للہ آپ اپنے سلف صالحین کے خلف الرشید ہیں ۔اور مسلک حقہ کی خدمت اور حفاظت آپ کی گویا گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ اور یہ کتاب بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ کیونکہ اشاعت التوحید والسنت والوں نے امام بخاری ؒ اور روات بخاری بلکہ پورے ذخیر�ۂ احادیث کو پرویزیوں کی طرح ناقابل اعتماد گرداننے کی ناپاک جسارت کی ہے اور جو گندا مواد عرصہ دراز سے ان کے اذہان میں پک اور ابل رہا تھا اب وہ کھل کرہر کہ اورمہ کے سامنے آگیا ۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اس قلمی جہاد پر جزائے خیر عطا فرمائے آپ نے دفاع حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ادا کردیا
ایں کار از تومے اید ومرداں چنیں کند
اللہ تعالیٰ علم وعمل میں اور جملہ تصانیف میں برکت پیدا فرمائے اور آئندہ کیلئے بھی ہر باطل سے ٹکرانے کی ہمت اور قوت عطاء فرمائے ۔
والسلام نور محمد قادری
مجاہد اسلام خطیب اہلسنت حضرت
مولانافیض محمد فیض نقشبندی مدظلہ
خطیب جامع مسجد ملیہ سلیمانیہ سندھ پارلیمنٹ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میرے شیخ وشیخ زادہ مناظر اسلام پیر طریقت حضرت علامہ محمد عمر قریشی ہاشمی دامت برکاتہم جانشین مخدوم العلماء استاذالمناظرین غزالی دوران شیخ الاسلام حضرت علامہ دوست محمد قریشی ہاشمی نقشبندی مجددی رحمہ اللہ نے ایک ضال ومضل راہ حق سے ہٹے اور گمراہی وبدعقیدگی کی ناپاک ونجس دلدل میں لتھڑے ،عقل ودانش سے پیدل شخص، چتروڑگڑھی کی گھٹیا وناشائستہ زبان میں تحریر شدہ جاہلانہ کتاب بنام (کتاب قرآن مقدس وبخاری محدث)کا ’’عادلانہ جواب‘‘ نہایت ہی فاضلانہ وعالمانہ انداز میں لکھ کر اہل علم ومتلاشیان راہ حق پر احسان عظیم فرمایا اوراپنے والد بزرگوار رحمہ اللہ کی صحیح علمی عملی ودینی جانشینی کا حق ادا کیا اور حدیث وسنت دوستی کا ثبوت دیا
ایں سعادت بزور باز ونیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
درحقیقت حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ کی یہ پر خلوص کوشش محض فضل خداوندی ومحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ثمر وصلہ ہے ۔
بندہ ناچیز کی دلی دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت الشیخ کی اس سعی جمیل کو اپنی درگاہ پاک میں شرف قبولیت سے نوازے نیز اہل علم کے لئے خصوصااور عامۃ المسلمین کے لئے عموما نفع مند وذریعہ ہدایت ونجات بنائے اوراحقاق حق وابطال باطل پر مزید زور بازووقوۃ قلم نصیب فرمائے ۔آمین
فیض محمد فیض نقشبندی صدر تنظیم اہلسنت سندھ
مہتمم جامعہ اسلامیہ نقشبندیہ فیض آباد کوٹ ادو
مناظر اسلام ترجمان احناف استاذالعلماء حضرت العلامہ
مولانامحمدانوراوکاڑوی مدظلہ جامعہ خیرالمدارس ملتان
حامداومصلیا۔امابعد
اکابرین امت پر عدم اعتماد کی فضاعام ہو چکی ہے بہت سے لوگو ں نے اسلاف سے کٹ کرقرآن وحدیث اور فقہ پر اعتراضات شروع کر دیئے حالانکہ اس میں قرآن وحدیث وفقہ کاقصور نہیں اپنی فہم کاقصور ہے اسی سلسلہ کی ایک کتاب قرآن مقدس اور بخاری محدث احمد سعید چتروڑ گڑھی کی شائع ہوئی جس میں احادیث بخاری اور قرآن پا ک میں تضاد ثابت کرکے روایات بخاری ،امام بخاری اور رواۃ بخاری پر سخت غلیظ حملے کیے ہیں۔ اگرچہ عنوان محبت قرآن اور دفاع امام ابوحنیفہ کابھی ہے مگر طرزاستدلال منکرین حدیث اور شیعوں والاہے ۔
اس مادرپدرآزاد ی کی فضامیں لوگوں کے گمراہ ہونے کاسخت اندیشہ تھااسلیے بعض رسائل میں اور بعض کتب کی صورت میں اس کی تردید کی گئی مگر ہرمضمون میں کچھ علمی تشنگی باقی تھی ۔حضرت مولانامحمدعمر قریشی ہاشمی زید مجدہ کے’’عادلانہ جواب‘‘ پڑھ کر وہ تشنگی الحمد للہ دور ہوگئی ۔
مولانا نے دلائل قاہرہ سے ثابت کیاہے کہ جن احادیث کوقرآن پاک سے متضاد سمجھاگیاہے ۔الحمدللہ ان میں ذرہ برابرتضاد نہیں البتہ چتروڑی صاحب کی کج فہمی سے یہ تضاد پیدہوا۔
ہم چتروڑی کے غلط مفہوم کو قرآن یاحدیث ماننے کے لیے تیارنہیں اہل علم بلکہ عوام کے لیے یہ’’ عادلانہ جواب‘‘ حفظ ایمان کاتریاق ہے۔بلکہ بنظر انصاف حامیان چتروڑی بھی اس کا مطالعہ کریں تو انشاء اللہ ان کے لیے ہدایت کاذریعہ بنے گی ۔
اللہ تعالیٰ مصنف کی عمر اور علم میں برکت عطا فرمائیں اور دارین میں اجر سے نوازیں ۔آمین
کتبہ محمد انور اوکاڑوی ۔جامعہ خیر المدارس ملتان
استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت العلامہ
مولانا عبدالمجیدصاحب فاروقی مدظلہ
مدیر جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کریم نے آخر الزمان پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو جو سچا دین عنایت فرمایا وہ آخری دین ہے جس کی بنیاد اللہ کریم کا کلام مقدس ہے اور اس کلام کی تفصیل وتشریح رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ذمہ لگائی گئی فرمایا
وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیہم (القرآن)
رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد ربانی کی جو تعمیل فرمائی اس کو اہل اسلام ’’حدیث ‘‘کہتے ہیں ۔ الفاظ قرآن کی تحریف وتبدیلی بے دینوں کے بس کا روگ نہیں اس لئے ہر دور کے بے دینوں نے حدیث کو نشانہ ستم بنایا اور اہل اسلام کو اس سے دور کرنے کی سعی ناتمام کی تاکہ حدیث پاک کو ناقابل اعتماد ٹھہراکر قرآن کی تفسیر اپنی من مانی مرضی سے کریں جس کے لئے ارشاد فرمایا یضل بہ کثیر اویہدی بہ کثیر ا
امام ہمام بخاری کی ’’الجامع الصحیح‘‘ حدیث پاک کی وہ کتاب ہے جس پر پوری امت مسلمہ کو ہر دور میں اعتماد رہا ہے اور یہ وہ مایہ ناز کتاب ہے کہ اس کی ہر حدیث کی سند معتبر روات کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ سلم تک جڑی ہوئی ہے ۔
کچھ عرصہ قبل احمد سعید نامی ایک صاحب نے انتہائی گھٹیا اور سوقیانہ انداز میں صحیح بخاری اور اس کے ذی وقا ر مصنف امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری اور صحیح بخاری کے روات پر گالی سے لبریز ایسی گندی تنقید کی (الامان والحفیظ ) اہل علم تو کجا کوئی اجہل اور معمولی حیا والا آدمی بھی ایسی گندی زبان استعمال نہیں کرتا (قرآن مقدس اور بخاری محدث)کے نام سے وہ کتاب شائع ہوئی تو اہل علم میں شدید اضطراب پیدا ہوا اور جواب دینے کے لئے مشورے ہونے لگے اللہ کریم کی توفیق سے قرعہ فال ہمارے مخدوم زادہ محترم علامہ مولانا محمد عمر قریشی ابن علامہ زماں مولانا دوست محمد قریشی ؒ کے نام نکلا جو الولد سر لابیہ کے مصداق اتم ہیں۔ انہوں نے اس کتاب کا علمی اور تحقیقی انداز میں ’’عادلانہ جواب‘‘ تصنیف فرما کر علماء امت کی طرف سے فرض ادا کردیا اور نقلی دلائل کے ساتھ عقلی طور پر دلنشین اندا ز میں ہر مسئلہ کی وضاحت کی اہل علم کے دل سے دعائیں نکلیں کہ اللہ کریم اس قابل قدر علمی خدمت کو شرف قبولیت سے نوازیں ۔فجزاہ اللہ عن سائر المسلمین احسن الجزاء واکمل الجزاء آمین بحرمۃ سید المرسلین علیہ الف الف الصلٰوۃ والتسلیم
محمد عبدالمجید عفی عنہ
خادم الحدیث جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید
یکم ذی الحجہ ۱۴۲۹۔30/11/2008
شیخ الحدیث پیر طریقت حضرت العلامہ مولانا
مفتی حبیب الرحمان صاحب درخواستی مدظلہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عظیم باپ کے عظیم فرزند کا عظیم کارنامہ
حق وباطل کا معرکہ نفوس قدسیہ طائفہ ربانیہ اور شیطانی وطاغوتی ٹولہ کا نظریاتی تقابل ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔
حتی کہ یہ تسلسل اپنے آپ کو سمیٹتے ہوئے ماضی قریب میں وارثان انبیاء علیہم السلام ،کاروان ولی اللہی، علماء اہلسنت والجماعت، علماء دیوبند زادہم اللہ شرفا اور اسلام کو کمزور کرنے کے لئے اسلام سے عوام الناس کو متنفر کرنے کے لئے انگریز کی سرپرستی میں پھلنے پھولنے والے مختلف گمراہ فرقوں کے درمیان ہوتا ہوا نظرآتا ہے ۔
پھر اسی تسلسل کے میدان میں ایک اسلام کا شیرکفر وشرک، رافضیت وخارجیت، منکرین شریعت وطریقت کو للکارتا ہوا نظرآتا ہے میری مراد عارف باللہ استاذالمناظرین خطیب اہلسنت حضرت العلامہ مولانا دوست محمد قریشی نورا للہ مرقدہ ہیں ۔
اب حال ہی میں ایک بدبخت ،بدقسمت انسان نے بظاہر امام بخاری ؒ کو اور درحقیقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو نشانہ بنایا ہے ۔العیاذ باللہ
کیونکہ اس بدبخت نے احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو وحی غیر متلو ہے پر جان بوجھ کر جھوٹے اعتراضات تراشے ہیں ۔کلام اللہ وکلام رسول، وحی متلو ووحی غیر متلو کے مابین تعارض وٹکراؤ شو کرکے ناموس رسالت وعصمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے ناپاک ہاتھ ڈالنے کی مذموم کوشش کی ہے ۔
فقیر سمجھتا ہے اس بدبخت نے امام بخاری پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی امام بخاری پر اس کا اعتراض بنتا ہے اسلئے کہ اسکا اعتراض تو یہ ہے کہ امام بخاری نے یہ روایات کیوں ذکر کی ہیں یا اعتراض یہ ہے کہ ان احادیث رسول اللہ کو امام بخاری نے اپنی کتاب میں روایۃ لا کر ان ان جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔العیاذ باللہ
فقیر عرض کرتا ہے :۔سوچنے کی بات ہے
(۱)کہ یہ احادیث، احادیث بخاری ہیں یا احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟
(۲)ان احادیث مبارکہ کو صرف امام بخاریؒ اپنی کتاب میں لائے ہیں یا دوسرے ائمہ حدیث نے بھی اپنی کتب احادیث میں ان کو ذکر فرمایا ہے؟
(۳)کیا ان احادیث مبارکہ کو امام بخاری نے براہ راست خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے یا امام بخاری سے پہلے تبع تابعین ،تابعین اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے روایت فرمایا ہے؟
اگر یہ احادیث مبارکہ امام بخاری کی اپنی کلام ہوتی یا ان احادیث کو فقط امام بخاری ہی اپنی کتاب میں لاتے یا امام بخاری براہ راست ان احادیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں تو امام بخاری پر اعتراض کی گنجائش ہوتی اور جبکہ صورت بالکل اس کے برعکس ہے ۔
*جب امام بخاری کی طرح اکثر ائمہ حدیث ان احادیث مبارکہ کو روایۃ اپنی کتب احادیث میں لاتے ہیں تو اس بدبخت نے جملہ ائمہ حدیث پر عدم اعتماد کی ناپاک جسارت کی ہے
*اور جب ان احادیث مبارکہ کو امام بخاری نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اکیلے روایت نہیں فرمایا بلکہ تبع تابعین ،تابعین اور صحابہ کرام نے پہلے روایت فرمایا اور امام بخاری نے بعد میں تو اس بد بخت کے تیروں کا نشانہ پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ،تابعین وتبع تابعین ہیں اور بعد میں کوئی دوسرا
* جب یہ احادیث امام بخاری کی باتیں نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ ہیں تو پھر یہ گستاخانہ انداز خود حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ایک کافرانہ جرأت ہے ۔
*جب دین کے حوالہ سے کلام رسول اللہ وحی الہٰی ہوتی ہے ۔وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی ۔تو اس بدبخت کی بدبودار گفتگو وتحریر براہ راست اللہ جل جلالہ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی توہین ہے ۔اعاذنااللہ منہ
اس بد بخت کی یہ ناپاک تحریر وکتابچہ جو ملعون رشد ی کی گستاخیوں کا مجموعہ تھی شائع ہوکر عوام میں تقسیم ہونے لگی تو غیور مسلمانوں میں بالعموم اور علماء کرام میں بالخصوص غیض وغضب کی لہر دوڑ گئی۔ کئی علماء اس کتابچہ کا رد لکھنے کا ارادہ کررہے تھے کہ ادھر میدان حق کا غازی عارف باللہ علامہ قریشی رحمہ اللہ کی روح بے قرار ہوکرپھر میدان عمل میں اتر آئی یعنی اس عظیم باپ کا عظیم فرزند مناظر اسلام پیر طریقت حضرت العلامہ مولانا محمد عمر قریشی مدظلہ تحفظ ناموس رسالت کے میدان میں اتر کر سبقت لے گئے۔
ایں سعادت بزوربازونیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء
انہوں نے سب سے پہلے یہ عظیم کارنامہ سرانجام دیا اور اس سعادت عظمیٰ کو حاصل کرکے علماء حق کی ذمہ داری پوری کردی۔ اور علمی حلقہ میںیہ پھر آشکارہو گیا کہ واقعی عظیم باپ کافرزندبھی عظیم ہے ۔علم وعمل ،تدریس وتصنیف، تحقیق وتدقیق ،خطابت وتحریر اور عشق رسول، غیر ت ایمان میں اپنے والد گرامی کا صحیح جانشین ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے برادر محترم مناظر اسلام خطیب اہلسنت حضرت مولانا محمد عمر قریشی صاحب مدظلہ کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے ،مسلمانوں کے لئے دجالوں کے دجل سے حفاظت اور امت مسلمہ کے لئے سچی راہنمائی وہدایت کا ذریعہ بنائے۔آمین یارب العالمین
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد والہ اصحابہ اجمعین
حبیب الرحمان درخواستی
شیخ الحدیث ومہتمم جامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور۔ امیرمرکزیہ مجلس علماء اہل السنۃ والجماعۃ پاکستان
سرپرست جمعیت علماء اسلام پاکستان ۔۱۴ ذوالحجہ ۱۴۲۹
ماہنامہ الفاروق کراچی
ذوالحجہ ۱۴۲۹ ھ صفحہ۶۰
زیر سرپرستی ۔حضرت اقدس شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ
فاضل دارالعلوم دیوبند صدر وفاق المدار س العربیہ پاکستان
کچھ عرصہ قبل ایک صاحب احمد سعید چتروڑی نے امام محدثین محمد بن اسماعیل بخاری کی صحیح بخاری پر انتہائی نامناسب اسلوب میں اعتراضات کئے تھے اور اصح الکتب بعد کتاب اللہ کی ثقاہت پر جرح کرتے ہوئے اسے غیر معتمد قرار دینے کی کوشش کی ۔چتروڑی صاحب نے اپنے رسالے کا نام ’’قرآن مقدس اور بخاری محدث‘‘ رکھا ۔
مختلف حضرات علماء کرام نے ان کے اعتراضات کا جواب دیا ہے ۔زیر نظر کتاب میں جناب مولانا محمد عمرقریشی صاحب نے بھی ان کے چون اعتراضات کے تفصیلی جواب دیئے ۔
چتروڑی صاحب نے اپنے اعتراضات میں عموماً قرآن کریم اور صحیح بخاری کی روایات کے درمیان تعارض ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔جنا ب مولانا قریشی صاحب نے ہر اعتراض کو نقل کرکے اس کا جواب دیا ہے اور جمہور اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک قرآن وحدیث کے صحیح مفاہیم کی وضاحت کی ہے اور ہربات باحوالہ لکھی ہے اس طرح انہوں نے اہل حق کی طرف سے ایک فریضہ ادا کیا ۔
ماہنامہ وفاق المدارس ملتان
شمارہ نمبر ۱۲ ذوالحجہ ۱۴۲۹ ھ دسمبر 2008ء
چند ماہ پہلے مولوی احمد سعید ملتانی نے قرآن مقدس اور بخاری محدث نامی ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے منکرین حدیث اور اہل تشیع کی باتوں کا چربہ لیکر امام بخاری رواۃ بخاری اور احادیث صحیح بخاری پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی انہوں نے کتاب میں انتہائی گھٹیا بازاری اور سوقیانہ انداز اختیار کیا ہے سب سے پہلے ماہنامہ القاسم کے مدیر مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب نے القاسم کے پرچوں میں اس پر تردیدی مضامین لکھ کر علمی حلقوں کو مؤلف کی گمراہی اور کوتا ہ بینی سے آگاہ کیا ۔
’’عادلانہ جواب‘‘ کے نام سے زیرنظر تالیف بھی مذکورہ بالا کتاب کا ایک علمی جواب ہے جسے حضرت مولانا دوست محمد قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ کے فرزند ارجمند مولانا محمد عمر قریشی صاحب نے مرتب کیا ہے انہوں نے امام بخاری رواۃ بخاری اور احادیث صحیح بخاری کے خلاف ہرزہ سرائیوں پر مشتمل اس کتاب کے 54اعتراضات کے تحقیقی جوابات دیئے ہیں۔
کتاب کی ابتداء میں دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کا فتوی بھی نقل کیا گیا ہے جس میں احمد سعید ملتانی کی کتاب کی مذمت کی گئی ہے اور کتاب کے مؤلف کو ضال اور مضل قرار دیا گیا ہے ۔
زیر تبصرہ کتاب پر دارالعلوم کہرو ڑ پکا کے استاذ حدیث حضرت مولانا محمد منیر احمد منور صاحب کا پیش لفظ ہے جس میں انہوں نے کتاب کی ترتیب وتالیف میں کی گئی محنت وسعی کو سراہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف موصوف کو ا س کاوش کا دارین میں صلہ عطاء فرمائے۔
مخدوم العلماء ولی کامل حضرت مولانا ارشاد احمد صاحب دامت برکاتہم
مدیرو شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم کبیر والا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
برادر مکرم مناظر ابن مناظر میدان تحقیق کے شہسوار حضرت علامہ قریشی صاحب زید مجدہ کی کتاب ’’عادلانہ جواب‘‘ بجواب ’’قرآن مقدس بخاری محدث‘‘ مصنفہ احمد سعید چتروڑی نظر سے گزری۔ ماشاء اللہ محققانہ انداز، شستہ وشائستہ وشگفتہ گفتار، دلائل سے بھر پور مخالف کی ہر دلیل کا جواب احسن انداز میں دیا گیا ہے ۔مصنف الولدسر لابیہ کے صحیح مصداق ہیں ۔اپنے والد گرامی حضرت علامہ دوست محمد قریشی رحمۃاللہ تعالیٰ کے صحیح علمی جانشین ہیں۔ اہل باطل کے نظریات کی تردید اور انکا تعاقب حضرت ؒ کا طرہ امتیاز تھا اور یہی خاص ذوق حق تعالیٰ شانہ نے آپ کے خلف الرشید فرزند ارجمند کوبھی عطا فرمایا دعوت وتبلیغ وتدریس کے ساتھ ساتھ میدان تصنیف کے بھی شہسوار ہیں۔ اہل بدعت وروافض وفرقہ لا مذہبیہ کے نظریا ت کی تردید میں کئی رسائل تصنیف فرماچکے ہیں ۔تازہ تصنیف احمد سعید چتروڑی کے رسالہ’’ قرآن مقدس اور بخاری محدث‘‘ کا’’ عادلانہ جواب‘‘ ہے جوکہ علماء طلباء ودین دوست طبقہ کیلئے انتہائی مفید ہے
اللہ تعالیٰ برادرمحترم کی اس خدمت دین کو قبول فرمائیں۔ آمین
فقط والسلام
حررہ ۔العبد الضعیف ارشاد احمد عفی عنہ
خادم جامعہ دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا ۔۱۴۲۹۔۱۲۔۲۰
استاذ العلماء حضرت مولانا عبدالرحمن جامی صاحب دامت برکاتہم
شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم رحیمیہ ملتان مدیر جامعہ حفصہ للبنات الاسلام
باسمہ تعالیٰ وتقدس
برادر عالی مرتبت پیکر علم وعمل مناظر ابن مناظر جانشین حضرت علامہ مولانا دوست محمد قریشی رحمہ اللہ تعالیٰ جناب مولانا محمد عمر قریشی زید مجدہم کی کتاب’’ عادلانہ جواب‘‘ نظر سے گزری آنکھوں کی تبرید وقلب کی تسکین کا ذریعہ بنی ،برادرموصوف میرے بچپن کے ہم پیالہ وہم نوالہ ،،تکمیل،، ودورہ حدیث،، کے ساتھی وتکراری ہیں۔ آپ کی قابلیت ذکاوت وفطانت میری آنکھوں کا مشاہدہ ہے۔ الولدسر لابیہ کا صحیح مصداق ہیں اپنے والد گرامی قدس سرہ کے تمام کمالات وصفات حسنہ اپنے اند ر سمولیئے ہیں۔ خوش الحان مبلغ،، بے مثال مدرس،، بے نظیر محقق ،،عظیم مناظر،، بلند پایہ مصنف،، ہیں ۔اپنے والد گرامی کی طرح اہل باطل کے نظریات کی تردیدحضرت قریشی صاحب کا بھی خصوصی امتیاز ہے ،،فرقہ لا مذہبیہ،، اہل بدعت ،،روافض ،،کے خلاف آپ کا قلم،، زبان ہر وقت متحرک رہتے ہیں۔
تازہ ترین تصنیف ایک گستاخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وگستاخ صحابہ رضوان اللہ علیہم وگستاخ ائمہ واولیاء ومحدثین رحمہم اللہ،، ملحدو لا مذہب چتروڑگڑھی،، کے گستاخانہ سوقیانہ جاہلانہ اعتراضات کے جوابات پر مشتمل ہے ۔جس میں برادر مصنف زید مجدہ نے انتہائی متانت وفطانت کے ساتھ ہر اعترض کے مسکت ودندان شکن دلائل سے مرصع جوابات دے کر اہل علم سے خوب تائید وتصویب ،تحسین ودعائیں وصول کی ہیں ۔دعا ہے خداوند قدوس حضرت قریشی صاحب کی زندگی میں برکت نصیب فرمائے اور دین متین کی مزید خدمت کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
کتبہ عبدالرحمن جامی۔ دارالعلوم رحیمیہ ملتان۔۱۴۲۹۔۱۲۔۲۱
ازدفترمرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
چند ماہ قبل جادۂ مستقیم سے منحرف مولوی احمد سعید ملتانی نے ایک کتاب ’’قرآن مقدس اور بخاری محدث‘‘کے نام سے لکھی جس میں اس نے نیچریت ورافضیت کا وتیرہ اختیار کرتے ہوئے امام بخاری ؒ ،رواۃ بخاری اور صحیح احادیث بخاری پر زہر اگلا ہے کیا خوب کہا
چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنۂ پاکاں زند
مناظر اہل سنت حضرت مولانا دوست محمد قریشی ؒ کے خلف الرشید حضرت مولانا محمد عمر قریشی صاحب مدظلہ نے ’’عادلانہ جواب‘‘کے نام سے منصفانہ جواب دے کر جمیع اہل السنۃوالجماعۃ کی جانب سے وکالت کا حق ادا کیا ہے اور آغاز کتاب میں دارالعلوم دیوبند کا فتوی( جس میں احمد سعید ملتانی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ضال ومضل کہا گیا ہے )نقل کرکے کتاب کی عظمت کو اضعافاً مضاعفۃًکردیا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا محمد عمر قریشی صاحب مدظلہ کی سعی کو مثمرا اور بارآور فرمائیں اور جمیع مسلمانوں اور انسانوں کے لئے باعث ہدایت بنائیں اور چتروڑی فتنہ سے ہم سب کو مأمون ومصون فرمائیں۔
آمین ثم آمین بحرمۃ خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
غلام رسول دین پوری
خادم ختم نبوت دفتر مرکزیہ ملتان
۱۹،۱۲،۱۴۲۹
مناظر اسلام شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایاصاحب مدظلہ
باسمہ تعالیٰ وتقدس
مخدومی ومخدوم زادہ مولانا محمد عمرقریشی زیدہ مجدہ
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مزاج گرامی
اس سال اللہ رب العزت نے حجاز مقدس جانے کی سعادت سے سرفراز فرمایا دوران سفر مولانا عبدالقیوم نعمانی کراچی نے آپ کی عادلانہ جواب کی اشاعت کی خوش کن خبر سے ممنون فرمایا۔
اسی وقت کتاب کے مطالعہ کا شو ق پیدا ہوا واپس آکر ہجوم کار نے گھیر لیا مگر۱۴جنوری کوروزنامہ اسلام میں اشتہار پڑھا تو لائبریری کے رفقاء سے کتاب کا معلوم کیا پتہ چلا آپ نے کتاب بھجوائی ہے بعد از عصر سے عشاء تک مکمل حرفاً حرفاً پڑھا آپ نے خوب تعاقب کیا بلکہ تعاقب کا حق ادا کردیا اور حضرت امام بخاری ؒ پر پڑے غبار کو صاف کیا اس خدمت جلیلہ پر مبارک قبول فرمائیں ۔
حق تعالیٰ آپ کی مساعی میں برکت نصیب فرمائیں اور ہر لحاظ سے اپنے گرامی قدر والد مرحوم کا ہمہ جہت جانشین بنائیں ،آمین
محتاج دعاء
فقیر اللہ وسایا
دفتر ختم نبوت ملتان
۱۵،۱،۲۰۰۹
شیخ الحدیث والتفسیر حاوی الاصول والفروع استاذ العلماء
حضرت مولانا منظور احمد صاحب نعمانی
جامعہ احیاء العلوم ظاہر پیر رحیم یار خان
تقریظ منظوم
ملحد وزندیق نے مجروح کی شان نبی ﷺ
اپنے باطن کی خباثت کو کیا اس نے عیاں
کفر کے ایجنٹوں کا کردار ایسا ہی رہا
دین کے داعی دفاع کرتے رہے ہیں ہر زماں
نوجوان فاضل قریشی پہ خدا راضی رہے
اس فریضے کو ادا کرکے ہوئے ہیں دلستاں
بالبراہیں عادلانہ کردیا کامل دفاع
شیر کا بیٹا یقیناہوتاہے شیرژیان
امت محبوب کے ہاتھوں میں دی تلوار تیز
جس سے گستاخوں کے سرکٹتے رہیں گے اور زبان
سر والد کا بھی تو نے حق ادا کرہی دیا
اے میرے لخت جگر نور نظر اور جان جاں
ہے دعا ہردم برائے عافیت علم وفضل
تاکہ ہم باری کریں باطل پہ منظور جہاں
خطیب اسلام جامع المحاسن حضرت علامہ
مولاناقاری محمد امداد اللہ صاحب قاسمی مدظلہ
خطیب جامع مسجد حمزہ برمنگھم (یوکے)
حامدًاومصلیاً امابعد۔
گذشتہ دنوں پاکستان کے بعض احباب نے امام بخاریؒ ، رواۃبخاری اور روایات بخاری شریف پر کیے گئے چون اعتراضات کامجموعہ بنام قرآن مقد س اوربخاری محدث پڑھنے کو پیش کی۔مطالعہ کیا جسمیں مؤلف نے سوقیانہ زبان ،گھٹیاانداز تحریراپناتے ہوئے امیر المحدثین حضرت امام بخاری رحمہ اللہ پرایسے غیر معقول اعتراضات کیے ہیں جن کاحقیقت سے دور کابھی واسطہ نہیں اور یہ وہ باتیں ہیں جوروافض اور منکرین حدیث ہمیشہ کرتے رہتے ہیں۔احمد سعید ملتانی نے انھیں کی چوری کی ہے کوئی نئی تحقیق وتتبع کار فرمانہیں البتہ بیہودہ طرز بیان وہ انھیں کی ذاتی کاوش ہے۔
حجیت حدیث کاانکار بہت پرانافتنہ ہے ۔جس کاامام اہل السنۃ والجماعۃ حضرت امام شافعی ؒ نے کتاب الام میں ،حافظ ابن قیم ؒ نے اعلام الموقعین میں ،امام غزالیؒ نے المستشفع میں ،شیخ محمد ابراہیمؒ نے الروض القاسم میں اور شیخ زفر یمانیؒ نے الحدیث والمحدثون میں دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ سے رد فرمایا ہے ۔
ماضی قریب میں عبداللہ چکڑالوی ،احمد دین امرتسری ،اسلم جیراجپوری ، اور غلام احمد پرویز نے جب اردوخواند ہ طبقہ کی نظر میں احادیث طیبہ کو مشکوک کرنے کی ناکام کوشش کی تو حضرات علماء اہل السنۃ والجماعۃنے اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے متانت وسنجیدگی کے ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں دشمن کی تمام سازشیں ناکام بنادیں
جب یہ کتاب(قرآن مقدس اور بخاری محدث) میرے ہاتھ میں تھی تو میں سوچ میں گم تھا کہ نظر قدرت اس کے دفاع کے لئے کسے منتخب فرماتی ہے ۔
الحمد للہ ثم الحمد للہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ رب العزت نے یہ عظیم کام برادرمکرم استاذ العلماء حضرت العلامہ مولانا محمد عمر صاحب قریشی مدظلہ کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچایا
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
کتاب واقعی اسم بامسمیٰ ہے اصح الکتب بعد کتاب اللہ پر کئے گئے اعتراضات کا مفصل مدلل مسکت عادلانہ جواب ہے ۔
مولانا قریشی مدظلہ میرے دورہ حدیث مبارک کے ساتھی ہیں وہی مبنی بر اخلاص تعلق آج بھی قائم ہے ۔بارہا ان کے ہاں جامعہ فرقانیہ/ رحیمیہ دارالمبلغین کوٹ ادو میں حاضری ہوئی ہے امسال بھی درجہ قرآن کریم حفظ وناظرہ ودرجہ کتب سے فارغ ہونے والے طلباء کرام کی دستار بندی کی تقریب میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ادارہ کی کارکردگی ہر اعتبار سے لائق تحسین ہے ۔
اللہ تعالیٰ مولانا قریشی صاحب مدظلہ کی اس تالیف کو اپنی بارگا ہ میں شرف قبولیت سے نوازیں ۔آمین
محمد امد اداللہ القاسمی
خطیب جامع مسجد حمزہ برمنگھم یو کے 30/8/2008
مناظراسلام وکیل احناف حضرت العلامہ
مولانامحمد منیر احمد منور صاحب مد ظلہ
استاذ التفسیر والحدیث باب العلوم کہروڑ پکا
و امیر اتحاد اہلسنت والجماعت پاکستان
نحمد ہ ونصلی علی رسولہ ا لکریم محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین
امابعد
صراط مستقیم افراط وتفریط کے درمیان راہ اعتدال کا نام ہے اور یہی حق ہے اسی کے طلب کا حکم ہے اھدنا الصراط المستقیم اور اسی پر چلنے کا امر ہے وان ہذا صراطی مستقیماً فا تبعو ہ اسی نقطۂ اعتدال کو حکمت کہا گیا ہے ومن یوتی الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا جبکہ ہر چیز میں افراط وتفریط باطل ہے ۔
مثلاً باب عقائد میں بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ انبیاء واولیاء ہر جگہ حاضر وناظر ہیں اور بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ہرجگہ حاضر وناظر نہیں ۔افراط وتفریط کے یہ دونوں راستے باطل ہیں۔ ان کے درمیان راہِ اعتدال اور صراط مستقیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرجگہ حاضر وناظر ہے مگراللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ہرجگہ حاضر وناظر نہیں ۔
بعض لوگوں نے معجزات وکرامت کو انبیاء واولیاء کا اختیاری فعل قرار دے کر انبیاء واولیاء کو مختار کل مان لیا جبکہ بعض لوگوں نے معجزات وکرامات کو شرک سمجھ کر ان کا انکار کردیا مگر یہ افراط وتفریط ہے جو باطل ہے ۔
صراط مستقیم یہ ہے کہ معجزہ وکرامت اللہ تعالیٰ کے اس خرق عادت فعل کا نام ہے جو نبی یا ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے اس میں نبی یا ولی کے اپنے اختیار کا دخل نہیں ہوتااس لئے معجزہ وکرامت نہ شرک ہے اور نہ اس سے انبیاء واولیاء کا مختار کل ہونا ثابت ہوتا ہے ۔
ایک فریق نے بعض معجزات وکرامات کی وجہ سے انبیاء واولیاء کو عالم الغیب مان لیا اور اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے کا انکار کردیا ۔دوسرے فریق نے ان معجزات وکرامات کا انکار کردیا جبکہ ا س افراط وتفریط کے درمیان صراط مستقیم یہ ہے کہ وہ معجزات وکرامات برحق ہیں مگر صفت عالم الغیب کا اطلاق صرف اللہ تعالیٰ پر ہوسکتا ہے غیر اللہ پر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے ہی حدیث کے بارہ میں منکرین حدیث کا عقیدہ یہ ہے کہ حدیث نہ حجت ہے نہ اس کی ضرورت ہے صرف قرآن کافی ہے ۔جبکہ منکرین فقہ کاعقیدہ یہ ہے کہ ہر صحیح حدیث پر عمل کرنا ضروری ہے ۔اس افراط وتفریط کے درمیان راہِ اعتدال یہ ہے کہ حدیث حجت ہے اور فہم قرآن و فہم دین کے لئے بہت ضروری ہے لیکن ہر صحیح حدیث پر عمل ضروری نہیں بلکہ بعض حدیثوں پر عمل ہوتا ہے بعض پر عمل نہیں ہوتا جیسے منسوخ احادیث، پیغمبر ﷺ کی خصوصیات ومعجزات والی احادیث مبارکہ صحیح ہونے کے باوجود امت کے لئے ان پر عمل کرنا جائز نہیں ۔
منکرین حدیث نے صحیح بخاری کی صحت کو مشتبہ او ر مشکوک بنا دیا جبکہ منکرین فقہ نے صحیح بخاری کی صحت سند کو معیار بنا کر صحیح بخاری کی ہر حد یث کو معمول بہ قرار دے رکھا ہے۔ اس افراط وتفریط کے درمیان راہ اعتدال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی احادیث مبارکہ سندًا صحیح ہیں مگر صحت سند ،صحت عمل ،کی دلیل نہیں ۔اس لئے صحیح بخاری کی بعض حدیثیں معمول بہ ہیں اور بعض غیر معمول بہ ہیں۔ جیسے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ،رانیں کھلی کرنا،نمازمیں سلام کرنا،اسی طرح آپ ﷺ کی خصوصیات ومعجزات کی احادیث بھی معمول بہ نہیں پھر معمول بہ احادیث اور غیر معمول بہ احادیث کے جاننے میں جن شخصیات پر محدثین نے اعتماد کیا ہے ہمیں بھی انہی پر اعتماد کرنا چاہیئے۔ وہ مجتہدین او رفقہاء ہیں ۔
منکرین حدیث کے انکار حدیث کے مختلف انداز ہیں ایک یہ کہ فلاں حدیث قرآن کے خلاف ہے اور جو قرآن کے خلاف ہو وہ حدیث نہیں ہوسکتی ۔نبی پاک ﷺ کیسے قرآن کے خلاف حدیث بیان فرماسکتے ہیں ۔
گستاخ رسول چتروڑی نے اپنی منحوس کتاب قرآن مقدس او ربخاری محدث میں منکرین حدیث کی اسی قبیح روش کو اختیارکیا ہے ۔اور رافضیوں کی طرح امام بخاری اور بخاری کے بعض مسلّم رواۃ پر خوب تبرا کیا ہے۔ اور اس ’’ علمی بونے ‘‘ نے کود کود کر اچھل اچھل کر ان قد آور شخصیات کی پگڑیاں اچھالنے کی کوشش میں اپنے دین ایمان کو تباہ وبرباد کرلیا ہے۔ ان جبال علم کے ساتھ ٹکرانے سے ان کا تو کچھ بگڑا نہیں البتہ الامہ احمد سعید سے علمی خول اور علمی جھول اتر کر ان کا سراپا جہالت سامنے آگیا ہے ۔
احمد سعید کی اس جہالت وحماقت کے سامنے آجانے کے باوجود خطرہ موجود تھا کہ بعض کم فہم اور ظاہر بین کہیں دھوکہ میں آکر منکرحدیث نہ بن جائیں ۔اس لئے ضرورت تھی کہ اس کتاب کا جواب لکھ کر اس خطرہ سے عوام الناس کو بچایا جائے ۔
اللہ تعالیٰ جزائے خیر دیں امام المناظرین علامہ دوست محمد قریشی رحمہ اللہ کے مسند نشین حضرت مولانا محمد عمر قریشی صاحب زید مجدہ کو کہ انہوں نے اس کتا ب کا عادلانہ جواب لکھ کر بتا دیا ہے کہ احمد سعید نے بخاری شریف کی جن احادیث کوقرآن کے خلاف و متضاد دکھانے کی کوشش کی ہے وہ قرآن کے خلاف نہیں بلکہ احمد سعید نے قرآن وحدیث سے اپنی جہالت ،کج فہمی ،اور کم فہمی کی وجہ سے ان کو متضاد سمجھ لیا ہے ۔
حضرت قریشی زید مجدہ نے عادلانہ جواب لکھ کر جہاں سب علماء کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے وہاں یہ کتاب علم وتحقیق کی دنیا میں ایک شاہکار کتاب ہے ۔ اس سے مولانا کی علمی استعداد ،وسعت مطالعہ ،اور دفاع دین کی قابلیت وجذبہ بھی نمایاں ہوتا ہے ۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ اس علمی کاوش کو قبولیت تامہ و عامہ سے سرفراز فرماکر مولاناموصوف کے لئے نجات کا اور طالبین حق کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنائیں ۔
آمین ثم آمین ۔
منیر احمد منور
استاذ التفسیر والحدیث باب العلوم کہروڑ پکا
و امیر اتحاد اہلسنت والجماعت پاکستان
j
حال دل
ملک کے مؤقر جریدہ ماہنامہ القاسم اور دیگر احباب کے ذریعہ قرآن مقدس اور بخاری محدث مصنفہ احمد سعید ملتانی کا تذکرہ پڑھا ،سنا ۔دیکھنے کو جی چاہا تلا ش بسیار کے باوجود کتاب نہ مل سکی۔ جب قدرت مہربان ہوئی تو خطیب اسلام برادر مکرم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مدظلہ جنرل سیکرٹری تنظیم اہل السنۃ پاکستان نے ازخود کرم نوازی فرمائی اور ہدیۃً وہ کتاب بھیج دی۔
ان دنوں مسئلہ طلاق ثلاثہ پر تحقیقی کام کی مصروفیت کے سبب تفصیلی مطالعہ نہ کرسکا اس سے فارغ ہونے کے بعد کتاب کو دیکھا، مطالعہ کیا۔ آنکھ کھلی کہ ہمارے ملک اور ہماری صفوں میں بھی
لباس خضر میں ہزاروں رہزن پھرتے ہیں۔
احمد سعید چتروڑی ملتانی نے ایک صد پچیس صفحات کی کتاب میں امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ ،رواۃ بخاری ،احادیث بخاری کے ساتھ ساتھ اللہ کے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب رضوان ا للہ علیہم اجمعین کو بھی معاف نہ کیا (نعوذ باللہ من ذالک )
طرز تحریراور اندازیہ اپنایا کہ قرآن مقدس کا عنوان قائم کرکے قرآنی آیات کی تفسیرمن چاہے اندازمیں کی گئی اور پھر بخاری محدث کے عنوان کے تحت بخاری شریف سے روایات نقل کرکے ان کا بھی اپنی ناقص عقل ودانش کے مطابق مفہوم متعین کیا ،بعدہ دونوں میں تقابل وتعارض ثابت کرکے جو دل میں آیا سو لکھا۔
تفصیل تو انشاء اللہ آنے والے صفحات میں ملاحظہ فرماویں گے بطور نمونہ پڑھ سن لیں
امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی
1 ۔۔۔ بخاری اپنی روایت کے ذریعہ آپ ا کا نابالغہ لڑکیوں کے ساتھ جنسی کھیل کھیلنا ثابت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آپ ا نعوذ باللہ ان سے جنسی کھیل رچائیں اور طبع آزمائی میں مشغول ہوجائیں۔ صفحہ [۵۷۔۵۸]
2 ۔۔۔ایسا کام تو کوئی چنڈ و باز بھی نہیں کرتا اللہ کے پیغمبر سے کس طرح ممکن تھا۔صفحہ [۷۰]
3 ۔۔۔ابن ام مکتوم کے کہنے پر اللہ کے رسول ا نے از خود آیت میں لکھوادیا۔ لاحول ولا قوۃ۔ صفحہ [۱۰۶]
4 ۔۔۔ آپ ا میں جولاادری کا اندھیراتھا تو جبرائیل کی پڑھائی سے دور ہورہا ہے۔ صفحہ [۸۸]
صحابی رسول اکی گستاخی
صحابی رسول ا حضرت نعمان رضی اللہ عنہ اور ان کی بیٹی منکوحہ رسول اللہ ا کے متعلق لکھتا ہے
وہ کافرہ اورکافر کی بیٹی تھی صفحہ[ ۷۰]
حدیث رسول ا کے خلاف
کافروں کاقدیم زمانہ سے پیشہ چلا آرہا ہے پڑھنے والا اپنا فریضہ ادا کررہا ہو۔۔۔اس کے عین مقابلہ میں نعت خوانی دوہڑا بازی شروع کردے گا یا قا ل قال رسول اللہ کی لڑھ مچادے گا ۔صفحہ [۸۷]
ان عبارات کو پڑھ کر ارادہ ہوا کہ حتی الوسع خدمت حدیث کی جائے مگر اتناعلمی تحقیقی بوجھ اور میرے علمی طور پر ناتواں کندھے، کوئی مناسبت نظر نہ آئی یہ بھی معلوم ہوا کہ علماء کرام مختلف مقامات پر اس کے جواب لکھنے میں مصروف ہیں تو ارادہ تقریباً ترک کردیامگر انہی دنوں میں خواب دیکھا( تفصیل تو نہیں لکھ سکتا) جس میں جواب لکھنے کا حکم ہوا قلم سنبھالا ہمت پکڑی اکابر سے دعائیں لیں اور جواب لکھنا شروع کردیا ۔
میرے عزیز مفتی محمد صادق صاحب کی محنت لائق صد ستائش ہے حوالہ جات کی تلاش میں بہت زیادہ تعاون کیا ۔اللہ انہیں جزائے خیر عطافرماویں
یقین فرمایئے اس جواب لکھنے کی غرض صرف اور صرف اپنی قبر اورآخرت سنوارنا ہے اللہ تعالیٰ میری اس خدمت کو منظور فرماکر ذریعہ نجات بنا دیں میرے گناہ معاف فرماویں اور دنیا وآخرت کی بھلائیاں نصیب فرماویں۔آمین ثم آمین
بات کو آسان سے آسا ن کرنے کی حد درجہ کوشش کی گئی ہے ۔اَ لاَّمَہ احمد سعید کی تصنیف قرآن مقد س اور بخاری محدث کے تعارضات عموماً ملخصاً نقل کیئے گئے ہاں کہیں کہیں مکمل طور پر یا اکثر حصہ بھی نقل کردیا گیا ہے
حوالہ جات کے نقل کرنے میں پوری احتیاط سے کا م لیا گیا ہے مگر پھر بھی غلطی خارج از امکان نہیں ۔مطلع کرنے پر خوشی ہوگی
محمد عمر قریشی عفا اللہ عنہ
خادم مدرسہ فرقانیہ دارالمبلغین کوٹ ادو مظفر گڑھ
مقدمہ
P
اصطلاح محدثین رحمہم اللہ میں حدیث کی تعریف اقوال النبی وافعالہ و احوالہسے کی جاتی ہے۔ کیونکہ محد ث کی غرض آنحضرت اکے تمام منتسبات ومضافات خواہ وہ اقوال ہوں ،یا احوال ہوں ۔اختیاریہ ہوںیاغیراختیاریہ ہوں ان سب کوجمع کرکے امت تک پہنچانا ہوتی ہے
اس علم شریف کا موضوع ذات النبی ﷺ من حیث الرسالۃ اور غرض اس کی اپنی زندگی کے ہرشعبہ میں آنحضرت اکی سنت طیبہ پر عمل کرکے رضاء خداوندی اور سعادت ابدیہ کو حاصل کرنا ہے۔
اسکی شرافت وعظمت سمجھنے کے لئے اس قدر کافی ہے کہ حدیث اس ذات والاصفات سے صادرہونے والے امور کا نام ہے جس کا مقام وماینطق عن الھوی* ان ہوالا وحی یوحٰی ہے ۔
یاد رکھیں علم قرآن اگر اسلامی ودینی علوم میں بمنزلہ قلب ہے توعلم حدیث کو شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے ۔کیونکہ آیات طیبات کا شان نزول ان کی تفسیر ،قرآنی احکام کی توضیح، عموم کی تخصیص، مبہم کی تعیین وغیرہ علم حدیث کی مرہون منت ہیں۔
بلکہ حامل قرآن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور اخلاق کریمانہ امت تک اسی علم حدیث کے ذریعہ پہنچتے ہیں ۔نیز حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی ترکت فیکم امرین لن تضلواماتمسکتم بہما کتاب اللہ وسنۃ رسولہ۔ [مشکوٰۃ۔صفحہ[۳۱ ]
میں نے تمھارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک ان کو مضبوطی سے پکڑے رہوگے گمراہ نہ ہوگے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہا ۔
اس سے یہ حقیقت واضح ہوکر سامنے آگئی کہ
1 ۔۔۔قرآن کریم اور سنت نبی اقیامت تک سرچشمہ ہدایت رہنیگے۔
2 ۔۔۔اسلام کی صحیح تصویر اور اسلام کی صحیح تعلیم قرآن وسنت کی باہمی تطبیق سے حاصل ہوگی۔
جس قادر مطلق نے قرآن کریم کی حفاظت کرنی ہے احادیث طیبہ کی حفاظت بھی اسی کے ذمہ ہے۔ اگر کسی نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کرنا چاہا تو وہ شخص صراط مستقیم سے کوسوں دور ہوگا ۔تاریخ اسلام پر نظر رکھنے والا اچھی طرح جانتا ہے کہ اسلام میں بدعتی فرقے پیدا ہونے کا سبب قرآن وسنت میں تفریق وتحریف ہے ۔
قدیم باتیں چھوڑیئے آج بھی صرف قرآن کریم کو ہر ضرورت کا حل اور ہر مسئلہ کے لئے کافی اور اپنی عقل وفہم کو اسکی تشریح کے لئے کافی تر سمجھنے والوں نے حجیت حدیث ، حیات برزخی، شفاعت پیغمبر اور معجزات کا انکار کردیا۔ جس طرح ایک جماعت صرف حدیث کا نعرہ لگا کر فقہ سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے اسی طرح منکرین حجیت حدیث نے بھی صرف قرآن کا نعرہ لگا کر احادیث مبارکہ کے پورے ذخیرہ کو ناقابل اعتماد بنانے کی ناکام سعی کی ہے ۔بعض کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ حدیث وتاریخ کی ایک ہی حیثیت ہے۔
اناللہ واناالیہ راجعون حالانکہ
1 ۔۔۔حدیث ایک ذات واحدسے متعلق حالات وواقعات کانام ہے جن کو جمع کرناآسان ہے جبکہ تاریخ میں منتشر ومختلف اشخاص کے حالات کو جمع کیا جاتا ہے جو بہت مشکل ہے۔
2۔۔۔حدیث پاک کو روایت کرنے والے اصحاب رسول ا موقع کے گواہ ہیں جبکہ تاریخ میں موقع کا گواہ اول تو ہوگانہیں اگر ہوگا توایک یا دو۔
3۔۔۔تاریخی واقعہ کے راوی تین سے زائد نہیں ملتے جبکہ احادیث کے راوی ایک لاکھ سے زائد نفوس قدسیہ ہیں۔
4۔۔۔تاریخ کے راوی کو بجز حالات وواقعات بیان کرنے کے اصل واقعہ وشخص سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ہے جبکہ حدیث کے راوی وہ ہیں جنہوں نے حضرت اپر جان، مال ، اولاد ،عزت، وطن سب کچھ قربان کردیا۔
میرے ان معروضات کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں چولی دامن کا ساتھ ہے حدیث کی حجیت قرآن بیان کرتا ہے تو قرآن کی تفسیر وتشریح حدیث رسول اللہا بیان کرتی ہے۔
حجیت حدیث کے دلائل قرآن مجید سے
1 ۔۔۔وماکان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امراً ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلالاً مبینا [النساء ]
2 ۔۔۔اناانزلناالیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ
3۔۔۔فلاوربک لایؤمنون حتی یحکموک فی ماشجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاًمما قضیت ویسلموا تسلیماً
4 ۔۔۔من یطع الرسول فقد اطاع اللہ
5 ۔۔۔ومااتٰکم الرسول فخذوہ ومانہکم عنہ فانتہوا [حشر]
6 ۔۔۔قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولا یحرمون ماحرم اللہ ورسولہ [توبہ]
7۔۔۔وانزلناالیک الذکرلتبین للناس مانزل الیہم ]نحل[
8 ۔۔۔وان تطیعوہ تھتدوا [نور]
ان آیات مبارکہ نے جہاں حیثیت نبوی اکو واضح فرمایاوہاں اقوال وافعال واحوال کی حجیت کو بھی نہایت صراحت سے بیان کیا ہے
وہ آیات مقدسہ جن کا مطلب سمجھنا احادیث پر موقوف ہے
1۔۔۔الاتنصروہ فقد نصر ہ اللہ اذاخر جہ الذین کفروا ثانی اثنین اذہما فی الغار
2۔۔۔ عبس وتولی ان ج�أہ الاعمٰی
3 ۔۔۔والذین اتخذوا مسجدًا ضِررًا وکفرًا وتفریقا بین المؤمنین [ الایۃ ]
4ٰ۔۔۔ وعلی الثلاثۃ الذین خلفواحتی اذا ضاقت علیہم الارض بما رحبت وضاقت علیہم انفسہم [الایۃ ]
5 ۔۔۔ولا تصل علی احد منہم مات ابداً [الایۃ ]
6۔۔۔یاایہاالذین آمنوااذانودی للصلوھ من یو م الجمعۃ [الآیۃ]
ان آیات طیبات میں بھی اہم واقعات واحکام کی طرف اشارہ ہے جن کو سمجھنے کے لئے احادیث رسول اللہ ا کے بغیر چارہ نہیں
تاریخ علم حدیث
عرب فطرتًا قوی الحافظہ ہونے کے سبب لکھنے پر حفظ کرنے کو ترجیح دیتے تھے بلکہ پہلی صدی ہجر ی تک علماء عرب عام طور پر کتابت پر زیادہ توجہ کو بنظر تعجب دیکھا کرتے تھے تاہم یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ عہد نبوت امیں حدیث پاک کی مطلقاً کتابت ہی نہیں کی گئی کیونکہ حضرت عبداللہ بن عمرو Z کے پاس ایک ہزار احادیث کا لکھا ہوا مجموعہ موجود تھا جس کا نام الصادقہ تھا ۔
1۔۔۔سنن دارمی جلد[۱]صفحہ [۱۳۶]پر ہے حضرت عبداللہ بن عمروZ فرماتے ہیں
میں حضرت اکی ہربات لکھ لیتا تھا ۔مجھے بعض احباب نے کہا
تکتب کل شئیسمعتہ من رسول اللہ ورسول اللہ بشر یتکلم فی الغضب والرضاء فامسکت عن الکتابۃ
آ پZ حضرت اسے ہر سنی بات نوٹ کرلیتے ہوحالانکہ حضرت ا کبھی ناراض ہوتے ہیں،کبھی خوش ہوتے ہیں تو میںیہ سن کر لکھنے سے رک گیا ۔
ایک دن یہی بات حضرت ا کی خدمت اقدس میں گذارش کردی تو آپ ا نے اپنے منہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اکتب فوالذی نفسی بیدہ ماخرج منہ الا حق لکھا کر مجھے اپنے اللہ کی قسم میرے منہ سے بجز سچ وحق کے کچھ نہیں نکلتا ۔
2۔۔۔حضرت ابوھریرہ Zفرماتے ہیں کوئی بھی صحابی رسول ا مجھ سے زیادہ احادیث بیان کرنے والا نہیں ۔سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھتے تھے ۔
لیس احد من اصحاب رسول اللہ اکثر حدیثاً عن النبی ﷺ منی الا ماکان من عبدا للہ بن عمرو فانہ کان یکتب ولا اکتب سنن دارمی جلد [۱]صفحہ [۱۳۶]
3۔۔۔حضرت سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے پاس احادیث کا لکھا ہوا مجموعہ تھا جس میں دیت اور دیگر مسائل موجود تھے۔
عن ابی جُحیفۃ قال قلت لعلیؓ ہل عندکم کتاب قال لا الا کتاب اللہ اوفہم اعطیہ رجل مسلم اومافی ہذہ الصحیفۃ قال قلت ومافی ہذہ الصحیفۃ قال العقل وفکاک الاسیر ولا یقتل مسلم بکافر ۔
بخاری جلد [۱]صفحہ [۲۱]
4۔۔۔ حضرت ابو ھریرہ Zکے شاگر درشید جناب بشربن نَھِیک فرماتے ہیں
کنت اکتب مااسمع من ابی ھریرۃؓفلمااردت ان افارقہ اتیتہ بکتابہ فقرأت علیہ وقلت ہذا ماسمعت منک قال نعم ، سنن دارمی جلد[۱]صفحہ[۱۳۸]
میں جو احادیث حضرت ابوھریرہZ سے سنتا لکھتا جاتا جب درس مکمل کرکے آنے لگا تو میں نے وہ لکھا ہوا مجموعہ حدیث پڑھ کر سنایا اور یہ بھی عرض کیا ہذا سمعت منک یہ وہ حدیثیں ہیں جومیں نے آپ سے سنی ہیں آپ Z نے مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے فرمایا نعم جی ہاں
5۔۔۔حضرت ابن عمرZ فرماتے تھے۔
قیدوا ہذاالعلم بالکتاب۔
سنن دارمی جلد[۱]صفحہ[۱۳۸]
ان حوالہ جات سے میرے مدعی کی تصدیق ہوگئی کہ آنحضرت ااور دور صحابہ میں بھی حدیث لکھے جانے کے واقعات ملتے ہیں۔ ہاں زیادہ تر توجہ حفظ کی طرف تھی ۔
کیا حفظ کے سلسلہ میں عقل پر اعتماد کیا جاسکتا ہے؟
میرے محترم دوستو :۔
اللہ رب العزت نے اس امت پر جہاں دیگر انعامات فرمائے ہیں ان میں سے ایک قوت حافظہ بھی ہے۔
1۔۔۔حضر ت قتادہ فرماتے ہیں
اعطی اللہ ہذاالامۃ من الحفظ مالم یعط احدا من الامم خاصۃخصہم اللہ بہا:
زرقانی بحوالہ تدوین حدیث صفحہ[۹۸]
2۔۔۔حضرت سیدنا ابوھریرہ Zفرماتے ہیں
فمانسیت شیئاحدثنی بہ
اسد الغابہ جلد [۶]صفحہ[۳۱۴]
3 ۔۔۔حضرت قتادہ، حضرت سعید بن المسیب Zکی خدمت میں مدینہ طیبہ حاضر ہوکر اخذ فیض کرنے لگے حضر ت قتادہ مسئلہ پر مسئلہ پوچھتے رہے اور سوال پر سوا ل کرتے رہے۔کچھ دن تو حضرت سعید Zخاموش رہے آخر ایک دن فرمایا جو کچھ سن چکے ہو اسے یاد کرلیا ؟
جواباً حضرت قتادہ نے عر ض کی سألتک عن کذافقلت فیہ کذا وسألتک عن کذا فقلت فیہ کذامیں نے فلاں سوال کیاتھا آپ نے فلاں جواب دیاتھا۔میں نے فلاں سوال کیاتھاآپ نے فلاں جوابدیاتھا۔بالآخرحضرت سعیدZنے فرمایاماکنت اظن ان اللہ خلق مثلک میں نہیں سمجھتا تھا اللہ تعالیٰ نے آپ جیسا انسان بھی پیدا فرمایا ہے ۔
طبقات ابن سعد جلد [۵]صفحہ ۲۶۴]
4 ۔۔۔حضرت امام بن راہویہؒ آپ علم حدیث میں بلند پایہ امام ہیں حفظ وضبط میں ضرب المثل تھے ایک مرتبہ عبداللہ طاہر کا امیر خراسان کی دربار میں کسی عالم سے مناظرہ ہوگیا اثناء گفتگو ایک کتاب کی عبارت پر اختلاف ہوا ۔
آپ نے امیر خراسان سے کہا کتب خانہ سے فلاں کتاب اٹھاؤ کتاب آگئی آپ نے فرمایا عد من الکتاب احدی عشرۃ ورقۃ ثم عد سبعۃ اسطر کتاب کے گیارہ ورق شمار کریں اوراسکی ساتویں سطر ملاحظہ کریں جب دیکھا گیا تو ابن راہویہ کی بات من وعن موجودتھی امیر نے آ پ سے مخاطب ہوکر فرمایا علمت انک تحفظ المسائل ولکنی اعجب لحفظک ہذا المشاہدۃ
یہ تو میں جانتا تھا آپ کو مسائل ازبر ہیں مگر آپ کی قوت حافظہ کے اس مشاہدہ نے مجھے حیرت زدہ کردیا ہے ۔تاریخ دمشق ۔ابن عساکر
5۔۔۔دور نہ جائیے جب مرزائیت کے خلاف مشہور مقدمہ بہاول پور میں آیۃ من آیات اللہ سیدی وسندی حضرت اقدس سید محمد انور شاہ کشمیری تشریف لائے تو مرزائی نے فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت کی عبارت پیش کرکے پورے ہال کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
اس وقت محدث جلیل حضرت کشمیری رحمہ اللہ نے فرمایا جج صاحب آج سے بتیس سال پہلے میں نے یہ کتاب دیکھی تھی فریق مخالف عبارت میں دھوکہ دے رہا ہے اسے کہو اصل عبارت پڑھے جب جج کے کہنے پر مکمل عبار ت پڑھی گئی تو عبارت کا مفہوم وہی تھا جو حضرت شاہ صاحب نے بیان فرمایا ۔گویا بتیس سال پہلے کی بات یادتھی۔
ایسے محیر العقول واقعات سے کتب لبریز ہیں متقدمین ومتأخرین میں ایسے نفوس قدسیہ کی کمی نہیں ۔
احتیاط فی الحدیث
1 ۔۔۔حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
کان لا یرضی الا یسمع الحدیث عشرین مرۃ
جب تک حضرت ا کی حدیث بیس مرتبہ نہ سن لیتے چین نہ آتا۔
2 ۔۔۔حضرت معن فرماتے ہیں۔
امام مالک سے جتنی روایت بیان کرتا ہوں قد سمعتہ منہ نحواً اواکثر من ثلثین مرۃ
3 ۔۔۔حضرت ابراہیم فرماتے ہیں۔
کل حدیث لا یکون عندی من ماءۃ وجہ فانا فیہ یتیم
تفصیل تو بڑی کتب میں لکھی جاتی ہے یہ مختصر تالیف ہے سب کا احاطہ مشکل ہے بتانایہ چاہتا ہوں حضرت پاک ا اور اصحاب رسول اکے زمانہ میں بھی حدیث کی کتابت کیجاتی تھی ان لوگوں کاحافظہ بے مثال تھا نیز یہ حضرات احتیاط فی الحدیث کا حق ادا فرماتے تھے۔
یوں تو اس علم وفن کی خدمت میں ہزاروں نام آتے ہیں آتے رہینگے مگر میں نے اس مقام پر کچھ تذکرہ خیر امیر المؤمنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل بخاری نور اللہ مرقدہ کا کرنا ہے۔
امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری نور اللہ مرقدہ
اسم گرامی ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری
ولادت ۱۳ شوال ۱۹۴ھ بروز جمعہ
وفات ۲۵۶ ھ بعد نماز عشاء
آپ نے ابتدائی تعلیم والدہ محترمہ کی زیر نگرانی حاصل کی بخارا میں امام داخلی کے تشریف لانے کے سبب ان کی خدمت بھی آنا جانا رہا جب آپ کی عمر سولہ سال کی ہوئی امام عبداللہ بن مبارک(تلمیذامام اعظم امام ابو حنیفہؒ ) کی کتب یاد تھیں ۔ تحصیل علم کے سلسلہ میں مصر، شام، حجاز، بغداد، بصرہ اوربے شمار مرتبہ کوفہ کے اسفار فرمائے۔
شیوخ واساتذہ کی تعداد ایک ہزار سے زائد لکھی گئی ہے۔
فائدہ
ثلاثیات بخاری میں سے ۲۰ حدیثیں حنفی شیوخ سے روایت کی گئی ہیں حضرت مکی بن ابراہیم سے گیارہ۔ ابو عاصم النبیل سے چھ۔ اور محمد بن عبداللہ انصاری سے تین ۔
انوار الباری جلد[۲]صفحہ [۲۱۹]
قوت حافظہ کے چند واقعات
1 ۔۔۔حاشد بن اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔
امام بخاری رحمہ اللہ میرے ساتھ مشائخ کی خدمت پڑھنے گئے ۔نہ قلم ،نہ دوات، نہ کاغذ۔ایک دن میں نے کہا جب آپ احادیث لکھتے نہیں تو پھر آپ کے پڑھنے کاکیا فائدہ؟
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا لکھے ہوئے رجسٹر نکالو میں تمہیں ترتیب وار احادیث یاد سناتا ہوں۔حاشد فرماتے ہیں سولہ دن کا سبق پندرہ ہزار حدیثیں آپ نے یاد سنادیں بلکہ ہم نے اپنے نوشتوں کی تصحیح کی۔
2 ۔۔۔جب آپ بخارا تشریف لائے تو چار صد علماء نے بغرض امتحان ایک سو احادیث کے متون واسانید میں غیر معمولی تغیر کرکے امام بخاری رحمہ اللہ کے سامنے پیش کیئے مگر امام بخاری رحمہ اللہ نے منٹوں میں وہ گتھی سلجھادی۔
3 ۔۔۔حضر ت امام اسحاق بن راہویہ
امام بخاری سے اپنی نسبت فرمانے لگے میں ایسے آدمی سے واقف ہوں جس کے دماغ میں ستر ہزار حدیث محفوظ ہے ۔آپ نے فرمایا اس نگار خانہ میں ایک اور شخص ہے جو دولاکھ حدیث پر عبور رکھتا ہے۔ ہوسکتا ہے اسی وقت اتنی یاد ہوں ورنہ علماء نے لکھا ہے کہ آپ کو چھ لاکھ سے زائد احادیث یاد تھیں۔
یوں تو امام بخاری کی تصنیفات کی تعداد پچیس سے زائد ہے مگر قدرت نے جو شہرت ومقبولیت بخاری شریف کو عطاء فرمائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ تقریباً ۲۱۷ھ میں جب آپ کی عمر ۲۳ سال کے قریب تھی اس کتاب کی تصنیف کا آغاز کیا ۔
آپ خود فرماتے ہیں میں نے الجامع الصحیح کو بیت الحرام میں تصنیف کیا اور تراجم ابواب مسجد نبوی ا میں منبر شریف اور روضہ اقدس کے درمیان لکھے ۔
بقول علامہ نووی بخاری شریف میں[ ۷۲۷۵ ]احادیث موجود ہیں اس کی عنداللہ مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے
1۔۔۔ اس کے ایک سو سے زائد شروحات وحواشی لکھے جاچکے ہیں اور ابھی بھی خدمت جاری ہے۔
2 ۔۔۔نوے ہزار محدثین نے آپ سے (امام بخاری ) بلا واسطہ بخاری شریف سنی
3۔۔۔ابویزید مروزی فرماتے ہیں خواب میں حضور ا کی زیار ت نصیب ہوئی آپ ا نے فرمایا ۔ابو یزید ہماری کتاب کا درس کیوں نہیں دیتے ؟میں نے عرض کی جنا ب کی کتاب کون سی ہے تو حضرت اکی ذات بابرکات نے فرمایا محمد بن اسماعیل کی الجامع الصحیح۔ سبحان اللہ سبحان اللہ (ملخصاً ازحالات مصنفین مولانا گنگوہی )
اکابر علماء امت اور امام بخاری رحمہ اللہ
1 ۔۔۔محدث جلیل امام ابو اسحاق فرماتے ہیں
من ارا دان ینظر الی فقیہ بحقہ وصدقہ فلینظر الی محمد بن اسماعیل
اگر کسی نے حقیقی فقیہ دیکھنا ہو تو امام بخاری کو دیکھے
2۔۔۔یحیٰی بن جعفر فرماتے ہیں
لو قدرت ان ازید فی عمرمحمد بن اسماعیل من عمری لفعلت فان موتی یکون موت رجل واحد وموتہ ذہاب العلم
اگر میری عمر کا کچھ حصہ امام بخاری کو مل سکتا تو میں ضرور انہیں دیتا کیونکہ میری موت ایک آدمی کی موت ہے اور ان کی موت سے علم جاتا رہے گا۔
3۔۔۔حضرت عبدان فرماتے ہیں
مارأیت بعینی شاباً ابصر من ہذا واشارالی محمد بن اسماعیل
میری آنکھ نے امام بخاری سے بڑھ کر صاحب بصیرت عالم نہیں دیکھا۔
4 ۔۔۔حضرت نعیم بن حماد فرماتے ہیں
محمد بن اسماعیل فقیہ ہذہ الامۃ
امام بخاری اس امت کے بڑے فقیہ ہیں
5۔۔۔حضرت علی بن حجر فرماتے ہیں
خراسان نے تین عالم پیدا کیئے ہیں ۔ابوزرعہ ۔محمد بن اسماعیل۔ عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی مگر محمد عندی ابصر ہم واعلمہم وافقہہم مگر ان میں سے امام بخاری بڑے فقیہ عالم اور صاحب بصیرت تھے ۔
6۔۔۔امام بخاری کی تشریف آوری پر امام بغداد فرمانے لگے
الیوم دخل سید الفقہاء۔ آج سید الفقہا تشریف لائے
7۔۔۔حضرت ابو عمار حضرت امام بخاری کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
لا اعلم انی رأیت مثلہ کانہ لم یخلق الاللحدیث
میں نے ان جیسا عالم نہیں دیکھا معلوم ہوتا ہے اللہ نے انہیں پیدا ہی خدمت حدیث کے لئے کیاتھا۔
8۔۔۔حضرت محمد بن بشار فرماتے ہیں
لم یدخل البصرۃ رجل اعلم بالحدیث من اخینا ابی عبداللہ
بصرہ میں امام بخاری سے بڑے حدیث کے عالم نہیں آئے
9۔۔۔حضرت قتیبہ بن سعید فرماتے ہیں۔
نظرت فی الحدیث ونظرت فی الرأی وجالست الفقہا والزہاد والعباد مارأیت منذعقلت مثل محمد بن اسماعیل
میں نے محدثین وفقہا اور اولیاء اللہ میں نظر ڈالی ہے مگر امام بخاری سے بڑ ا آدمی نہیں دیکھا۔
ان مشائخ وبزرگان دین نے اپنے اپنے دور کے مطابق اور اپنی معلومات کے مطابق بڑے احسن انداز میں حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو خراج تحسین پیش فرمایاہے ۔
J۔۔۔آخر میں علامہ جرجانی کی بات نقل کرتا ہوں۔
فرماتے ہیں میں نے عبدالواحد بن آدم الطواویسی سے سنا فرماتے تھے میں نے خواب میں حضرت پاک ا کومع اصحاب دیکھا وہ ایک جگہ پر منتظر کھڑے ہیں میں نے گذارش کی ماوقوفک یارسو ل اللہ قال انتظر محمد بن اسماعیل البخاری حضرت ا کیوں کھڑے ہو ؟آپ ا نے فرمایا محمد بن اسماعیل بخاری کی انتظار ہے
شیخ عبدالواحد بن آدم فرماتے ہیں کچھ دن بعد اما م بخاری کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی میں نے حساب لگایا تو قدمات فی الساعۃ التی رأیت النبی ﷺ فیھا
[سیر اعلام النبلاء جلد[۳]
مگر افسوس صدافسوس
ہمارے وطن عزیز مملکت خدا داد پاکستا ن میں گذشتہ دنوں ایک کتاب بنام قرآن مقدس اور بخاری محدث شائع ہوئی(جس کے مؤلف احمد سعید ملتانی ہیں اور ناشر محمد منظور معاویہ خادم مرکزی اشاعت التوحید والسنۃ لکھا ہوا ہے )
اس کتاب میں دل کھول کر امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ ، رواۃ بخاری رحمہم اللہ اور احادیث بخاری پر بازاری زبان، آوارہ قلم، بے ہودہ طرز تحریر سے جارحانہ، ظالمانہ ،بے رحمانہ حملے کئے گئے ۔ ملاحظہ فرماویں
امام بخاری کے خلاف
{1}۔۔۔بخاری ضعیف فی الحدیث اور متعصب ہے ۔
قرآن مقدس اور بخاری محدث۔۔۔ صفحہ [۱]
{2} ۔۔۔غالباً امام بخاری کو تعصب نے اپنے اساتذہ اور شاگردوں سے الگ اور اکیلا کردیا ۔۔۔۔ صفحہ [۲]
{3}۔۔۔ان کی روایات قرآن کے خلاف واقع ہوئی ہیں۔۔۔ دوسرے محدثین کی ہزاروں غلطیوں پر بھی ایک غلطی امام بخاری کی بھاری ہے۔۔۔۔ صفحہ[۴]
{4}۔۔۔اب دیکھوایسی غلطی کسی دوسرے محدث نے کی ان کی ہزارہا غلطیوں پر بھی ان کی ایک غلطی بھاری ہے ۔۔۔۔ صفحہ[۴]
{5} ۔۔۔امام بخاری جس طرح سب سے بڑا سرتاج محدثین ہے ان کی غلطی بھی ہوگی تو تمام غلطیوں کی سرتاج ہوگی۔ ۔۔۔ صفحہ [۴]
{6}۔۔۔اس قدر قرآن کے مفہوم میں بصیرت حاصل کرنے کی سعی مشکور نہ فرمائی ۔ ۔۔۔ صفحہ [۶]
{7} ۔۔۔ہاں یہ کہنا کہ جس روایت کو امام بخاری پاس کردیں بس وہ پل سے پار ہوگئی تو یہ صریح غلط ہے۔ ۔۔۔ صفحہ [۷]
{8}۔۔۔ہم امام بخاری پریہی الزام لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے روات کی بات کو قرآن پر پرکھنے کی کوشش بہت ہی کم کی ہے۔
صفحہ [۸]
{9} ۔۔۔امام بخاری نے جب اپنی کتاب کا نام رکھا الجامع المسند الصحیح تو پھر ان کی کتاب میں باطل روایات غیر مسند غیر صحیح۔۔۔۔۔۔روایات کیوں پائی جاتی ہیں۔ ۔۔۔ صفحہ[۹]
{10}۔۔۔امام بخاری نے صریحا قرآن کی نص قطعی کے خلاف مردہ کے جنازہ پر بولنے اور مردہ کے سننے کی جھوٹی روایت پیش کی۔ ۔۔۔ صفحہ [۱۱]
{11} ۔۔۔چنانچہ جس محدث کی نظر صرف جمع روایات پر تھی ان کی کتب میں قرآنی بصیرت بہت ہی کم ہے۔ صفحہ [۱۲]
{12} ۔۔۔امام بخاری چونکہ روایت کے پرستار تھے قرآنی بصیرت سے خالی آدمی امام اعظم کو خداع نہ کہے تو اور کیا کہے ۔۔۔۔ صفحہ [۱۲]
{13}۔۔۔نہ بخاری کو قرآن کا علم نہ انکے امام زہری کو علم نہ امام بخاری کو آپ اکی حیثیت نبویہ کا پاس نہ زہری ایسے بکواسی آدمی کو ۔۔۔ صفحہ[ ۱۴]
{14}۔۔۔امام بخاری جس نے جھانسہ تو دیا تھا کہ میری کتاب مسند ہے لیکن زہری ایسے بکواسی کی مرسل روایت ۔۔۔۔۔۔صفحہ[ ۱۴]
{15}۔۔۔کیا امام بخاری کا تدین ہے یا لعنتی راویوں کی کاٹاگر ی کیا امام بخاری اس جرم سے بری ہوسکتے ہیں اگر لعنتی راویوں نے بکواس تیار کیا ہے تو امام بخاری اتنا بے بصیرت تھا کہ ان کو کچھ بھی نہ سوجھا کہ میں اس خرافت کو کیسے درج کتاب کررہاہوں۔۔۔ صفحہ[ ۱۵]
{16} ۔۔۔قرآن کے قطعا مخالف امام بخاری نے بذریعہ ہشام کذاب مدلس آپ ا پر شرک وکفر کا اثر ماننا ثابت کیا ہے۔
صفحہ [۱۷]
{17}۔۔۔جناب بخاری کو عصمت نبویہ کا خیال نہیں آیاصفحہ [۱۷]
{18} ۔۔۔کاش بخاری کو قرآن کی بصیرت اور رسول اللہ ا کی سیرت پر عبور حاصل ہوتا۔۔۔ صفحہ [۱۸]
{19}۔۔۔ بخاری محدث رب کی تو ہین صفحہ۔۔۔ [۱۹]
{20}۔۔۔امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری کتاب الرقاق صفحہ [۹۶۳] پر بڑے جذبات کے ساتھ یہودونصاری کے مذہب کی ترجمانی کر کے قرآن سے بغاوت اور خود اللہ کریم سے بغاوت کی روایت ٹانک دی ہے۔
{21}۔۔۔ قرآن میں عدم بصیرت کی وجہ سے ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو امام بخاری نے اللہ کا وعدہ بنادیا۔۔۔ صفحہ [۲۴]
{22}۔۔۔ آپ نے شاید کبھی قرآنی بصیرت کا خیال تک نہیں فرمایا۔ صفحہ[۲۵]
{23}۔۔۔ لیکن شومی قسمت کہ اسناد کے چکر میں پڑنے اور مفہوم قرآن کو مہجور کرنے والے روات نے امام بخاری کو بھی ایسا الجھادیا کہ نہ ان کو قرآن کی تصریح سے آگاہی ہوئی نہ سیرت نبویہ کا پاس آیا نہ صحابہ کرام کی پاک طینت کو سوچا۔۔۔۔ صفحہ [۲۷]
{24}۔۔۔لیکن اللہ معاف فرمائے امام بخاری بے حیا راویوں پر اعتماد کلی کرکے رسول اللہ ا پر یہ جھوٹ بھی جڑ دیتے ہیں صفحہ [۳۱]
{25}۔۔۔لیکن امام بخاری روایت درج کتاب کرتے ہوئے شاید غیر شعوری حالت میں تھے ۔۔۔۔ صفحہ [۳۲]
{26}۔۔۔اما م بخاری کا اصل مشن روایات کا ڈھیر لگانا ہے قران میں بصیرت حاصل کرنا یا قرآن کو مقدم رکھنا ان کے زاویہ خیال میں بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ صفحہ [۳۴]
{27}۔۔۔تعجب تو بخاری پر ہے کہ انہوں نے من وعن بے چوں وچرا صحابہ کرام کی حیثیت عرفیہ کو داغدار کرنے والوں اور لعنتی راویوں کے سینہ بسینہ ہوکر قرآن سے اتنی بے اعتنائی برتی کہ اہل رفض کے چھپے انداز میں ہمنوا بن جانے کا خیال بھی نہ کیا۔۔۔ صفحہ [۳۸]
{28}۔۔۔ لیکن بخاری صاحب جن کی نظر صرف روایات کے کثیر ڈھیر کی طرف تھی قرآن سے صرف نظر کرتے ہوئے کسی لعنتی راوی کی ایچ میں آکر صحابی رسول کے متھے جھوٹ کا ٹکہ لگاتے ہیں۔
صفحہ [۳۹]
{29}۔۔۔ لیکن بخاری محدث نے بڑے زور سے ایک جھوٹی روایت قرآن کے صریح خلاف نقل کردی ہے۔۔۔ صفحہ [۴۱]
{30}۔۔۔ بخاری کا مطمع نظر صرف روایات جمع کرنا تھا قرآنی بصیرت ان کا مشغلہ نہ تھا ۔۔۔ صفحہ [۴۲]
{31}۔۔۔ یہ حال ہے امیر المؤمنین فی الحدیث کا جو قرآن کے صریح خلاف روایت درج کرکے مشرکین کو نواز دیتے ہیں۔
صفحہ [۴۴]
{32}۔۔۔ امام بخاری اب غیر شعوری یا بے اعتنائی کے طور پر فرماتے ہیں اور روافض کے مذہب کی ریس میں کہتے ہیں صفحہ [۴۶]
{33}۔۔۔ امام بخاری کو قرآن فہمی کی داد دیجیئے ۔۔۔۔۔۔یہاں تک یاوہ گوئی کرجاتے ہیں ۔۔۔ صفحہ [۴۸]
{34}۔۔۔کسی لعنتی راوی کی گپ شپ پر کلی اعتماد کرنااورالفاظ قرآن کو پس پشت ڈال دینا کیا اسی کا نام امیر المحدثین ہوتا ہے صفحہ [۵۰]
{35}۔۔۔پھر ایسی خرافت درج کتاب کرنے والاایسی وعید سے کس طرح بچ سکے گا ۔۔۔ صفحہ [۵۲]
{36}۔۔۔ بخاری محدث عورت کی دبر زنی ۔لیکن بخاری صاحب اتنابڑا کفری نظریہ بے دھڑک ہو کر ایک جلیل القدر صحابی کے معصوم العمل ماتھے پر جڑ دیتے ہیں ۔۔۔ صفحہ [۵۲]
{37}۔۔۔لیکن امام بخاری صحابہ کرام کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے ۔۔۔ صفحہ [۵۴]
{38}۔۔۔بخاری محدث نبی پر افتراء ۔۔۔ صفحہ [۵۶]
{39}۔۔۔لیکن امام بخاری صاحب اپنی روایت کے ذریعہ آپ ا کا نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی کھیل کھیلنا ثابت کرتے ہیں ۔
صفحہ [۵۷]
{40}۔۔۔بخاری محدث نبی پر جھوٹ ۔۔۔ صفحہ [۶۴]
{41}۔۔۔ یہ امام بخاری کی بے نظری اور حلا ل وحرام کی حقیقت سے ناواقفی اور اس سے بے پرواہی کی دلیل تو نہ بنے گی صفحہ [۶۵]
{42}۔۔۔ بخاری محدث صحابہ پر بدعت کا فتوی صفحہ ۔۔۔ [۶۶]
{43}۔۔۔ یہ ہے محدثین کا حال جو قرآن میں بھی اختلاف ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔۔۔ صفحہ [۸۶]
{44}۔۔۔ لیکن امام بخاری قانون اور قاعدہ کے صریح خلاف ۔۔۔ فرماتے ہیں ۔۔۔ صفحہ [۹۳]
{45}۔۔۔امام بخاری کا باب باندھنا ہی صاف جھوٹ ہوا
صفحہ [۹۴]
{46}۔۔۔ امام بخاری کی خیانت یا بھول چوک ۔۔۔ صفحہ [۹۶]
{47}۔۔۔ مسلکی تعصب یہاں تک ایک محدث جلیل کولے گیا کہ حدیث کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ۔۔۔ صفحہ [۹۸]
{48}۔۔۔ لیکن اخباری آدمی کا مطمع نظر چونکہ روایات جمع کرنا ہوتا ہے قرآن پا ک کی بصیرت حاصل کرنا ان کا شغل نہیں ہوتا اسی لیے امام بخاری نے بڑے وثوق کے ساتھ ایک روایت درج کتا ب کرکے۔۔۔۔۔۔ صفحہ [۱۰۱]
{49}۔۔۔ لیکن بخاری محدث نہ تو قرآن مقدس کی نصوص کی پرواہ کرتے ہیں ۔۔۔ صفحہ [۱۰۸]
{50}۔۔۔ آپ دیکھیں کہ امام بخاری نے ابن جریج کے طریق سے آیت کی جو درگت بنائی ہے ملاحظہ کریں۔۔۔ صفحہ [۱۱۳]
واجب الاحترام ناظرین:۔
ان عبارات کے نقل کرنے میں ہم نے کسی قسم کا مبالغہ نہیں کیا بلکہ من وعن نقل کیا ہے۔ اب آپ فرماویں امت کے جید علماء ،اہل فن جس شخصیت کو اسلام کا فخر اور امیر المؤمنین فی الحدیث کہیں اس شخص نے اسے مطعون کرنے میں کونسی کمی چھوڑی؟ جبکہ علماء کا یہ حال ہے
1 ۔۔۔عالم شہیر الامام عبداللہ بن حماد فرماتے ہیں
وددت انی شعرۃ فی صدر محمد بن اسماعیل
کاش میں امام بخاری کے سینہ کا بال ہوتا
یعنی جس سینہ میں حدیث کا خزینہ ہے میں اسی پر اگنے والا بال ہوتا۔
2۔۔۔خطیب نے اپنی سند سے امام فربری سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں۔
رأیت النبی ﷺ فی النوم فقال لی این ترید فقلت ارید محمد بن اسماعیل البخاری فقال اقرأہ منی السلام
میں نے خواب میں حضرت پاک ا کی زیارت کی آپ نے فرمایا کہاں کا ارادہ ہے میں نے عرض کی امام بخاری کی خدمت جانا ہے آپ ا نے فرمایا۔ انہیں میرے سلام کہنا
3 ۔۔۔سبح بن سعید فرماتے ہیں
کان محمد بن اسماعیل یختم فی رمضان فی النہار کل یوم ختمۃ ویقوم بعد التراویح کل ثلاث لیال بختمۃ
امام بخاری رمضان المبارک کے دنوں میں روزانہ ختم کلام پاک فرماتے تھے اور تراویح کے بعد تین راتوں میں ختم قرآن مجید فرماتے
[سیر اعلام النبلاء]
سچ ہے
ع قدرزر زرگر بداند قدر جوہر جوہری
رواۃ بخاری کے خلاف
{1}۔۔۔ کتا ب میں لعنتی راویوں کی بھر مار ہوگئی۔
قرآن مقد س اور بخاری محدث صفحہ [۶]
{2}۔۔۔لعنتی راویوں نے اسٹر گھسٹر کرکے کتاب کی قدر وقیمت گھٹا کے رکھ دی ۔۔۔ صفحہ [۶]
{3}۔۔۔بعض راوی جو رافضی شیعہ تھے انہوں نے تقیہ کرکے بخاری کو اپنے اعتماد میں لے لیا ۔۔۔۔۔۔مسودہ میں لعنتی راویوں نے دسیسہ کاری کی ۔۔۔ صفحہ [۹]
{4} ۔۔۔بہر کیف لعنتی راوی امام بخاری کے لئے مارآستین ثابت ہوئے ۔۔۔ صفحہ [۱۰]
{5}۔۔۔کیا یہ امام بخاری کا تدین ہے یا لعنتی راویوں کی کاٹا گری ہے ۔۔۔ صفحہ [۱۵]
{6}۔۔۔بذریعہ ہشام کذاب مدلس ۔۔۔۔۔۔ صفحہ [۱۷]
{7} ۔۔۔جناب بخاری ۔۔۔۔۔۔لعنتی راویوں سے اتنے مرعوب ہوئے ۔۔۔ صفحہ [۱۷]
{8}۔۔۔ انہوں نے لعنتی راویوں پر اعتماد کلی کرکے ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ صفحہ[۲۲]
{9} ۔۔۔لعنتی راویوں پر اعتماد کلی کرکے اپنی اماں کو بھی امام بخاری بدنام اور خائن کہہ گئے۔۔۔ صفحہ [۲۳]
{10}۔۔۔مگر براہو لعنتی راویوں کا۔۔۔ صفحہ [۲۴]
{11}۔۔۔ورنہ لعنتی راویوں نے امام بخاری کو یوں اعتماد میں لے لیا تھا ۔۔۔ صفحہ [۲۵]
{12}۔۔۔یہ مغالطہ خود بخاری کو لعنتی راویوں کی طرف سے ہوا
۔۔۔ صفحہ [۲۹]
{13}۔۔۔ امام بخاری بے حیاء راویوں پر اعتماد کلی کرکے رسول اللہ پر یہ جھوٹ بھی جڑ دیتے ہیں ۔۔۔ صفحہ [۳۱]
{14}۔۔۔امام بخاری کا استاد زہری ۔۔۔۔۔۔جو اکثر علماء اسلام کی تحقیق میں عموماًاور اہل تشیع علماء کے نزدیک خصوصاً شیعہ پھکڑ با زبھی ہے۔ ۔۔۔ صفحہ [۳۴]
{15}۔۔۔لعنتی راویوں کے سینہ بسینہ ہو کر قرآن سے اتنی بے اعتنائی برتی۔۔۔ صفحہ [۳۸]
{16}۔۔۔ کسی لعنتی کی ایچ میں آکر۔۔۔۔۔۔ صفحہ [۳۹]
{17}۔۔۔ اور لعنتی راویوں کے برتے پر یہ اتہام بھی رسول اللہ ا پر لگاتے ہیں ۔۔۔ صفحہ [۴۵]
{18}۔۔۔ کسی لعنتی راوی کی گپ شپ پر کلی اعتماد ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ صفحہ [۵۰]
{19}۔۔۔ کیا ایسے فعل بد کو ذکر کرنے والے رواۃ لعنتی نہ ہونگے۔۔۔۔ صفحہ [۵۳]
{20}۔۔۔ کسی بے دین راوی پر اعتماد کرکے یوں لکھتے ہیں
صفحہ [۵۵]
{21}۔۔۔ لعنت ہو کینہ ور بدکردار راویوں پر۔۔۔ صفحہ [۵۹]
{22}۔۔۔ کسی شرارتی راوی کی روایت کے سبب امام بخاری باب باندھتے ہیں ۔۔۔ صفحہ [۵۹]
{23}۔۔۔ جن باتوں کو کذاب راوی نے جھوٹ کہا وہ قطعاًسچ ہے ۔۔۔ لیکن بددماغ روات کا چونکہ وطیرہ ہی جھوٹ ہے صفحہ [۶۲۔۶۳]
صفحہ ۶۳
{25}۔۔۔لیکن بر اہو لعنتی راویوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔صفحہ [۶۸]
{26}۔۔۔ لیکن امام بخاری بے حیاراوی ابوحاذم کے ذریعہ۔
صفحہ [۶۹]
{27}۔۔۔لیکن بخاری نے لعنتی راویوں پراعتمادکرکے۔ صفحہ ۱ ۷
{28}۔۔۔ جیسا کہ کذاب راویوں نے کہا۔۔۔ صفحہ [۷۳]
{29}۔۔۔ امام بخاری زہری ایسے باتونی اور پھکڑ باز رفض نوا ۔۔۔صفحہ [۷۵]
{30}۔۔۔ بقول لعنتی راوی ۔۔۔صفحہ [۷۶]
{31} ۔۔۔ یہ ساری داستان ہی جھوٹی بنائی لعنتی راویوں نے۔
صفحہ [۱۰۲]
قارئین ذی وقار :۔
امت کے اس شریف نے خوب صلہ دیا ان محدثین عظام کو جن کی محنت سے احادیث نبویہ ا امام بخاری تک پہنچیں اور آگے چلتے چلاتے اس نور سے آج تک مدارس منور ہورہے ہیں۔
خطیب پاکستان حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ فرمایا کرتے تھے جتنا کسی چیز کی آمد ہوتی ہے اتنا ہی نکاس ہوتا ہے ۔خدا ہی بہتر جانے کتنی بے شمار ۔۔۔برس رہی ہیں اس شخص پر جو کہ ایک ایک جملہ مکمل ہونے پر لعنت لعنت کرتا ہے۔
آسمان پر تھوکا ہوا منہ پر آتا ہے یہ لوگ خدمت قرآن وسنت کے سبب بلندیوں کی اس انتہا کو پہنچ چکے ہیں جس کی رفعت خداہی بہتر جانتا ہے۔ مگر سوچنے کی بات ہے رواۃ حدیث سے اتنی چڑ ہے کیوں؟
میری ناقص عقل کے مطابق چونکہ اصل چڑ دین اسلام ، حدیث رسول اور خداکے قرآن سے ہے، اگر بلاواسطہ برملا صراحۃً قرآن وحدیث پر قلم اٹھاتا (کمی تو اب بھی کوئی نہیں چھوڑی ) تو مسلمان لوگ بہت جلد اس سے متنفر ہوجاتے کیونکہ ادنی سے ادنی مسلمان کے دل میں بھی دین اسلام کی محبت وعقیدت موجود ہے تو اس نے اپنے پیش رؤں(دشمنان اسلام) کے طریقہ پر چلتے ہوئے ناقلین شریعت او ر راویان دین پر اعتراضات کرکے امت کو ان سے بد دل کرنے کی کوشش کی۔
کیونکہ جب راوی پراعتماد نہ رہے گا تو روایت سے اعتماد خود بخود اٹھ جائے گا۔ناقلین دین پر اعتماد نہ رہے گا، دین سے خود بخود اعتماد اٹھ جائے گا مگر
نورخد اہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
ہوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہر ہ علی الدین کلہ ولوکرہ الکافرون
چند رواۃ پر جرح اور جواب
الامہ نے عمومی طور پر بغیر نام لئے لعنتی راوی کی رٹ لگائی اگر نام ذکرکرتا اور جرح نقل کرتا تو ہم بھی اس کا تفصیلی جواب گذارش کرتے البتہ جن چند راویوں کا نام لے کر سب وشتم کیا گیا ان کی توثیق نقل کردیتے ہیں تاکہ آپ بھی اس کے مبلغ علم سے واقف ہوجائیں ۔
{1}امام المحدثین ابوبکر محمد بن مسلم الزھری
جنہیں بے رحم قلم نے صفحہ[۳۴]پر شیعہ اور پھکڑباز لکھا
آپ رواۃ حدیث میں مرکزی شخصیت ہیں
1۔۔۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں
احسن الناس حدیثاً واجود الناس اسناداً
2 ۔۔۔امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں
بقی ابن شہاب ومالہ فی الناس نظیر
3۔۔۔ حضرت مکحول رحمہ اللہ سے تین مرتبہ پوچھا گیا
من اعلم من لقیت آپ نے تینوں مرتبہ فرمایا ابن شہاب
4 ۔۔۔حضرت عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
علیکم بابن شہاب ہذا فانکم لا تلقون احداًاعلم بالسنۃ الماضیۃ منہ ۔
]سیر اعلام النبلاء جلد[۳]صفحہ [۳۷۰۳]
5۔۔۔علامہ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
الامام العلم حافظ زمانہ ابوبکر القرشی الزھری
6۔۔۔قال النسائی رحمہ اللہ
احسن اسانید تروی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اربعۃ 1 الزھری عن علی بن الحسین عن ابیہ عن جدہ 2الزھری عن عبیداللہ عن ا بن عباس
تہذیب التہذیب جلد[۹] صفحہ [۳۸۶]
7۔۔۔ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
احد ائمۃ الاعلام وعالم الحجاز والشام
8۔۔۔میزان الاعتدال جلد[۶]صفحہ [۳۳۵]پر مرقوم ہے
الحافظ الحجۃ
ناظرین مکرم :۔
جس شخصیت کی مدح وتوصیف میں تتمہ خلافت راشدہ حضرت عمر بن عبدالعزیز، امام احمد بن حنبل اور امام مالک جیسے اکابر رطب اللسان ہوں ان کے خلاف یتیم فی العلم والاخلاق الامہ صاحب کی گالی گلوچ سے کیا بنتا ہے؟
{2} حضرت ہشام بن عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہم
یہ مشہور تابعی اور سیدہ طیبہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے بھانجے حضرت عروہ Z کے صاحبزادہ ہیں۔ جن کے متعلق الامہ نے کذاب لکھا ہے۔
کہتی ہے تجھے خلق خدا غائبانہ کیا
1 ۔۔۔ابن سعد فرماتے ہیں۔
کان ثقۃ ثبتاً کثیر الحدیث حجۃ
2 ۔۔۔ابو حاتم فرماتے ہیں
ثقۃ امام فی الحدیث
3 ۔۔۔ذکرہ ابن حبان فی الثقات
وقال کان متقناًورعاًفاضلا حافظاً۔
تہذیب التہذیب جلد[۱۱]صفحہ۴۶]
4۔۔۔ علامہ ذہبی فرماتے ہیں۔
احد الاعلام حجۃ امام ۔
میزان الاعتدال جلد[۷] صفحہ [۸۵]
{3}ابوحازم سلمہ بن دینار رحمہ اللہ
جن کے متعلق الامہ صاحب نے صفحہ [۶۹] پر بے حیا لکھا ہے۔
آپ تابعی ہیں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیار ت کے شرف سے مشرف ہیں ۔
1 ۔۔۔امام احمد ابو حاتم، امام عجلی اورامام نسائی فرماتے ہیں
ثقۃ ,ثقہ ہیں
2 ۔۔۔امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں۔
ثقۃ لم یکن فی زمانہ مثلہ
3۔۔۔ابن سعد فرماتے ہیں۔
کان یقضی فی مسجد المدینۃ۔۔۔۔۔۔کا ن ثقۃ کثیرالحدیث
4۔۔۔ابن حبان فرماتے ہیں۔
کان قاضی اہل المدینۃ ومن عباد ہم وزھادہم ۔
تھذیب التہذیب جلد [۴ ] صفحہ [۱۳۰]
5۔۔۔ علامہ ذہبی فرماتے ہیں۔
الامام القدوۃ الواعظ شیخ المدینۃ المنورۃ
6 ۔۔۔
وثقہ ابن معین واحمد وابو حاتم وقال ابن خزیمہ ثقۃ لم یکن فی زمانہ مثلہ:سیر اعلام النبلاء جلد[۲]
اتنی توثیق کے بعد(کہ وہ مسجد نبوی ﷺ کے قاضی ہوں ،جن کاشمار مدینہ کے زہاد وعباد میں سے ہو) دل میں کسی قسم کی خلش باقی نہیں رہتی ایک تابعی کو ، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد کو بے حیاکہنا بہت بڑی جسارت ہے جس پر مواخذہ خالق کائنات خودہی فرمائنیگے۔
واجب الاحترام دوستو:۔
یہ ہیں خیرالقرون کی وہ شخصیات جن کے علم تقوی زہد کا زمانہ گواہ ہے اور جن پر امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو اعتماد ہے مگر حضرت خفاہیں میں عرض کروں گا
یو ں نظر دوڑے نہ برچھی تان کر
اپنا بیگانہ ذرا پہچان کر
الجامع الصحیح بخاری شریف کے خلاف
1۔۔۔ بخاری میں کتنی زبردست غلطیاں ہیں قرآن مقدس کے خلاف کتنے ریمارکس ہیں عزت وحیثیت نبویہ پر کتنے اہانت آمیز فقرے ہیں اصحاب النبی پر کس قدربہتانات ہیں پھربخاری صاحب کی کتاب اصح الکتب کی بجائے صحیح الکتب بھی نہیں کہی جاسکتی۔ ۔۔۔صفحہ [۳]
2۔۔۔یہی وجہ ہے کہ کتاب میں باطل قسم کی روایات کی بھر مارہے ۔
صفحہ [۶]
3۔۔۔یاو ہ لوگ جو کلی طور پر بخاری شریف کو صحیح اور بے غبار جانتے ہیں وہ یاتو قرآن مقدس پر ایمان نہیں رکھتے یا پھر اتنے اجہل ہیں جو لایعلمون الکتاب الاامانی [الایۃ ]کا مصداق ہیں صفحہ [۸]
4 ۔۔۔لیکن بخاری محدث کسی اندر کے روگی راوی پر کلی اعتماد کرکے اپنی کتاب میں یہ ٹانک رہے ہیں صفحہ [۳۷]
5 ۔۔۔امام بخاری ایک قصہ نقل کرتے ہیں جو غالباًکسی یہودی النسل کا بتایا ہوا ہے۔صفحہ [۸۱]
6 ۔۔۔اگرچہ من کل الوجوہ بخاری کو اصح کہنا تو درکنارصحیح کہنا بھی مشکل ہے ۔صفحہ [۱۱۴]
میرے دوستو:۔
بخاری اور رواۃبخاری کے متعلق الامہ احمد سعید کی آپ نے سن لی، پڑھ لی آئیے ذرا علماء کرام کی بھی سنتے ہیں ۔
1۔۔۔علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
اتفق علماء الشرق والغرب علی انہ لیس بعد کتاب اللہ تعالیٰ اصح من صحیحی البخاری ومسلم ۔۔۔والجمہور علی ترجیح البخاری علی مسلم۔
عمدۃ القاری جلد [۱]صفحہ [۲۴]
مشرق ومغرب کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کے قرآن کے بعد صحیح بخاری ومسلم سے بڑھ کر صحیح کتاب کوئی نہیں جمہور علماء امت نے صحیح بخاری کو مسلم پر ترجیح دی ہے۔
2 ۔۔۔ابو الحسن المقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔
وقد کان ابوالحسن المقدسی یقول فی الرجل الذی یخرج عنہ فی الصحیح ہذا جاز القنطرۃ یعنی لا یلتفت الی ماقال فیہ ۔ارشادالساری جلد[۱]صفحہ [۳۹]
علامہ مقدسی فرماتے ہیں جس راوی کے متعلق یہ ثابت ہوجائے کہ اس سے صحیح بخاری میں تخریج حدیث کی گئی ہے تو پھر اس پرہونے والی کسی قیل وقال کا اعتبار نہیں۔
3۔۔۔جمہور علماء اسلام کا اتفاق ہے
واتفق الجمہور علی ان صحیح البخاری اصحہما صحیحاً واکثر ہما فوائد
اس پر جمہور علماء اسلام کا اتفاق ہے کہ بخاری ومسلم میں سے صحیح بخاری زیادہ اصح ہے ۔محدث سہارن پوری ۔بخاری صفحہ[۴]
4 ۔۔۔حجۃ الاسلام والمسلمین حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں۔
اماالصحیحان فقد اتفق المحدثون علی ان جمیع ما فیہما من المتصل المرفوع صحیح بالقطع وانہما متواتران الی مصنفیہما وانہ کل من یہون امرہما فہو مبتدع متبع غیر سبیل المؤمنین ۔
حجۃ اللہ البالغہ صفحہ [۱۳۴]
صحیح بخاری ومسلم کی تمام مرفوع متصل روایات قطعی طور پر صحیح ہیں اوردونوں کتب کی سند ان کے مصنفین تک متواتر ہے۔ نیز جوان کی توہین کرے گا وہ بدعتی ہے اورغیر مسلموں کی راہ اختیار کرنے والا ہے۔
بقول حضرت شاہ صاحب، موہن بخاری بدعتی ہے غیر مسلموں کی راہ کا راہی ہے۔ الامہ احمد سعید اور ان کے حواریوں کی خدمت میں اپیل کروں گا کچھ تو سوچو بخاری کی مخالفت میں کہاں جارہے ہو؟
ترسم کہ نرسی بکعبہ اے اعرابی
کیں راہ کہ تو میروی بتر کستان ست
فائدہ
امام بخاری کی صحیح بخاری شریف بلاشبہ باعتبار سند کے اصح ہے مگران کی تمام مرویات کامعمو ل بہ ہونا ضروری نہیں۔کیونکہ صحت سندوجوب عمل کی دلیل نہیں۔
آئیے اب چلتے ہیں اس کتاب کے تفصیلی تحقیقی علمی جائزہ کی طرف جس کے پڑھنے اور سننے کے آپ منتظرہیں۔ مگر پہلے
عالم اسلام کی عظیم دینی درسگاہ مرکز رشد منبع فیوض وبرکات
مدرسہ عالیہ دارالعلوم دیو بند شریف سے جاری ہونے والا فتوٰی
۱۴۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم
تتمہ ب
الجواب وباللہ التوفیق ۔حامداًومصلیاًومسلماً
قرآن مقدس اور بخاری محدث نامی کتاب دار الافتاء کو برائے اظہار رائے موصول ہوئی ،یہ کتاب احمد سعید خان صاحب ملتانی کی ہے ،یہ کتاب اور اس کے مرسلہ اقتباسات پڑھے ،یہ کتاب انتہائی گمراہ کن ہے جگہ جگہ اسمیں احادیث نبویہ کااستہزاء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کی تضحیک وتکذیب کی گئی ہے اور حضرت امام بخاری رحمہ اللہ ، صحیح بخاری کی رواۃ کی بر ائی کی آڑ میں احادیث کو قرآن کے مخالف اور عقل کے خلاف کہہ کرصحیح احادیث کا انکار کیا ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کو خلاف واقعہ ،غلط اور جھوٹا کہنا ،آپ پر الزام تراشی کرنا ،آپ کے کردار کو نازیبا الفا ظ میں پیش کرنا ،جگہ جگہ احادیث میں شک پیدا کرنا،انہیں خلاف حقیقت ظاہر کرنا ،اور ان کو بکواس بتانا مصنف کتاب کی گمراہی کی واضح دلیل ہے اور مصنف نے چالاکی یہ کی کہ براہ راست احادیث نبویہ کا انکار نہیں کیا بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ او ر ان کے راویوں پر سارا الزام رکھ کر احادیث کے مضامین کی تردید اور ان کا استہزاء کیا ہے ۔
علاوہ ازیں مصنف نے وہ چیزیں جو حواس خمسہ سے معلوم نہیں ہوسکتیں ، بلکہ وحی الہی سے معلوم ہوسکتی ہیں ،ان میں بھی حواس خمسہ کو دخل دیا ہے اور ہر جگہ عقلی گھوڑے دوڑائے ہیں ۔جس کی وجہ سے وہ صراط مستقیم سے ہٹ گئے ہیں ،اور ضلالت و گمراہی کے گڑھے میں ،اور بدعقیدگی کی دلدل میں پھنس گئے ہیں ۔مزید برآں مصنف میں ذخیرہ احادیث سے لاعلمی اور کج فہمی بھی پائی جاتی ہے
زبان غیر شائستہ اور سوقیانہ ہے بازاری الفاظ کا استعمال کیا ہے ۔ایسا شخص اہل السنۃ والجماعت سے خارج ہے ،خودبھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے ،وہ دیوبندیت سے اور اہل حق سے کوسوں دور ہے ،ایسے گمراہ شخص کو اپنے جلسوں میں دعوت دینا اور اس کی تقریر سننا ہرگز جائز نہیں ،مسلمانوں کو اس سے محتاط رہنا چاہیئے۔ فقط واللہ اعلم
کتبہ حبیب الرحمن عفااللہ عنہ ۔مفتی دارالعلوم دیوبند
یکم رجب ۱۴۲۹ ھ
ضروری وضاحت
دارالعلوم دیو بند شریف کے اس فتوٰی کے بعدتمام برادران اسلام اچھی طرح سمجھ لیں کہ احمدسعید ملتانی چتروڑی کااہل السنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی مسلک کے ساتھ کسی قسم کاکوئی تعلق نہیں ۔بایں وجہ اس کی یہ کتاب (قرآن مقدس اوربخاری محدث )کہیں کسی صورت میں بھی اہل السنۃ والجماعۃحنفی دیوبندی مسلک کے خلاف حجت نہ ہو گی۔
تعارض نمبر{1}
میں جناب الامہ احمدسعید نے جو کچھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ازروئے قرآن کریم خود کشی کفر ہے ۔کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے لا تا یئسوا من روح اللہ فانہ لا یا یئس من روح اللہ الا القوم الکفرون
[سورۃ یوسف]
مگراما م بخاری نے بخاری شریف جلد [۲] صفحہ[ ۱۰۳۳]کتاب التعبیر میں روایت نقل کی ہے جس میں مراراً کی یتردی من رؤس شواہق الجبالکے الفاظ ہیں۔ ان سے صاف واضح ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریم انے کئی مرتبہ خود کشی کرنے کا ارادہ فرمایا (نعوذ باللہ )
لہذا بخاری قرآن سے ٹکرانے کے سبب ناقابل اعتبار ٹھہری۔
J جواب L
افسوس :الامہ صاحب خود کشی اور خدافریفتگی میں فرق نہ کر سکے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے پہلے آیت کریمہ اور حدیث مبارکہ کا ضروری ترجمہ اورمتعلقات ذہن نشین فرمالیں تاکہ بات کا سمجھنا آسان ہوجائے ۔
آیت کریمہ:۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا اے بیٹوجاؤاور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی (بنیامین )کی اور ناامید مت ہو اللہ کے فیض سے بیشک ناامید نہیں ہوتے اللہ کے فیض سے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔
حدیث مبارکہ :۔
حضرت جبرائیل امین علیہ السلام آپ اکے پاس وحی الہی لاتے تھے بعدہکچھ دن وحی کا آنا بند ہوگیا حتی حزن النبیافترت وحی، غایت محنت فراق اورشدت اشتیاق کے سبب چاہاکہ پہاڑ کی چوٹی سے اپنے کو گرا دیں۔
ہوتا یہ کہ آپ اجب کسی پہاڑ کی چوٹی پر تکمیل خواہش کی غرض سے چڑھتے سیدنا جبرائیل امین حاضر خدمت ہوکر عرض کرتے یامحمد اانک رسول اللہ حقاً اے محمداآپ تو اللہ کے سچے رسول ہیں یہ سننے کے بعد آپ ا مطمئن ہوکر لوٹ آتے۔
ناظرین:۔
یہ ہے قرآنی آیت اور حدیث مبارکہ جس میں الامہ صاحب تعارض ثابت کرنے کی ناکام سعی کررہے ہیں ۔
جہاں تک آیت مقدسہ کاتعلق ہے آپ نے دیکھا اس کا ایک فیصد بھی خود کشی کے مسئلہ سے تعلق نہیں ۔کیونکہ نہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے خودکشی کی تھی نہ حضرت بنیامین نے اور جوکچھ حدیث مبارکہ میں ہے یہ محبت الہی میں محویت کی اس وجدانی کیفیت کا اظہار ہے، جس کو خاصان خدا ہی سمجھ سکتے ہیں۔
کہاں دنیوی گورکھ دھندوں سے تنگ دل لوگوں کا عزم خودکشی اور کہاں پیام یار کی خاطر پریشان حال نبی کی اضطرابی کیفیت ؟
میں سمجھتا ہوں الامہ صاحب حضرات انبیاء علیہم السلام کے تعلق مع اللہ سے ناآشنا ہیں جب ہی تو بازاری زبان استعمال کرتے ہوئے کیفیت نبوی اکو خودکشی سے تعبیر فرمارہے ہیں۔
خودکشی کی حقیقت
بھوک افلاس، قرض ومرض اور خوانگی پریشانیوں وغیرہ سے تنگ ہوکر از خود موت کے منہ میں جانے کو خود کشی کہتے ہیں،جو کہ واقعی مذموم ہے۔ ہاں اگر وحی الہی کے کچھ دن رک جانے سے نبوت پریشان ہوجائے اور شوق لقائے یار میں جان تک دینے کی سوچنے لگ جائے تواسے خودکشی نہیں کہا جائے گا بلکہ مقام فنا فی اللہ سے تعبیر کیا جائے گا۔
وتمنی الموت نحوذالک ممالاکراہۃ فیہ نعم یکرہ تمنیہ لضررنزل بہ من مرض اوفاقۃ اومحنۃ من عدواونحو ذالک من مشاق الدنیاء روح المعانی [ سورۃ مریم ]
ورنہ فرمائیے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا بغرض ذبح گردن جھکانا،سیدنایونس علیہ السلام کااپنے آپ کو دریا کے سپرد کرنااور پاؤں سے معذور صحابی رسول حضرت عمر وبن جموحZ کا ذوق شہادت اور شوق دیدار خدا لیے ہوئے میدان احد میں شریک ہونا (جن کو ظاہری اسباب میں موت سو فیصد سامنے نظر آرہی تھی ) بھی خودکشی کہلائے گا۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں
آپ کا بے باک قلم اور آداب تکلم سے عاری زبان جو کہتی رہے کہتی رہے ہمیں اس سے سروکار نہیں، اور آپ سے کچھ بعید نہیں ۔مگر اہل حق ان نفوس قدسیہ کے عمل کو خودکشی تو جائے خود اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے خدارا عقل کو معیار نہ بنائیے بلکہ ارشادات خدا ومصطفی ا کے سامنے سر تسلیم خم کیجیئے
دل نہ چاہے تو نبوت ؐ کا بھی ارشاد غلط
من کو بھا جائے تو بھانڈوں کے خرافات بجا
مسئلہ تمناموت
ولا یکرہ التمنی لخوف فساد فی دینہ ۔۔۔۔۔۔۔وقد افتی النووی انہ لایکرہ تمنی الموت لخوف فتنۃ دینہ بل قال انہ مندوب۔۔۔۔۔ویندب ایضاً تمنی الموت ببلد شریف
مرقاۃ جلد [۴ ]صفحہ [۳-۲]
اماازجہت محبت وشوق بلقائے الہی تعالیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آن نشان ایمان وکمال اوست وہم چنیں مکروہ نیست ازجہت خوف ضرردینی
اشعۃ اللمعات جلد [۱] صفحہ [۶۵۳]
واما ان کان التمنی شوقاً الی لقا ء اللہ تعالیٰ فذالک محمود ۔تفسیر مظہری[جلد ۱۔سورۃ البقرہ]
اگر موت کی تمنا میں ملاقات خداوندی کا شوق کار گر ہو تو فلا بأس بہ
بلکہ والتحقیق فی ذالک ان التمنی بالموت عند خوف المعصیۃ والتقصیر فی الطاعۃ جائز قطعا لا ریب فیہ ۔تفسیر مظہری[جلد ۱۔سورۃ البقرہ]
قول محقق یہ ہے اگر انسان کو گناہ میں زندگی گزرنے اور نیکی میں کوتاہی کا خوف ہو تو ایسی صورت میں موت کی تمنا جائز ہے ۔
مثلاً
1۔۔۔سیدنا یوسف علیہ السلام فرمارہے ہیں۔
توفنی مسلماًوالحقنی بالصالحین [سورۃ یوسف]
2۔۔۔ حضرت ا فرمارہے ہیں۔
اللہم رفیق الاعلٰی۔لوددت ان اقتل ثم احیٰ [الخ]
3۔۔۔حضرت مریم صدیقہ علیہاالسلام فرمارہی ہیں۔
یا لیتنی مت قبل ھذا وکنت نسیاً منسیاً [ سورۃ مریم ]
4 ۔۔۔سید ناعلی المرتضیZ فرماتے ہیں۔
یوم الجمل لیتنی مت قبل ھذا الیوم بعشرین سنۃ:
اللباب :جلد[۳ا]صفحہ [۴۱]
5 ۔۔۔سیدنا عمرZفرماتے تھے
یالیتنی لم اکن شیئاً : اللباب :جلد[۳ا]صفحہ [۴۱]
6 ۔۔۔سید نا بلال Zفرماتے ہیں ۔
لیت بلالاً لم تلدہ امہ :تفسیر کبیر [سورہ مریم]
ناظرین مکرم:۔
درج بالاقرآنی آیات ،نبوی ارشاد، آثاراصحاب رسول ا اور اقوال علماء کبار کی روشنی میں بات واضح ہوگئی کہ تمنا موت مطلقاً ممنوع نہیں ورنہ یہ خاصان خدا ہرگز اس قسم کی تمنا نہ فرماتے ۔
کیا خود کشی کفر ہے؟
الامہ صاحب بیچارے چونکہ اپنی عقل کو میزان بنا کر فیصلے صادر فرماتے ہیں تو یہاں بھی ان کو ٹھوکر لگی اور خودکشی کو کفر کہہ بیٹھے حالانکہ فقہ میں اس کی تصریح موجود ہے کہ خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ جائز ہے۔
من قتل نفسہ ولوعمداً یغسل ویصلی علیہ بہ یفتیٰ
(شامی جلد[۲]صفحہ[۲۱۱]خیر الفتاوی جلد[۳] صفحہ[۱۸۴]فتاوی دارالعلوم جلد[۵] صفحہ[۲۸۸]
اگر وہ کافر ہے تو غسل کیسا نمازجنازہ کیسی زیادہ سے زیادہ مرتکب کبیرہ ہوگا کافر نہیں ہوگا ۔خیر الفتاوی جلد[۳] صفحہ[۱۸۴]
EE
تعارض نمبر{2}
میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ازروئے قرآن مجید مؤمن مخلص پر جادو کا اثر ثابت نہیں ہوسکتا: لا یفلح الساحر حیث اتی: لا یفلح الساحرون :واللہ یعصمک من الناس: کو بطوردلیل پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں متعدد مقامات(صفحہ[۴۵۰۔۶۶۲۔۸۵۷۔وغیرہ) پر روایات نقل کی ہیں جن سے آنحضرت اپر جادو کا اثر ہوناثابت ہوتا ہے ۔بایں وجہ قرآن کریم سے بخاری متعارض ہوئی
J جواب L
کیا نبی پر جادو کا اثر ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اس بحث کو بیان کرنے سے پہلے دو چیزیں سمجھ لیں۔
1سحردر حقیقت اسباب طبعیہ کا اثرہوتا ہے اور انبیاء علیہم السلام اسباب طبعیہ کے اثرات سے متأثر ہوتے ہیں ۔مثلا بھوک پیاس لگنا ،مرض وشفاء کا لاحق ہونا
2نبوت ملنے سے طبعیت بشریہ من کل الوجوہ زائل نہیں ہوجاتی ۔
لا ن النبوۃ لا تزیل طباع البشریۃ کلہا :
فتح الباری :جلد[ ۱۶] صفحہ[ ۲۱۹]
یہ دوباتیں ذہن نشین کرلینے کے بعد اچھی طرح سمجھیں کہ جب انبیاء علیہم السلام ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں تو پھر ان کا بھی اسباب طبعیہ سے متأثر ہونا مقام نبوت کے منافی نہیں۔
انہیں بھوک بھی لگتی ہے ،پیاس بھی لگتی ہے ،مرض بھی لاحق ہوتا ہے ،شفاء بھی ہوتی ہے ،رنج والم بھی پہنچتا ہے ،فرحت و سرور بھی حاصل ہوتا ہے ،وقتی طور سحر کے اثر سے متأثر بھی ہوسکتے ہیں ،کیونکہ ان سب کا تعلق انسانی طبیعت سے ہے۔
مگر بایں ہمہ وحی الہی اور شریعت سے متعلق امور میں جادو وسحر کے اثر سے اللہ تعالی نے انبیاء کو محفوظ رکھا ہے اور انکی حفاظت فرمائی ہے۔
وعصمتہاوجمیع الانبیاء وصدقہم فیما یبلغونہ عن اللہ واما ماکان متعلقا بامور الدنیا فہم کسائر البشر تعتریہم الاعراض کا لصحۃ والسقم والنوم والیقظۃ والتالم بالسحر ونحوذالک
حاشیہ الصاوی علی تفسیر الجلالین: جلد [۶] صفحہ [۲۴۵۴]
فائد ہ
کبھی نہ بھولیں کہ قرآن کریم کی سورۃالفلق او رسورۃالناس حضور اکرم ا پر اس وقت نازل ہوئی تھیں جب آپ پر لبید بن اعصم نے سحر کیا تھا۔
یہی بات درج ذیل کتب میں مرقوم ہے
1۔۔۔ نزلت علی رسول اللہا حین سحرت الیہود :
اللباب فی علوم الکتاب :جلد [۲۰]صفحہ [۵۶۸]
2۔۔۔ان النبیاسحرہ یہودی ۔۔۔۔۔۔فانزل اللہ ھاتین السورتین :تفسیر قرطبی :
جلد [۲۰]صفحہ [۲۵۳]
3۔۔۔ فسحرہ فیھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فنزلت السورتان فیہ :
تفسیر بغوی :جلد [۴]صفحہ [۵۴۶]
4 ۔۔۔ان الذی تولی السحر لبیدبن الاعصم ۔۔۔فنزل جبرئیل بالمعوذتین :
روح المعانی جلد [۱۵]صفحہ [۳۲۶]
5 ۔۔۔قول جمہور المفسرین ان لبیدبن اعصم الیہودی سحر النبی ا۔۔۔۔۔۔فنزلت المعوذ تان لذلک ۔تفسیر کبیر: صفحہ [۱۸۷]جز [۳۲]
6 ۔۔۔فسحر وہ فیھا ۔۔۔۔۔۔فانزل اللہ ھاتین السورتین: شیخ زادہ: جلد [۸]صفحہ [۷۳۲]
7 ۔۔۔نزلت ھذہ السورۃ والتی بعد ہا لما سحر لبیدالیہودی جلالین شریف
8 ۔۔۔ان یہودیا سحرالنبی ا۔۔۔۔۔۔فنزلت معوذتین
تفسیر مظہری: جلد[۱۰]صفحہ [۳۷۶]
9 ۔۔۔فسحروہ فیھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فنزلت السورتان فیہ
تفسیر خازن :جلد[۷]صفحہ [۲۶۷]
J۔۔۔سحر النبی ارجل من یہود فاشتکی فاتاہ جبرئیل فنزل علیہ بالمعوذتین ۔
تفسیر درمنثور: جلد[۶]صفحہ [۴۱۷]
K ۔۔۔ان دونوں سورتوں کے نازل ہونے کا سبب یہ تھا کہ لبیدبن اعصم یہودی نے رسول اکرم اپرجادو کیا تھا :
تفسیر عزیزی[ پارہ عم]
L۔۔۔ جب نبی اپر جادو کیا گیا تھا تو جبرئیل علیہ السلام یہی دوسورتیں لے کر حاضر ہوئے :تفسیر محمد جونا گڑھی:
طبع سعودی عرب[صفحہ ۱۷۵۴]
M۔۔۔یہ سورت اور سورۃالناس جو اس کے بعد ہے اس وقت نازل ہوئی جبکہ لبیدبن اعصم یہودی او ر اس کی بیٹیوں نے حضور سید عالم اپر جادو کیا۔ خزائن الفرقان علی کنزالایمان: صفحہ [۱۰۹۸]
N ۔۔۔فی مجمع البیان سبب النزول قالواان لبیدبن اعصم الیہودی سحر النبی ا۔۔۔۔۔۔نزلت ھاتان السورتان۔
البرھان فی تفسیر القرآن: جلد[۴]صفحہ [۵۳۰]
ناظرین گرامی قدر:۔
یہ تمام مفسرین سنی ،شیعہ ،دیوبندی ،بریلوی، مقلد، غیرمقلد (اہلحدیث) اس بات کو تسلیم کررہے ہیں کہ حضرت اکی ذات بابرکات پر سحر کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دو سورتوں (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ) کو نازل فرمایا۔ نتیجۃًاثرات سحر زائل فرمائے۔
کیا یہ اپنے اپنے مسلک کے تمام اکابرین علوم قرآنی سے جاہل تھے،مقام نبوت سے نا آشناتھے ،مسئلہ نہ سمجھ سکے؟
نبی علیہ السلام کے سحر سے متأثر ہونے پرقرآنی آیات
ہوسکتا ہے آپ کے ذہن میں آئے کہ کیا قرآنی آیت اس پر پیش کی جاسکتی ہے کہ نبی علیہ السلام بھی سحر سے متأثر ہوسکتاہے؟ تولیجئے اٹھائیے کلام مجید سورۃ طہ [پارہ ۱۶] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔
فاذاحبالہم وعصیہم یخیل الیہ من سحر ہم انھا تسعی۔ اسی وقت ان کی رسیاں اورلاٹھیاں ان کے جادو کے سبب ان کے (موسی علیہ السلام )خیال میں آئیں دوڑ رہی ہیں
طرز استدلال :۔
بات بالکل واضح ہے ان جادوگروں کے جادو کے سبب حضرت موسی علیہ السلام کے خیال میں رسیاں لاٹھیاں دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں( ملخصاً)[معارف القرآن]
اگر حضرت پر اس کا اثر نہ مانا جائے تو یخیل الیہ من سحرہم انہا تسعی کا کیا مطلب ہوگا؟
بلکہ حضرت مفتی صاحب معارف القرآن جلد[۱]صفحہ [۲۷۸]پر رقم طراز ہیں۔
موسی علیہ السلام پر خوف طاری ہونا اسی جادو ہی کا تو اثر تھا۔تو قرآن کریم نے بھی وقتی طور پر جناب موسی علیہ السلام کی قوت متخیلہ کے متأثر ہونے کو تسلیم فرمایا ۔
اس قدر تفصیل سے امید کرتا ہوں مسئلہ سمجھ آچکا ہوگا کہ بتقاضاء بشریت انبیاء کرام علیہم السلام پر بھی سحر کا اثر ہوسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ وحی الہی اور شریعت کے امور میں نبی علیہ السلام کو محفوظ فرماتے ہیں ۔لہذا قرآنی آیات اور روایات بخاری میں کسی قسم کا کوئی تعارض نہیں ۔یار لوگوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے ۔ جہاں تک آیات (۱)لا یفلح الساحر حیث اتی (۲)لا یفلح السٰحرون(۳) واللہ یعصمک من الناس ) کا تعلق ہے تو
یاد رکھیئے :۔
ان میں سحر کے اثرات کی نفی نہیں کی گئی، زیر بحث مسئلہ سے انکا کوئی تعلق ہی نہیں ۔کیونکہ
آیت نمبر(۱)۔۔۔ میں بیان کیا گیا ہے کہ جادوگر معجزہ کے مقابلہ میں کبھی(انجام کار) کامیاب نہیں ہوتا [معارف القرآن ]
آیت نمبر(۲)۔۔۔میں جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ کہ جب جادو گروں کے مقابل سیدنا موسی علیہ السلام نے معجزہ پیش فرمایا تو وہ اسے بھی سحر کہنے لگے (قالواان ہذالسحرمبین )تو حضرت موسی علیہ السلام نے جواباً ارشاد فرمایا میرے معجزہ کو سحر(جادو)کہنے والو اگر میرا پیش کردہ معجزہ بھی جادو کی کرشمہ سازی ہوتی تو تمھارے مقابلہ میں مجھے کبھی کامیابی نصیب نہ ہوتی کیونکہ لا یفلح السٰحرون میر ا کامیاب ہونا تم سب کا عاجز آجانا اسکی کھلی دلیل ہے کہ میں نبی برحق ہوں جادوگر نہیں اور جو کچھ اللہ نے میرے ہاتھ پر ظاہر فرمایا ہے وہ جادو نہیں بلکہ من جانب اللہ برھان و دلیل ہے ۔
فرمایئے:۔اس آیت سے کہاں یہ ثابت ہورہا ہے کہ نبی پر وقتی طور پر اثرات سحر نہیں ہوسکتے یہاں تو معجزہ کے حق ،دلیل، برہان وحجت ہونے کو بیان کیا جارہا ہے
آیت نمبر(۳)۔۔۔ کے جواب کے لیے بجائے اس کے کہ میں خود کچھ عرض کروں چلتے ہیں مفسرین قرآن کی خدمت میں وہ کیا فرماتے ہیں ۔
1 ۔۔۔الامام ابی حفص عمر بن علی رحمہ اللہ متوفی ۸۸۰ ھ اپنی شہرہ آفاق تصنیف اللباب فی علوم الکتاب جلد[۲]صفحہ [۳۳۰] پر فرماتے ہیں
المراد بہ عصمۃ القلب والایمان لا عصمۃ الجسد عما یرد علیہ من الامور الحادثۃ الدنیویۃ فانہ علیہ السلام قد سحر وکسرت رباعیۃ و رمی علیہ الکرش والثرب وآذاہ جماعۃ من قریش
2۔۔۔علامہ زمخشری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔
المراد انہ یعصمہ من القتل:
الکشاف: جلد [۱] صفحہ [۶۹۲]
3۔۔۔امام جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں
لم یصل الیہ احد بقتل ولا قہر ولا اسر
احکام القرآن: جلد[۲] صفحہ[ ۶۳۰]
4۔۔۔ علامہ احمد بن محمد صاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔
المراد العصمۃ من القتل ۔
الصاوی: جلد[۱]صفحہ [۵۲۰]
5۔۔۔امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
ان المراد یعصمہ من القتل ۔
تفسیرکبیر:سورۃ مائدہ: صفحہ [۵۰]
6۔۔۔صاحب جلالین رحمہ اللہ فرماتے ہیں
واللہ یعصمک من الناس ان یقتلوک [سورۃ مائدہ ]
7 ۔۔۔امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
معناہ یعصمک من القتل ولا یصلون الی قتلک :
تفسیر بغوی جلد[۲]صفحہ [۵۲]
8۔۔۔ علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
والمراد بالعصمۃ من الناس حفظ روحہ علیہ الصلوٰۃ والسلام من القتل والا ہلاک
(روح المعانی: جلد[۴] صفحہ [۱۹۹]
9۔۔۔امام خازن رحمہ اللہ فرماتے ہیں
قلت المراد منہ انہ یعصمک من القتل ۔
تفسیرخازن: جلد[۲] صفحہ [۶۱]
J شیخ زادہ علی البیضاوی جلد [۳] صفحہ [۵۵۶]
المراد بعصمۃ عصمۃ من القتل بایدی الناس ۔
K۔۔۔ علامہ نسفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
یحفظک منہم قتلاً فلم یقدر علیہ :۔
تفسیر نسفی: جلد [۱]صفحہ [۲۲۷]
یہ تمام مفسرین کرام اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اس آیت میں وعدہ حفاظت سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاقتل سے محفو ظ رہنا ہے۔یعنی مشرکین مکہ ،کفار عرب ،منافقین مدینہ ،یہودو نصاری،لاکھ جتن کریں ،ہزار کوشش کریں ،مختلف حیلے بنائیں،اللہ فرماتے ہیں میں آپ کو کسی صورت بھی ان کے ہاتھوں قتل نہیں ہونے دوں گا۔اور کو ن نہیں جانتاقادر مطلق کایہ وعدہ بہر حال پوراہوا
فائدہ
جب اس آیت کی تفسیر ہی یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کفار ومشرکین کے ہاتھوں قتل نہیں ہونے دینگے بلکہ آپ کی حفاظت عن القتل کریں گے تووہ تمام واقعات جن میں آنحضرت اکا متأثر ہونا ثابت ہوتا ہے اس آیت قرآنی کے خلاف نہ ہونگے۔ مثلاً چہر ہ مبارک کاخون آلودہ ہونا ،پاؤں مبارک کا خون سے رنگین ہونا ،دانت مبارک کا شہید ہونا،مسموم بکری سے تکلیف پہنچنا ،سحر سے رنجیدہ ہونا ،بیمار ہونا وغیرہ۔
قرآن تو نہ سمجھے اس میں قصور کس کا
اپنی عقل پہ رو اپنا نصیب پیٹ
جادو وہ جو سرچڑ ھ کر بولے
آخر میں خود الامہ صاحب کے استاذ کی سنیئے شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان جواہر القرآن میں سورۃ الفلق کی تفسیر کرتے ہوئے من شر النفثٰت فی العقد کے تحت لکھتے ہیں۔
اس سے لبیدبن اعصم یہودی کی بیٹیاں مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ا پر جادو کیا تھا ۔
اسی مقام پر یہ بھی تحریر فرماتے ہیں۔
ان دونوں سورتوں کی اکثر تلاوت کیا کریں آپ پر جادو کا اثر نہیں رہے گا
خط کشید ہ الفاظ قابل توجہ ہیں اثر ہوا تھا جبہی تو زائل ہورہا ہے اگر حضرت پر اثر ہوا ہی نہیں تو اثر نہ رہے گا کا کیا معنی؟
میں ان کے مطلب کی کہہ رہاہوں زبان میری ہے بات انکی
میں انکی محفل سنوارتا ہوں چراغ میرا ہے رات انکی
ایک اہم مغالطہ
بعض احباب یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ سورتیں مکیہ ہیں اور سحر کا واقعہ مدینہ طیبہ میں ہوا لہذا ان سورتوں کا سحرسے تعلق نہیں حالانکہ یہ درست نہیں کیونکہ مفسرین نے دونوں قول کیے ہیں۔ مگر علامہ آلوسی بغدادی ؒ دونوں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ان سورکو مدنی کہنے والی ایک جماعت ہے
وہو الصحیح لان سبب نزولہا الیہود کما سیأتی انشاء اللہ تعالیٰ وہم انما سحروا علیہ الصلوٰۃ والسلام بالمد ینۃ کما جاء فی الصحاح فلا یلتفت لمن صحح کو نہا مکیۃ وکذا الکلام فی سورۃ الناس
روح المعانی جلد [۱۵]صفحہ [۳۲۱]
EE
تعارض نمبر{3}
میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ از روئے قرآن مجید اللہ کسی کا وجود بن جائے یا اللہ کسی میں حلول کرکے اس کے اعضاء بن جائے ۔یہ سب شرک اور کفر کی شکلیں ہیں مگر بخاری کہتا ہے کہ اللہ پاک بندے میں حلول کرکے اس کے اعضاء بن جاتا ہے ۔
کتاب الرقاق صفحہ [ ۹۶۳]
J جواب L
لعنۃ اللہ علی الکاذبین
ناظرین گرامی :۔
آپ بار بار اس صفحہ [۹۶۳] کا بغور مطالعہ فرماویں انشاء اللہ کہیں آپ کویہ نظر نہیں آئے گا کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرمارہے ہوں اللہ تعالیٰ بندہ میں حلول فرما جاتے ہیں۔
لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
البتہ الامہ جس روایت سے مغالطہ دینا چاہتا ہے ہم اس کا لفظی ترجمہ کرکے ضروری وضاحت کردیتے ہیں تاکہ مسلمان فتنہ سے محفوظ رہیں۔
حضرت ابوھریرہ Z فرماتے ہیں حضرت ا نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس کو یہ خبر کیے دیتا ہوں کہ میں اس سے لڑوں گا۔ میرا بندہ جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں کوئی عبادت مجھکو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ( یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں ) اور میرا بندہ نفل عبادت کرکے مجھ سے اتنا نزدیک ہوجاتاہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ۔پھر تویہ حال ہوتا ہے کہ میں ہی اس کا کان ہوتا ہوں‘ جس سے وہ سنتا ہے ‘اور اس کی آنکھ ہوتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے‘ اور اس کا ہاتھ ہوتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے‘ اور اس کا پاؤں ہوتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے‘ اگروہ مجھ سے مانگتاہے میں اس کو دیتا ہوں، وہ اگرمیری پناہ چاہتا ہے تواس کو محفوظ رکھتا ہوں۔
یہ ہے وہ روایت جس سے کفریہ عقیدہ حلو ل ثابت کرکے امیرالأومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے متعلق الامہ صاحب لکھتے ہیں
امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری کتاب الرقاق صفحہ[ ۹۶۳]پر بڑے جذبات کے ساتھ یہودو نصارٰی کے مذہب کی ترجمانی کرکے قرآن سے اور خود اللہ کریم سے بغاوت کی روایت ٹانک دی
میرے واجب الاحترام ناظرین :۔
کہاں کفریہ عقیدہ حلول ( کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کی ذات میں حلول کرتا ہے ) اور کہاں اولیاء اللہ کی یہ عظمت جو اس حدیث قدسی میں بیان کی جاری ہے۔
حدیث کا صحیح مفہوم:۔
صحیح مفہوم یہ ہے کہ جب بندہ میری عبادت میں مستغرق ہوکر مرتبہ محبوبیت کو پہنچتا ہے تو اس کے حواس ظاہر ی وباطنی بایں طور شریعت کے تابع ہوجاتے ہیں کہ وہ کان، آنکھ ،ہاتھ، اورپاؤں سے وہی عمل کرتاہے جس میں میری رضاء ہو اوراس سے خلاف شریعت کوئی کام سرزد نہیں ہوتا ۔
فرمائیے:۔
خدا اپنے بندے میں حلول فرمارہے ہیں یا بندہ مقام محبوبیت میں پہنچ کر منشاء خدا وندی کے تابع ہورہاہے ؟
اور اگرتعصب کی عینک اتار کر اس حدیث کو دیکھا جائے تو اس میں موجود یہ جملے کہ اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تومیں اس کو دیتا ہوں، اگر میری پناہ چاہتا ہے تو اس کو محفوظ رکھتا ہوں نظریہ حلول پر ضرب کاری کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اگر اس حدیث کامعنی بقول شمایہ ماناجائے کہ اللہ اس بندے کے وجود واعضاء میں حلول کرجاتا ہے
تو پھر بندہ مانگتا کس سے ہے خدا دیتا کسے ہے؟
جناب والا:۔
یہ حدیث تو حلولیہ واتحادیہ کے نظریات کے خلاف ہے حق میں نہیں مگر ۔
گر نہ بیند بروز شپرہ چشم
چشم آفتاب راچہ گناہ
ملاحظہ ہو فتح الباری جلد[۱۴] صفحہ[۶۷۷]
والمعنی توفیق اللہ لعبدہ فی الاعمال التی یباشرھا بھذہ الاعضاء وتیسر المحبۃلہ فیہابان یحفظ جو ارحہ علیہ ویعصمہ عن مواقعہ مایکرہ اللہ من الاصغاء الی اللہو بسمعہ ومن النظر الی مانھی اللہ عنہ ببصرہ ومن البطش فیما لا یحل لہ بیدہ ومن السعی الی الباطل برجلہ
اسی مفہوم کو علامہ قسطلانی متوفی ۹۳۳ بایں الفاظ ادا فرماتے ہیں
والمعنی انہ لا یسمع الا ذکری ولا یلتذ الا بتلاوۃکتابی ولا یاأس الابمنا جاتی ولاینظرالا فی عجائب ملکوتی ولا یمد یدہ الا فی مافیہ رضای ورجلہ کذالک۔
ارشاد الساری جلد [۱۳] صفحہ[۵۸۷]
او ر علامہ عینی متوفی ۸۵۵ بایں الفاظ ترجمانی فرماتے ہیں
کنت حافظ سمعہ الذی یسمع بہ فلا یسمع الا مایحل سماعہ وحافظ بصرہ کذلک الخ ۔
عمدہ القاری جلد[۱۵] صفحہ[۵۷۷]
ناظرین ذی وقار:۔
آپ خود فیصلہ کیجیئے اس حدیث میں اللہ کا بندہ کے اعضاء میں حلول ثابت ہورہا ہے یا بندہ کا انتہائی مطیع خدا ہوناثابت ہورہا ہے۔
الامہ صاحب اب میں آپ کی زبان میں پوچھتا ہوں کہ اکابرین امت کی اس قدر تشریحات کے باوجود آپ کیوں بڑے جذبات کے ساتھ دشمنان دین اور منکرین حدیث کی ترجمانی کرکے حدیث رسول ا سے بغاوت کررہے ہیں
EE
تعارض نمبر{4}
اس تعارض کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لیس کمثلہ شئیی ہیں ۔مگرامام بخاری نے صفحہ [۹۶۵]پرایک ایسی حدیث ذکر کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی بندوں سے مشابہت لازم آتی ہے کیونکہ حدیث میں ہے تکون الارض یوم القیامۃخبزۃواحدۃ یتکفا ہاالجباربیدہ کما یتکفا احدکم خبزتہ فی السفر(بروز قیامت تمام زمین ایک روٹی ہوگی جس کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں سے اس طرح الٹے پلٹے گا جس طرح تم میں کوئی شخض سفر کے دوران الٹ پلٹ کر روٹی پکاتا ہے ۔
بقول الامہ :۔
بخاری صاحب اللہ تعالی کو بندوں سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ شرک وکفر کے علاوہ یہ جھوٹ مستزاد ذکر کرتے ہیں کہ ساری زمین روٹی بن جائے گی:قرآن مقدس بخاری محدث صفحہ[ ۲۱]
J جواب L
میری نظرمیں بخاری شریف کی روایت میں موجود دو چیزیں الامہ صاحب کو پریشان کیئے ہوئے ہیں ۔
1۔۔۔زمین کا روٹی بن جانا۔
2 ۔۔۔یتکفأ ھا الجبار بیدہ کما یتکفاء احد کم کاجملہ۔
لیکن اے کاش اگر الامہ صاحب بزرگان دین کے قدموں میں بیٹھ کر دین سمجھنے کی کوشش فرماتے تو انہیں کبھی بھی قرآن وبخاری میں تعارض نظر نہ آتا اور کسی انداز میں بھی منکرین حدیث کے ہاتھوں میں نہ کھیلتے ۔
جہاں تک زمین کے روٹی بن جانے کی بات ہے اس پر پریشان نہیں ہونا چاہئیے بلکہ قادر مطلق کی قدرت کے سامنے سرنگوں ہوکر تسلیم کرلینا چاہیئے کیوں کہ قدرت خدا وندی سے کچھ بھی بعید نہیں کہ وہ زمین کو روٹی بنا ڈالے اور اہل جنت کو کھانے کے لئے مرحمت فرما دے۔ ان اللہ علی کل شئی قدیر
1۔۔۔ملاحظہ ہواشعۃ اللمعات جلد[۴] صفحہ[ ۳۶۵]حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
مستبعد نمی داریم ہیچ چیز از قدرت خدا وند تعالیٰ ووے تعالیٰ قادر ست کہ زمین رانان سازد وبخوردن بہشتان دہد
2۔۔۔عمدہ القاری جلد[۱۵]صفحہ[ ۵۹۵]
والاولی ان یحمل علی الحقیقۃ مہما امکن وقدرۃ اللہ تعالیٰ صالحۃ لذلک
3۔۔۔ارشاد الساری جلد]۳[ صفحہ ] ۶۱۰[
والاولی ان یحمل علی الحقیقۃ مہما امکن وقدرۃ اللہ تعالیٰ صالحۃ لذلک بل اعتقاد کونہ حقیقۃ ابلغ
4ٰ۔۔۔فتح الباری جلد[۱۵]صفحہ[۱۵]مرقاۃجلد[۱۰]صفحہ [۲۴۸]
والاولی ان یحمل علی الحقیقۃ مہما امکن وقدرۃ اللہ تعالیٰ صالحۃ لذلک بل اعتقاد کونہ حقیقۃابلغ
میں حیران ہوں امام انقلاب صاحب کو رب الانقلاب کے تصرف سے زمین کا روٹی بن جانا کیوں مشکل نظر آرہا ہے ۔
فائدہ
بعض علماء نے یہ اشکال پیش کیا ہے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین آگ بن جائے گی اور یہ حدیث بتلاتی ہے کہ زمین روٹی بن جائے گی تو تعارض رفع کرنے کی کیا صورت ہوگی ؟
جواب
علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ جو زمین آگ بن جائے گی اس سے مرادوہ زمین ہے جو تحت البحرہے اور جو روٹی بنے گی وہ یہی زمین ہے
ان المرادمن کون الارض نارا ہوارض البحر
عمدۃ القار ی :جلد[۱۵]صفحہ[۵۹۵]
ویسے بھی اللہ سے کیا بعید ہے :۔
*اگر پتھر سے۔۔۔ اونٹنی پیدا کرسکتا ہے
*اگر پتھر سے ۔۔۔چشمے جاری کرسکتا ہے
*اگر دریاسے۔۔۔ راستے نکال سکتا ہے
*اگر بن باپ ۔۔۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا کرسکتا ہے
*اگر بن ماں باپ ۔۔۔حضرت آدم علیہ السلام بناسکتاہے
*اگر ناپاک پانی سے۔۔۔ حضرت انسان کی تخلیق کرسکتاہے
*دہکتے شعلوں میں سے۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوبچاسکتا ہے
اگر مچھلی کے پیٹ میں۔۔۔ سیدنا یونس علیہ السلام کی حفاظت کرسکتا ہے تو پھر اس کی قدرت سے کیا بعید ہے کہ وہ زمین کوبھی روٹی بنادے
رہا دوسرا جملہ یتکفا ھاا لجبار بیدہ الخ الامہ صاحب: اس سے تنگ دل ہونا بھی مناسب نہیں کیونکہ اگر حدیث کا صحیح مفہوم سمجھ لیا جائے تو کم ازکم ایک عقلمند کبھی معترض نہیں ہوسکتا۔
اصل میں بزبان نبوت قدرت خدا وندی کو اس انداز میں بیان کیا جارہاہے کہ ساری زمین کی الٹ پلٹ اللہ تعالیٰ پر اسی طرح مشکل نہیں جس طرح ایک عام انسان پر اپنے ہاتھوں میں روٹی کا الٹنا پلٹنا مشکل نہیں ۔
ناظرین مکرم :۔
اس مفہوم میں کونسی شرک وکفر کی بات ہے کہ احمد سعید حدیث نقل کرنے کے سبب امام بخاری رحمہ اللہ کو شرک وکفر سنوارہاہے۔
واقعی بھینگے کو ہر چیز ٹیڑھی نظرآتی ہے
اور اگربالفرض امام بخاری رحمہ اللہ کو اس لئے مشرک وکافر کہا جارہا ہے کہ اس نے ایک ایسی حدیث نقل کردی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے بھی تکفاء کے الفاظ( الٹنا پلٹنا )اور مخلوق کے لیے بھی یکتفائکے الفاظ بولے جارہے ہیں یعنی مشترک الفاظ بولنا موجب شرک ہے تو پھرفرمایئے
1۔۔۔ ان اللہ وملائکۃ یصلون علی النبی یایھاالذین آمنو صلوا علیہ وسلموا تسلیما کے متعلق کیا فرمائینگے کیونکہ یہاں بھی ایک جیسا لفظ صلوۃخالق ومخلوق کے لئے بولاجارہا ہے ؟
2۔۔۔سورۃ توبہ میں اللہ کی صفت رؤف ورحیم بیان کی جارہی ہے انہ بہم رؤف رحیم اوراسی سورۃ توبہ میں حضور اکرم اکو بھی رؤف رحیم فرمایا گیا ہے بالأومنین رؤف رحیم فرمایئے آپ کا دارالافتاء کیا بولتا ہے ؟
3۔۔۔یا آسان طور پر یوں بھی گذارش کی جاسکتی ہے کہ
اللہ بھی دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مخلوق بھی دیکھتی ہے
اللہ بھی بولتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مخلوق بھی بولتی ہے
اللہ بھی سنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مخلوق بھی سنتی ہے
تو کیا یہ بھی شرک کے زمرہ میں آئیگا؟
سنبھل کر قدم رکھنا میکدہ میں مولوی صاحب
یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں
EE
تعارض نمبر{5}
کا خلاصہ یہ ہے کہ آیت قرآنی ولقد عھد نا الی آدم من قبل فنسی ولم نجدلہ عزماًمیں حق تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ حضرت حواء کانام نہیں لیا پردے میں رکھا ایک طرح ان کی بے قصوری کو ذکر کیا مگر امام بخاری نے کتاب الانبیاء ص[۴۶۹]پر لولا حواء لم تخن انثی زوجہا ذکر کے حضرت حواء کا نام خیانت کرنے والیوں میں ذکر کردیا جو کہ توہین ام البشر ہے
J جواب L
اس تعارض میں دو باتیں سمجھنے کی ہیں ۔
1۔۔۔ خیانت کا معنی
2۔۔۔ کیا واقعی قرآن کریم نے شجرہ ممنوعہ کی بحث میں حضرت حواء کا کہیں ذکر نہیں فرمایا اور ان کے نام ذکر کرنے سے امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت حواء علیہا السلام کی توہین کی ہے ۔
جہاں تک پہلی بات ہے تو یہ الامہ صاحب کی کم علمی وکم فہمی کی دلیل ہے کیونکہ عربی کا ہر طالب علم جانتا ہے عربی کلام میں کیا اعجاز ہے ایک ہی لفظ کے کئی کئی معنی پڑھنے وسننے کو ملتے ہیں جیسے جیسے نسبت ومتعلق تبدیل ہوتا جاتا ہے عربی لفظ کا معنی تبدیل ہوتا جاتا ہے مثلاً
1۔۔۔ لفظ صلوٰۃ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتو اس سے مراد نزول رحمت ہے اگر ملائکہ کی طرف ہوتو مراد آپ اکے لئے دعا کرنا ہے اور اگر عام مؤمنین کی طرف ہوتو صلوٰۃ کا مفہوم دعا اور مدح وثنا کا مجموعہ ہے
2۔۔۔ لفظ ذنبکی نسبت عامۃ الناس کی طرف ہو تو گناہ مراد ہوتا ہے اور نفوس قدسیہ کی طرف ہوتو معنی خلاف اولی لیا جاتا ہے ۔
اسی طرح خیانت کے لفظ کی نسبت جب عام لوگوں کی طرف ہوگی تو معروف بین الناس معنی مراد لیا جائے گا لیکن جب اس کی نسبت ام البشر سیدہ حواء علیہا السلام کی طرف کی گئی ہے تو اب نعوذ باللہ عام معنی مراد نہ ہوگا بلکہ شجرہ ممنوعہ کے کھانے کی طرف میلان نفس کو خیانت سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
یہی بات ارشاد فرماتے ہیں شارح بخاری حضرت حافظ ابن حجررحمہ اللہ
ولیس المراد بالخیانۃ ھنا ارتکاب الفواحش حاشا وکلا ولکن مالت الی شہوۃ النفس من اکل الشجرۃ وحسنت ذالک لآدم علیہ السلام ذلک خیانۃ لہ :
فتح الباری: جلد[۷] صفحہ[۶۱۲]
مسئلہ واضح ہوگیا یہاں خیانت کا وہ معنی ہی نہیں جسے الامہ صاحب لیکر امام وقت کے خلاف اول فول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اکابر کی کتب موجود ہیں تو انہیں سے معلوم کرلینا چاہیئے کہ آخربات کیاہے ؟
یہ کاوشیں بے سبب ہیں کدورتوں کی کچھ انتہابھی
زبان رکھتے ہیں ہم بھی آخر کبھی تو پوچھو سوال کیا ہے
فائدہ
درج ذیل آیات طیبات میں حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ ساتھ حضرت حواء علیہاالسلام بھی مخاطب ہیں ۔
1۔۔۔فازلہماالشطٰین[بقرہ ]
2۔۔۔قال اھبطا منہا جمیعاً[طہ]
3۔۔۔فوسوس لہما الشیطن لیبدی لہما ما وری عنھما من سواٰتہما وقال مانہکما ربکما عن ہذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین او تکونا من الخلدین *و قاسمہماانی لکما لمن النصحین* فدلھما بغرور فلما ذاقا الشجرۃ بدت لہما سواتہماوطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ ونادٰہما ربہما الم انہکما عن تلکما الشجرۃ واقل لکما ان الشیطٰن لکما عدو مبین*[اعراف]
تو فرمایئے اس میں بھی سیدہ حواء علیہا السلام کی توہین کا عنصر کارفرماہوگا۔
رہاحضرت سیدہ حواء علیہا السلام کے اسم گرامی کا مسئلہ کہ قرآن مجید نے شجرہ ممنوعہ کی بحث میں ان کا نام ذکر نہیں کیا بلکہ اکیلے حضرت آدم علیہ السلام کا نام لیا گیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت حواء علیہاالسلام کے نام والی روایت درج کرکے توہین کی ہے
میرے نادان الامہ صاحب :۔
اگر بقول شماشجرہ ممنوعہ کی بحث میں واقعی نام لینا موجب بے ادبی ہے ، گستاخی ہے تو پھر میں آپ سے پوچھتا ہوں مقام نبی اللہ حضرت آدم علیہ السلام کا زیادہ ہے یاحضرت حواء علیہا السلام کا زیادہ ہے (ہر اہل علم جانتا ہے کہ مرتبہ، مقام، فضیلت حضرت آدم کی زیادہ ہے کیونکہ اللہ کے نبی برحق ہیں )اگر قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے نام لینے سے تو ہین آدم نہیں ہورہی تو پھرحدیث شریف میں حضرت حواء کے نام لینے سے ان کی توہین بھی نہیں ہوگی۔
EE
تعارض نمبر{6}
میں آیت قرآنی فلماتبین لہ انہ عدوللہ تبرأ منہ اور روایت بخاری یا رب انک وعدتنی ولا تخزنی یوم یبعثون میں بزعم خویش یہ تعارض پیش کیاہے کہ قرآن فرماتا ہے حضرت خلیل اللہ کو آزرکے حتمی کفر کا جب علم ہوگیا تو اس سے بری ہوگئے (تبرأ منہ )
مگربخاری صفحہ [۴۷۳]پرمرقوم حدیث بتاتی ہے قیامت کے دن اس کی خستہ حالت کو دیکھ کر بطور سفارش فرمائینگے یارب انک وعدتنی لا تخزنی یوم یبعثون الخ یعنی حضرت خلیل جب دنیا میں آزر سے بری الذمہ ہوگئے تھے تو روز قیامت اس کی سفارش کیسے کرسکتے ہیں ؟
آگے الامہ لکھتے ہیں قرآن میں عدم بصیرت کی وجہ سے ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو امام بخاری نے اللہ کا وعدہ بنادیا ۔بلفظہ
J جواب L
الامہ صاحب کومغالطہ یہ لگا کہ وہ یارب انک وعدتنی لا تخزنی یوم یبعثون کو آزر کے حق میں دعاء خلیل سمجھ بیٹھے ۔
حضوروالاذرا روح المعانی جلد [۶] صفحہ [۳۷]سورۃ توبہ کو دیکھ لیں۔
انالا نسلم التخالف بین الآیۃ والحدیث وانما یکون بینہما ذلک لوکان فی الحدیث دلالۃ علی وقوع الاستغفار فی ابراہیم لابیہ وطلب الشفاعۃ لہ ولیس فلیس وقولہ یارب انک وعدتنی الخ ارادبہ علیہ الصلاۃ والسلام محض الاستفسار عن حقیقۃ الحال فانہ اختلج فی صدرہ الشریف
علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :۔
یارب انک وعدتنی لا تحزنی الخبارگاہ خداوندی میں آزر کے لئے دعا نہیں ،سفارش نہیں بلکہ محض حقیقت حال کا استفسار ہے کہ اللہ تونے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تجھے قیامت کے دن شرمسار نہیں کرونگا آج والد کی یہ حالت (چہرہ خاک آلود ہے )
تو بخاری شریف میں ہے اللہ تعالیٰ (اپنے خلیل کی تسلی کی خاطر )اسے ایک گندسے بھرے ہوئے بجو کی شکل بناکر جہنم میں ڈلوادینگے یعنی آج لوگ بجو کو جہنم میں جاتا ہوا دیکھیں گے آزر کو انسانی شکل میں نہ دیکھیں تاکہ خلیل پر ملال نہ گذرے۔
میں انہیں کی زبان میں گذارش کرتا ہوں الامہ صاحب نے حدیث میں عدم بصیرت کیوجہ سے استفسار ابراہیم کو دعا بنادیا۔
رہا الامہ کا یہ کہنا کہ امام بخاری نے دعا ابراہیم لا تخزنی یوم یبعثون کواللہ کاوعدہ بنادیا تو جوابا عرض ہے کہ امام بخاری نے تو کہیں وعدہ نہیں بنایا ہاں البتہ آپ کوسیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کی قبولیت میں شک ہے تو بسم اللہ پڑھیے اور ایک نص قطعی بیان فرمائیے جس میں اس دعا کی عدم قبولیت کا ذکر ہو۔ دیدہ باید
EE
تعارض نمبر{7}
کاخلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت اکو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ ( ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفرواللمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ماتبین لہم انہم اصحاب الجحیم)کے ذریعہ مشرک کے لئے استغفار کرنے سے منع فرمادیا
مگر بخاری شریف کتاب المناقب صفحہ[۵۴۸]پرہے کہ حضوراکرم ا نے اپنے چچا کے لئے فرمایا لعلہ تنفعہ شفاعتی یوم القیامۃجب اللہ نے اپنے نبی کو دنیامیں مشرک کے لئے استغفار کرنے سے روک دیا تو پھر قیامت کے دن حضرت امشرک کے لئے شفاعت کیسے کرینگے؟
J جواب نمبر۱ L
شفاعت دوقسم ہے ۔1 شفاعت تخفیف عذاب کی خاطر کرنا۔
2من کل الوجوہ عذاب سے یعنی مطلقاًنجات کے لئے شفاعت کرنا۔
یاد رکھیں:۔
قرآن مجید میں مشرک کے لئے جس شفاعت سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری قسم کی شفاعت ہے ( کلی طور پر عذاب ختم کرنے کی شفاعت )اور حضرت ااپنے چچا کے لئے جو سفارش فرمائینگے وہ تخفیف عذاب کے لئے ہوگی جو کہ ممنوع نہیں لہذا قرآن وحدیث میں تعارض نہ رہا ۔
فان الشفاعۃ لا بی طالب فی تخفیف العذاب لم ترد وطلبہا لم ینہ عنہ وانما وقع النہی عن طلب المغفرۃالعامۃ۔ فتح الباری: جلد ]۴۷۶[
J جواب نمبر ۲ L
اس باب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے مختلف روایات نقل فرمائی ہیں جن کا خلاصہ یہ کہ حضرت انے ابوطالب کو بوقت قرب موت کلمہ شہادت کی دعوت پیش کی مگر اس نے قبول نہ کی آپ انے فرمایا چچاجان ( آپ کی وفاؤں کے بدلے )میں تیرے لئے استغفار کرتارہوں گا جب تک کہ من جانب اللہ روک نہ دیا جائے اس کے بعد آیت نازل ہوئی (ماکان للنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین ولوکانوا اولی قربی من بعد ما تبین لہم انہم اصحاب الجحیم )اور آپ ااستغفار کرنے سے مطلقاً رک گئے۔
تو اس ساری تفصیل کے بعدلعلہ تنفعہ شفاعتی یوم القیامۃ کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے اب تک(نزول آیت سے قبل) ابوطالب کے لئے جوبارگاہ قدس میں دعائیں اور سفارشیں کی ہیں اس کا فائدہ ان کو بروز قیامت پہنچے گا ۔
تو فرمایئے قرآن وحدیث میں کیا تعارض ہوا ؟
J جواب نمبر۳ L
اگر باریک بینی سے استغفار اور شفاعت کے مفہوم کو دیکھا جائے تو استغفار صرف مؤمنین کے لئے ہے مگر شفاعت سے کسی حدتک مشرک وکافر بھی منتفع ہوسکتے ہیں۔
مثلاً بروز قیامت حضرت اکی ذات بابرکات کو اللہ تعالیٰ جب اذن شفاعت عطاء فرمائینگے تو شفاعت کبرٰی سے تمام بنی آدم مستفیض ہونگے جس میں مؤمنین وکفار، موحد ومشرک سب شریک ہونگے ۔
بات واضح ہوگئی کہ شفاعت کے مفہوم میں عموم ہے بنسبت استغفار کے۔
ملاحظہ ہو
1۔۔۔ مظاہر حق جلد[۵]صفحہ[۱۵۶]
سب سے پہلی قسم شفاعت عظمٰی ہے اور یہ وہ شفاعت ہے جو تمام مخلوق کے حق میں ہوگی
2 ۔۔۔اشعۃ اللمعات جلد[۴] صفحہ[۳۸۲]
نوع اول شفاعت عظمٰی ست کہ عام ست مر تمامہ خلائق را
3۔۔۔روح المعانی جلد[۸] صفحہ[۱۴۱]
من فسرہ بمقام الشفاعۃ فی موقف الحشر حیث یعترف الجمیع بالعجز اعم من ان تکون عامۃ کا لشفاعۃ لفصل القضاء
4۔۔۔مرقاۃ
فان المراد بھذہ الشفاعۃ الکبرٰی ۔۔۔۔۔۔ ھذ ہ الشفاعۃ ہی الخلاص من الحبس والقیام والامر بالمحا سبۃ للانام
ان مندرجہ بالا اقوال علماء سے یہ بات واضح ہوگئی کہ شفاعت کبری سب کے لئے ہوگی اور اس سے اپنے پرائے سب کو نفع ہوگا ۔
اتنی قدر بات سمجھ لینے کے بعد ہم گذارش کرینگے کہ قرآنی آیت ماکان للنبی والذین آمنواان یستغفروا للمشرکین میں مشرک کے لئے استغفار سے منع کیا جارہاہے اور روایت بخاری لعلہ تنفعہ شفاعتی یوم القیامۃمیں ایک گونہ شفاعت (کبرٰی )کو ثابت کیا جارہاہے۔ لہذا کسی قسم کا کوئی تعارض نہ ہوا کیونکہ جو ممنوع ہے وہ استغفار ہے اورجسے حدیث سے ثابت کیا جارہاہے وہ شفاعت ہے ۔
اعتراض:۔
آپ کی اس تقریر سے ثابت ہورہاہے کہ مشرک کو کسی حدتک شفاعت مفیدہوسکتی ہے جبکہ قرآن کریم میں واضح ہے فما تنفعہم شفاعۃ الشافعین کہ کفار کو شفاعت فائدہ نہ دے گی
جواب:۔
آیت کریمہ ( فما تنفعہم شفاعۃ الشافعین)میں جس شفاعت کے عدم نافع ہونے کو بیان کیا جارہاہے وہ ہے شفاعت للخروج من السقر جس کے سبب جہنمی جہنم سے مطلقاً آزاد کردیا جائے ۔
فالمراد شفاعۃ الخروج من السقر) [نبراس :صفحہ۲۳۹]
اورحدیث مبارکہ (لعلہ تنفعہ شفاعتی یوم القیامہ ) میں جس شفاعت کے نفع مند ہونے کاذکر کیا جارہاہے وہ تخفیف عذاب کی شفاعت ہے
مگربہت لطیف نکتہ ہے ۔اللہ سمجھ نصیب فرماویں
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم ونازک بے اثر
EE
تعارض نمبر{10-9-8}
میں بنیادی طور پر الامہ صاحب نے جوکچھ تحریر کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم فرماتا ہے لا تقربوا الزنا ۔۔۔لا تقربوا الفواحش ۔۔۔محصنین غیر مسافحین ۔۔۔ولا متخذی اخدان۔۔۔فانکحوا ماطاب لکممگر امام بخاری، بخاری شریف جلد[۲] صفحہ[۷۶۷] پر متعہ یعنی زنا کی حلت کی روایات نقل کرتا ہے جو کہ آیات کے صریح کے خلاف ہے۔
(۲)۔۔۔ امام بخاری نے اپنی صحیح کی جلد [ ۲] صفحہ[ ۶۶۴] پر ایک روایت نقل کی ہے
عن عبداللہZ قال کنا نغز وامع رسول اللہ اولیس معنا نساء نا فقلنا الانختصی فنھا ناعن ذالک فرخص لنا بعد ذالک ان نتزوج المرأۃ بالثوب ثم قرأ یایھاالذین امنوالا تحرموا طیبات مااحل اللہ لکم
ترجمہ :۔حضرت ابن مسعودZ فرماتے ہیں ہم حضرت اکے ساتھ جہاد میں جایا کرتے تھے اورہمارے پاس ہماری عورتیں نہ تھیں ہم نے عرض کی یارسول اللہ اہم اپنے کو خصی نہ کرڈالیں آپ نے منع فرمایا پھر ہمیں اجازت مرحمت فرمائی کہ ہم ایک کپڑے کے عوض عورت سے نکاح کرسکتے ہیں اس کے بعد ابن مسعود Zنے یہ آیت تلاوت فرمائی
جس سے صا ف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابن مسعودZ اس آیت سے متعہ کو جائز ثابت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ قرآنی آیت میں موجود طیبات سے مراد کھانے پینے پہننے کی پاکیزہ چیزیں ہیں متعہ مراد نہیں (ملخصاً)
J جواب L
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیر ا تو اک قطرہ خوں بھی نہ نکلا
جس شخصیت کے متعلق کتاب کے ٹائٹل پر امام انقلاب شیخ التفسیر والحدیث علامہ کے الفاظ لکھے گئے اس کی کم علمی اور کم فہمی کا یہ عالم ہے کہ زنا اور نکاح متعہ میں فرق نہیں کرسکتے
فائدہ
ناظرین مکرم پہلے متعہ کے متعلق ضروری بات ذہن نشین فرمالیں پھر بات کا سمجھنا آسان ہوجائیگا ۔انشاء اللہ
ایک ہے وہ متعہ جو کہ شعار روافض ہے اس میں نہ کسی کو اعلان کی ضرورت ہے اور نہ ہی گواہوں کی ضرورت ہے لااشھاد ولااعلان۔ تفصیل کے لئے تہذیب الاحکام جلد[۷] صفحہ[۲۶۲]۔ قرب الاسنادصفحہ[۱۰۹]
یہ متعہ اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک خالص زنا ہے یہ کبھی بھی اسلام میں جائز نہیں رہا اور دوسرا ہے متعہ بمعنی نکاح موقت جس میں اعلان عام بھی ضروری تھا اور گواہوں کا ہونا بھی ضروری تھا۔ یہ ابتداء اسلام میں جائز تھا مگر بعدازاں حضرت ا نے اسکی حرمت کا اعلان فرمادیا۔
ان رسول اللہ نہی عن متعۃ النسا ء یوم خیبر
مسلم شریف جلد[۱] صفحہ[۴۵۲]
مزید تسلی کے لئے ملاحظہ فرماویں نووی علی المسلم جلد[ ۱] صفحہ[۴۵۰]
1 ۔۔۔قال الماذری ثبت ان نکاح المتعۃ کان جائزاً فی اول الاسلام ثم ثبت بالا حادیث الصحیحۃ المذکورۃ ہنا انہ نسخ وانعقد الاجماع علی تحریمہ ۔۔۔۔۔۔ واتفق العلماء علی ان ھذہ المتعۃ کانت نکاحاً الی اجل لا میراث فیہا وفراقہا یحصل بانقضاء الاجل من غیر طلاق ووقع الاجماع بعد ذالک علی تحریمہامن جمیع العلماء
2۔۔۔المسلمون الیوم مجمعون علی ان متعۃ النساء قد نسخت بالتحریم نسخہا الکتاب والسنۃ ہذا قول اہل العلم جمیعاً من اہل الحجاز والشام والعراق من اصحاب الاثر والرأی:
اللامع الدراری جلد[۹] صفحہ[۶۹]
الامہ صاحب کو غلط فہمی یہ ہوئی کہ آپ نکاح موقت اور زناو متعہ میں جوکہ شعار روافض ہے میں فرق نہ کرسکے (غالباً آپ کا ذخیر ہ احادیث پر اعتماد نہیں ورنہ نہی عن المتعہ کی احادیث سے ان کی تسلی و تشفی ہوجاتی)
اس فائدہ کو ذہن نشین کرلینے کے بعد گذارش یہ ہے قرآن کریم نے جس چیز کی
حرمت بیان فرمائی ہے وہ زناہے اور حدیث سے جوکچھ ثابت ہوتاہے وہ نکاح موقت ہے۔ لھذا قرآن مجید اور روایات بخاری کا آپس میں کوئی تعارض نہیں۔
اور اگر الامہ صاحب کا یہ دعوٰی ونظریہ ہے کہ نکاح موقت بھی اسلام میں کبھی جائز نہیں رہا تو اس پر انہیں نص قطعی پیش کرنا ہوگی جو کہ ان کے بس کا روگ نہیں۔
اور جہاں تک حضرت عبداللہ بن مسعود Zسے مرو ی حدیث کا تعلق ہے تو آپ اسے دیکھیں، پڑھیں کہیں زنا کی اباحت کا ذکر محسوس ہوتا ہے؟۔ ہرگزنہیں بلکہ اس میں تو فرخص لنا بعد ذالک ان نتزوج المرأۃکے الفاظ ہیں جس کا معنی نکاح ہے زنانہیں۔مگر
آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشہ دیکھے
دیدہ کور کو کیا نظر آئے کیا دیکھے
سبحان اللہ۔ آنکھوں سے اندھی اور نام نور بھری
علمی پوزیشن یہ ہے کہ ان نتزوج المرأۃ کو زنا سے تعبیر کیا جارہاہے اور القاب ملاحظہ فرماویں تو گدھا بھی بوجھ نہ اٹھا سکے۔
کیا آپ کہیں دکھا سکیں گے کہ شراح بخاری نے اس مقام پر ان نتزوج کا معنی زنا کیا ہے۔ اگر نہیں دکھا سکتے اور انشاء اللہ العزیز نہیں دکھاسکتے تو پھر خواہ مخواہ امام المحدثین امام بخاری کے خلاف زبان درازی سے بازآجائیں اس میں نجات اور اخروی آسودگی ہوگی
رہا حضرت ابن مسعود Zکا آیت مبارکہ یا یھا الذین امنو لا تحرموا طیبات مااحل اللہ لکم پڑھنا تو اس میں علماء کے دو قول ہیں
1۔۔۔ آپؓ اس آیت سے نکاح متعہ (نکاح موقت) کے جواز پر استدلال فرمانا چاہتے ہیں ایسی صورت میں کوئی بھی عقلمند معترض نہیں ہوسکتا کیونکہ دین میں کافی ایسے امور ملتے ہیں جو ایک زمانہ تک جائز رہے پھر انہیں ناجائز کر دیا گیا۔
مثلاً
*ابتداء اسلام میں مؤمن ومشرک کا نکاح جائز تھا۔۔۔۔۔۔ منع کردیا گیا
*شراب پی جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حرام کردی گئی
*بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روک دیا گیا
اسی طرح ابتداء اسلام میں نکاح موقت (متعہ )بھی جائز تھا۔۔۔ بعدازاں منع کردیا گیا۔
2۔۔۔ یہ بھی ممکن ہے حضرت ابن مسعود Z نے آیت تحریم اختصاء کے متعلق پڑھی ہو یعنی جب صحابہ نے عرض کی الانختصی تو جواب ملا نہیں۔ ابن مسعود Z اسی کی تائید میں پڑھتے ہیں یا یھا الذین آمنو لا تحرموالخ
بایں صورت آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عضو بدن جو عطا کیا ہے یہ ایک نعمت ہے اس کے ذریعہ تم حلال جماع کی لذت حاصل کرسکتے ہو اس طرح یہ طیبات میں داخل ہے اس کو تم اپنے اوپر حرام نہ کرو اور اختصاء نہ کرو
اللامع الدراری: جلد[۹] صفحہ[۶۷] بحوالہ کشف الباری
اگر یہ مفہوم مراد لیا جائے تو نہ حضرت ابن مسعود Zپر اعتراض ہوگا اور نہ امام بخاری رحمہ اللہ پر غالباًاسی کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تمھارے واسطے حلال کی ہیں (خواہ وہ کھانے پینے اورپہننے کی قسم سے ہوں یا منکوحات کی قسم سے ہوں) ان میں لذیذ اور مرغوب چیزوں کو (قسم وعہد کرکے اپنے نفسوں پر)حرام مت کرو :معارف القرآن جلد[۳] صفحہ[۲۱۹]
اس میں لفظ منکوحات محل استدلال ہے۔
EE
تعارض نمبر{11}
کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کا حق مہر مال ہونا ضروری ہے
ان تبتغواباموا لکم نیزلوہے کا چھلہ انگوٹھی مال نہیں بایں وجہ اسے حق مہر بنانا درست نہیں ۔اور لوہے کی انگوٹھی تو ویسے بھی حرام ہے
مگر امام بخاری کتاب النکاح میں ایک روایت نقل کرتے ہیں جس میں ہے تزوج ولو بخاتم من حدیدشادی کرلے اگرچہ بدلہ میں (بطور مہر )لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔
ذرا انھیں کی زبانی سنیئے :۔
لیکن اللہ تعالیٰ معاف فرمائے امام بخاری بے حیا راویوں پر اعتماد کلی کرکے رسول اللہ اپر یہ جھوٹ بھی جڑ دیتے ہیں اور نص قطعی کے صریح خلاف آپ ا کے ذمہ لگاتے ہیں خد اجانے قرآن کی طرف توجہ نہیں کی یا ضروری نہیں سمجھا کہ روایت سے پہلے قرآن کا مطالعہ کرلیتے (بلفظہ)۔ قرآن مقدس بخاری محدث صفحہ[ ۳۱]
J جواب L
ناظرین ذی وقار:۔
مسئلہ اپنی جگہ ذرا اس شریف کی دیدہ دلیری دیکھئے کس طرح سوقیانہ انداز میں بخاری کے رواۃ کو بے حیاراوی کہہ رہا ہے جن کی جلالت شان کا زمانہ معترف ہے ان کے خلا ف نازیبا زبان، تحریر آخرت تباہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔
پھر امیر الأومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ کے متعلق یہ الفاظ کہ
رسول اللہ اپر یہ جھوٹ بھی جڑ دیتے ہیں اور نص قطعی کے صریح خلاف آپ اکے ذمہ لگاتے ہیں ۔
یہ بہت بڑی جسارت ہے جس کاتصور کوئی شریف النفس عالم دین تو کجا عامی بھی نہیں کرسکتا۔
کیا اس کی گھٹیا تحریر سے بخاری کا مقام کم ہوجائیگا؟ نہیں ہرگز نہیں
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا
جہاں تک تعارض کا معاملہ ہے اس میں دو باتیں غور طلب ہیں
1۔۔۔ جب لوہا پہننا ممنوع ہے تو حق مھر میں کیسے ادا کیا جاسکتا ہے؟
اس کے متعلق گذارش ہے کہ اگر آپ عمدۃ القاری جلد[۱۴] صفحہ[۱۰۵] ملاحظہ فرمالیتے تو اس قسم کی بے تکی نہ کہنا پڑتی کیونکہ علامہ عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ نے اس خدشہ کا جواب بایں الفاظ رقم فرمایا ہے۔
ذکر خاتم الحدید کان قبل النہی عنہ
یعنی لوہے کے استعمال کی ممانعت بعد میں ہوئی اور یہ ارشاد مبارکہ تزوج ولوبخاتم من حدید پہلے کا ہے
2۔۔۔ کیا لوہے کی انگوٹھی پر مال کا لفظ بولا جاسکتا ہے (کیونکہ حق مہر کے لیے مال کا ہونا ضروری ہے اسے سمجھنے کے لئے ایک فائدہ ذہن نشین فرمالیں
اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ مہر شرائط نکاح میں داخل ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ کم ازکم مہر کیا ہوناچاہیئے
حضرت امام شافعی اور دیگر کافی اکابر علماء کے نزدیک جو چیز بھی قیمت رکھتی ہے وہ مہر بن سکتی ہے خواہ جتنی مالیت کی بھی ہو۔
ملاحظہ ہو نووی علی المسلم جلد[۱] صفحہ[۴۵۷]
یجو زان یکون الصداق قلیلا وکثیر ا مما یتمول اذا تراضی بہ الزوجان لان خاتم الحدید فی نھایۃ من القلۃ وہذا مذہب الشافعی وہو مذہب جما ہیر العلماء من السلف والخلف وبہ قال ربیعہ وابو الزنا د وابن ابی زئب ویحیی بن سعید واللیث بن سعد والثوری والاوزاعی ومسلم بن خالد الزنجی وابن ابی لیلی وداؤد وفقہاء اہل الحدیث وابن وہب من اصحاب مالک قال القاضی ہو مذہب العلماء کافۃمن الحجاز یین والبصر یین والکوفیین والشامیین وغیر ہ
لہذا ان حضرات کے مسلک کے مطابق تو کسی قسم کا اعتراض نہ ہوگا کیونکہ لوہے کی انگوٹھی کچھ نہ کچھ مالیت تو ضرور رکھتی ہے۔
البتہ علماء احناف کے نزدیک مہر کے لیے کم از کم دس درہم مالیت ہونا ضروری ہے توبظاہر یہ حدیث مبارکہ احناف کے مسلک کے خلاف معلوم ہوتی ہے مگر علماء اسلام نے اس کے مختلف جوابات ارشاد فرمائے ہیں
جواب نمبر۱ :۔
محدث العصر حجۃ اللہ علی الارض حضرت سید محمد انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں۔
ابتداء اسلام میں عسر و تنگ دستی اور غربت بہت زیادہ تھی لہذا اس قسم کی رعایت دی گئی تھی کہ لوہے کی انگوٹھی بھی حق مہر میں بطور مال دیجاسکتی ہے مگر بعدمیں یہ حکم بدل گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہمہ قسمی نعمتوں سے مالامال فرمایا ہے یعنی یہ ابتداء اسلام کا واقعہ ہے
والرأی فیہ عندی ان المہر وکذانصاب السرقۃ کان قلیلین فی اول الاسلام حال المسلمین فلما وسع اللہ تعالیٰ علیہم زید فی المہرونصاب السرقۃ ایضاً حتی استقر الامر علی عشرۃ دراہم فیہما
فیض الباری جلد[۴] صفحہ[۲۹۱]
جواب نمبر ۲:۔
اس حدیث میں کل مہر کا ذکر نہیں بلکہ مہر معجل کا ذکر ہے کہ باقی مہر بعدمیں اداکردینا ۔فی الوقت لوہے کی انگوٹھی ہی دے دو۔
ومنھا احتمال انہ طلب منہ مایجعل نقدہ قبل الدخو ل لا ان ذلک جمیع الصداق ۔
فتح الباری جلد[۱۱]صفحہ [۴۸۸] عمدۃ القاری جلد [۱۴]صفحہ[۱۰۵]
جواب نمبر ۳:۔
ہوسکتا ہے وہ لوہے کی انگوٹھی قیمتی ہو معمولی نہ ہو
فتح الباری جلد[ ۱۱] صفحہ[۴۸۸]۔عمدۃ القاری جلد[۱۴] صفحہ[۱۰۵]
ان جوابات کی روشنی میں یہ حدیث احناف کے مسلک کے خلاف بھی نہ ہوگی ۔
افسوس ہے الامہ پر بجائے اس کے کہ اپنی کم علمی اکابرین امت کے ارشادات سے پہلو تہی پر اپنے آپ کو ملامت کریں وہ اپنی نااہلی چھپانے کی خاطر بزعم خویش بخاری شریف اور قرآن کریم میں تعارض ثابت کرکے عامۃ الناس کی نظروں میں تیس مارخاں بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔
EE
تعارض نمبر{12}
قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مالیت سے پاک ہے اگر کسی کو چند سورتیں یا آیات یاد ہوں تو خود اس کے فائدہ کے لئے ہوتی ہیں دوسرے کی طرف اس کا فائدہ منتقل نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔۔لیکن امام بخاری صفحہ [۷۷۴]پرروایت درج کتاب کرتے ہوئے شاید غیر شعوری حالت میں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ جڑ دیا کہ اللہ کے رسول نے ایک شخص کو کہا جو سورتیں قرآن کی تم کو یاد ہیں جاؤ ان کے بدلے تیری اس عورت کے ساتھ شادی کردی ۔بلفظہ قرآن مقدس بخاری محدث ص[۳۲]
خلاصہ یہ ہوا کہ جب نفس قرآن مال متقوم ہی نہیں تو حق مہرکیسے بن سکتا ہے۔
نیز دبے لفظوں میں ایصال ثواب کا انکار کرتے ہوئے فرماتے ہیں
اگر کسی کو چند سورتیں یا آیات یاد ہوں تو خود اس کے فائدہ کے لئے ہوتی ہیں دوسرے کی طرف اس کا فائدہ منتقل نہیں ہوسکتا۔
J جواب L
اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں ہوں ان نفوس قدسیہ پر جنہوں نے خداداد صلاحیت کے پیش نظر آج سے کئی سو سال قبل آج کے اندر کے روگیوں کا اندازہ کرتے ہوئے اس قسم کے واہی وساوس کا جواب شافی ارشاد فرمایا مگر دیکھنے پڑھنے اور پھر سمجھنے کی توفیق اسی کو ہوتی ہے جس پر قدرت مہربانی فرمائے ۔ملاحظہ فرماویں
1۔۔۔ المغنی لابن قدامہ المقدسی متوفی۶۲۰جلد[۲]صفحہ[۱۶۹۱]
آپ فرماتے ہیں یہ اس صحابی رسول کی خصوصیت تھی ہر ایک کے لئے یہ حکم نہیں کیوں کہ حدیث میں آتا ہے آپ انے فرمایا لا تکون لاحد بعد ک مھرًا(تیرے علاوہ کسی اور کے لئے قرآن کریم مہر نہیں بن سکتا )
برادران اسلام:۔
جب ہے ہی اس صحابی کی خصوصیت تو پھر اسے ایک عمومی قاعدہ سے ٹکرانا اپنی جہالت کا ثبوت دینے کے بغیر کچھ نہیں ۔
مثلاً حضرت اکا چار سے زائد بیویاں بیک وقت اپنے عقد مبارک میں رکھنا آپ اکی خصوصیت ہے تو کوئی صاحب عقل یہ کہہ سکتا ہے کہ حضورا نے قرآن کریم کی نعوذ باللہ مخالفت کی ہے کیونکہ قرآن میں آخری حد بیک وقت چار بیویاں رکھنے کی ہے۔
جس طرح حضرت انے چار سے زائد نکاح بیک وقت بنا بر خصوصیت کے فرمائے اسی طرح اس صحابی نے بھی قرآن کے عوض شادی کی بوجہ اس خصوصیت کے جو اسے شارع علیہ السلام نے خود عطاء فرمائی
2۔۔۔فتح الباری جلد[۱۱] صفحہ[۴۸۹]
3 ۔۔۔اوجزالمسالک ج[۴]صفحہ[۲۵۱]
ہذا خاص بذالک الرجل لکون النبی اکا ن یجوزلہ نکاح الواھبۃ فکذالک یجوزلہ ان ینکحہا لمن شاء بغیر صداق
یعنی حضور اکرم اکے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ اکسی کا نکاح بغیر مہر کے فرمادیں مگر حضوراکرم اکی قدر تو قدر والوں کو ہے بے قدروں کو کیا قدر
4۔۔۔عمدۃ القاری جلد[۱۴]صفحہ[۱۰۴]
فکان لہ ماخصہ اللہ تعالیٰ ان ملک غیرہ ماکان لہ ملکہ بغیر صداق
جواب نمبر ۲:۔
حدیث میں موجود الفاظ مبارکہ بمامعک من القرآن میں باء عوض کی نہیں بلکہ باء سببیت کے لئے ہے
الباء فی قولہ بمامعک من القرآن للسببیۃ
ارشاد الساری جلد[۱۱] صفحہ[۴۹۶]
مفہوم یہ ہوگا کہ قرآن کریم کی عظمت کے سبب آپ پرمہر معجل واجب نہیں کی جاتی البتہ مہرمؤجل حسب ضابطہ ادا کردینا
وانفصل بعضہم بانہ زوجہا ایا ہ لاجل مامعہ من القرآن الذی حفظہ وسکت عن المہر فیکون ثابتا لھا فی ذمتہ اذا ایسر :فتح الباری جلد[۱۱] ص[۴۹۰]
مسئلہ ایصال ثواب
اس مسئلہ کی اصل اتنی قدر ہے کہ کیا زندہ کا نیک عمل مرنے والے کو فائدہ دے سکتاہے؟ تواہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک اگر نیکی کرنے والا مؤمن اپنی کی ہوئی نیکی کے ثواب کا ایصال کسی مؤمن کے لئے کرنا چاہے تو جائز ہے البتہ معتزلہ کے نزدیک یہ درست نہیں۔
1۔۔۔والا صل فی ذالک عند اہل السنۃ ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ اوصوما اوحجاً اوصدقۃ او غیرہا:شرح فقہ اکبر صفحہ[۲۲۵]
2۔۔۔ان الصدقۃ عن المیت تنفع المیت ویصل ثوابہا وہو کذالک باجماع العلماء وکذا اجمعو اعلی وصول الدعاء :
نووی علی المسلم جلد[۱] صفحہ[ ۳۲۴]
3۔۔۔ان دعاء الاحیا ء للاموات وصدقتہم عنہ نفع لہم فی علو الحالات خالفا للمعتزلۃ:
شرح فقہ اکبرلعلی قاری صفحہ[۲۲۴]
4۔۔۔وسرالمسئلۃان الثواب ملک للعامل فاذا تبرع بہ واہداہ الی اخیہ المسلم اوصلہ اللہ الیہ ۔
کتاب الروح ص[۱۹۲]
ملک کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ خیر المدارس کافتوٰی
اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک بالاتفاق ایصال ثواب درست ہے اگر انسان اپنی کسی نیکی کا ثواب دوسرے شخص کو بخشتاہے تو یہ ثواب اسے پہنچتا ہے اہل السنۃ والجماعۃ کا مسلک بہت سی احادیث وآیات سے ثابت ہے
1۔۔۔صاحب ہدایہ جلد[۱] صفحہ[۲۹۶] میں تحریر فرماتے ہیں۔
الاصل فی ہذالباب ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوۃ اوصوماً اوصدقۃ اوغیرہا عند اہل السنۃ والجماعۃ لما روی عن النبیا انہ ضحی کبشین املحین احد ہما عن نفسہ والاخر عن امتہ من اقر بو حدانیتہ تعالی وشہدلہ بالبلاغ جعل تضحیۃ احد الشاتین لامتہ الخ
اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ ایصال ثواب جائز ہے اور پہنچتا ہے ورنہ نعوذ باللہ اس ایصال کو لغو تسلیم کرنا پڑیگا
2۔۔۔ حدیث خثعمیہ میں ارشاد نبوی امنقول ہے ۔
فانہ علیہ السلام قال فیہ حجی عن ابیک۔ اخرجہ ائمۃ السنن
3۔۔۔ ایک صحابیZ نے آنحضرت اکے مشورہ سے اپنی والدہ کے ایصال ثواب کے لئے کنواں کھدوایا وقال ھذہ لام سعد
اس کے علاوہ امت کاسلفاً وخلفاًیہ معمول ہے کہ اپنے اقرباکو ایصال ثواب کیا جاتا ہے نیز صاحب بحر نے اس سلسلہ میں مسلک اہل السنۃ والجماعۃ کی تائید میں دو آیات سے بھی استدلال کیا ہے ۔
وہذا نصہ والا صل فیہ ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ عند ا صحابنا بالکتاب والسنۃ امالکتاب فلقو لہ تعالی وقل رب ارحمہما کما ربیٰنی صغیرا واخبارہ تعالی عن ملئکتہ ویستغفرون للذین امنو ا(الایۃ)
بندہ عبدالستارعفی عنہ مورخہ ۱۲ ۔۵۔۱۳۸۰
الجواب صحیح بندہ محمدعبداللہ عفی عنہ
خیر الفتاوی جلد[ ۱] صفحہ[۱۹۰]
اس عظیم الشان قرآن وحدیث سے مبرہن وقیع فتوٰی کے بعد کسی بھی اہل حق کو اس سے انکار کی مجال نہیں کہ واقعی ایصال ثواب جائز ہے اور ثواب میت کو پہنچتاہے ۔ذخیرہ احادیث میں تو بے شمار ایسی روایات آپ کو مل سکتی ہیں جن کے اندر صدقہ، حج، تلاوت قرآن اور قربانی کے ایصال ثواب کا ذکر ہے۔
مگر افسوس صد افسوس:۔
جس شخص کے ردمیں یہ کتاب لکھی جارہی ہے وہ خیر سے منکر حدیث ہے ۔ اس کے نزدیک معیار اپنی عقل ہے نہ اسے حدیث رسول اسے کوئی سروکار نہ اقوال سلف وخلف کی کوئی قدر ۔اس لئے آپ قرآنی آیات کی زیارت کرلیں جس میں روز روشن کی طرح واضح ہوگا کہ زندہ کا عمل مرنے والے کے لئے مفید ہوتا ہے ۔
1۔۔۔وقل رب ارحمہما کما ربیٰنی صغیرا(الاسراء)
اپنے والدین کے لئے دعا کا حکم دیا جارہا ہے اگر زند ہ اولاد کی دعا والدین کے لئے نفع مند نہیں تو پھر نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ حکم باری تعالیٰ بے سود ہوگا۔
2۔۔۔رب اغفرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مؤمنا وللمؤمنین والمؤمنات (نوح )
اگردعا نفع مند نہ ہوتی تو حضرت نوح علیہ السلام یہ دعا ہر گز نہ فرماتے
3۔۔۔ والذین جاؤامن بعد ہم یقولون ربنا اغفر لنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان (الحشر)
اور بعد والوں کی دعا اولین کو پہنچ رہی ہے اسی کو ایصال ثواب کہا جاتا ہے
4۔۔۔ والملائکۃ یسبحون بحمد ربہم ویستغفرون لمن فی الارض
اب دیکھیئے ملائکہ اہل ارض کے لئے طلب مغفرت کررہے ہیں اور انکی دعاؤں کا فائدہ بھی پہنچ رہاہے (یہی ایصال ثواب ہے )
5۔۔۔ ربنا اغفرلی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب
میں بات بالکل واضح ہے کہ قیامت تک آنے والے مؤمنین کے لئے دعا مغفرت کی جارہی ہے ۔اگر زندہ کی دعا نفع مند نہیں تو پھر نعوذ باللہ یہ دعا بیکار جائیگی ۔
ناظرین مکرم:۔
ان آیات طیبات سے مسئلہ روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ زندہ کانیک عمل مرنے والے کو فائدہ دیتا ہے جبہی تو قرآنی دعاؤں میں ان کے لئے مغفر ت طلب کی جارہی ہے اگر یکجا اس مسئلہ پراحادیث طیبہ کا مطالعہ مقصود ہوتوتفسیر مظہری تحت آیت ان لیس للانسان الاما سعی دیکھی جاسکتی ہے
ایک نہایت غور طلب بات:۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ زندہ کا نیک عمل مردہ کے لئے مفید نہیں تو پھرنماز جنازہ کا بھی انکار کرنا ہوگا کیونکہ وہاں بھی تو زندہ مؤمن مرنے والے کے لئے اللہم اغفرلحینا ومیتنا الخ کہہ کر طلب مغفر ت کررہے ہیں ۔
1۔۔۔اسی بات کو علامہ علی قاری حنفی شرح فقہ اکبر ص۲۲۴ پر بایں طور ذکر فرماتے ہیں۔
علی انہ قدوردالاحادیث الصحیحۃ من الدعاء للاموات خصوصاً فی صلاۃ الجنازۃ
2۔۔۔ علامہ ابوحفص دمشقی متوفی ۸۸۰ھ فرماتے ہیں
الصلاۃ علی المیت والدعالہ فی الصلوٰۃ انتفاع للمیت بصلوۃ الحی علیہ وہو عمل غیرہ :
اللباب ج[۱۸]صفحہ[۲۰۵]
ذرا ہمت سے کام لیں :۔
اور یہ وصیت کرکے مریئے کہ نماز جنازہ نہ پڑھی جائے کیونکہ بزعم شمازندہ کا عمل مرنے والے کے لئے مفید نہیں ہوتا۔
ان دلائل کے بعد اگرچہ اور کسی چیز کی ضرورت نہیں مگر پھر بھی اکابر کی سن لیں کیونکہ ہم تک وصول علم انہیں کے طفیل ہوا ہے
1 ۔۔۔جمہور ائمہ اور امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک جس طرح دعا اور صدقہ کا ثواب دوسرے کو پہنچایا جاسکتا ہے اسی طرح تلاوت قرآن او ر ہر نفلی عبادت کا ثواب دوسرے شخص کو بخشا جاسکتا ہے
معارف القرآن جلد[۸ ]صفحہ[ ۲۱۹]
2۔۔۔بان المسلمین ماز الوا فی کل عصریجتمعون ویقرؤن لموتی بہم من غیر نکیر وکان ذلک اجماعاً
شرح الصدور صفحہ[۱۳۴]
3۔۔۔واما قرأۃالقرآن واہداؤہالہ تطوعاًبغیر اجرۃ فہذا یصل الیہ کمایصل ثواب الصوم والحج
کتاب الروح صفحہ [۱۹۱]
4۔۔۔قلت وکثیرمن الاحادیث یدل علی ہذاالقول وان المؤ من یصل الیہ ثواب العمل الصالح من غیرہ
تفسیر قرطبی جلد [۱۷]صفحہ[۱۱۴]
5۔۔۔قال الشیخ تقی الدین ابو العباس احمدبن تیمیہ من اعتقد ان الانسان لاینتفع الابعملہ فقد خرق الاجماع :اللباب جلد [۸ا]صفحہ [۲۰۴]
6۔۔۔حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اما ھذہ الامۃ فلہم ماسعوا وماسعی لہم غیرہم : اللباب جلد [۱۸]صفحہ[۲۰۴]
7 ۔۔۔فذہب ابوحنیفہ ؒ واحمد ؒ الی وصول ثواب قرأۃالقرآن الی المیت ۔
عمدۃالقاری جلد [۲] صفحہ[۵۹۸]
ان تمام اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ میت ایصال ثواب کی صورت میں زندہ مؤمن کے اعمال صالحہ سے منتفع ہوتی ہے
ایک غلط فہمی کا ازالہ :۔
بعض احباب ان لیس للا نسان الاماسعٰی تلاوت کرکے کہہ دیتے ہیں جی ہرایک کو اپنے اعمال کا ثمر ملے گا دوسرے کا نہیں۔
تو اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ ذرا آیت کو اچھی طرح سمجھ لیں اس میں صرف اتنا ہے کہ ہر ایک کو اپنے عمل کا ثواب ملے گا ۔یہ کہیں نہیں کہ وہ نیکی کرنے والا اپنی نیکی کا ثواب کسی مؤمن کو منتقل بھی نہیں کرسکتا۔ ایصال ثواب کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ یا اللہ میری نیکی کاجو ثواب میرے حصہ میں آیا ہے وہ فلاں مؤمن کو بخش دے اس کی ممانعت سے یہ آیت مطلقاً خاموش ہے ۔لہذا ان حضرات کا اس آیت سے استدلال درست نہیں۔
رہا الامہ صاحب کا یہ تحریر کرنا کہ اگر کسی کو چند سورتیں یا آیات یاد ہوں تو خود اس کے فائدہ کے لئے ہوتی ہیں دوسرے کی طرف اس کا فائدہ منتقل نہیں ہوسکتا۔ کا ش اس دعوی پر آپ ایک واضح آیت ہی پیش کردیتے مگر ہمت کہاں؟
EE
تعارض نمبر{13}
از روئے قرآن وحدیث وضو کے لئے پانی کا پاک ہوناضروری ہے مگر امام بخاری نے امام زہری کا قول بخاری شریف صفحہ [۲۹]پربلاتردید نقل کردیا ہے کہ اگر سوائے کتے کے جھوٹے کے اور پانی میسر نہ ہوتو اس سے وضو کرلیا جائے پھر امام بخاری یہ روایت بھی لاتے ہیں کہ اگر کتا کسی برتن سے پی جائے تو اسے سات مرتبہ دھویا جائے ‘نیز الامہ لکھتے ہیں
اس (امام زہری )پر امام بخاری اتنے عاشق ہیں کہ اسی کے قول کو اپنا مذہب بنا کر درج کرتے ہیں ۔بلفظہ قرآن مقدس بخاری محدث ص[ ۳۴]
J جواب L
یہاں تین باتیں سمجھنے کی ہیں
1۔۔۔ زہر ی کا قول قرآن سے ٹکراتا ہے۔
2۔۔۔امام بخاری کا یہ مسلک ہے کہ سورکلب پاک ہے۔
3۔۔۔امام بخاری رحمہ اللہ نے بوجہ نسیان پہلے سور کلب کا پاک ہونا نقل کیا اور بعد میں اس کے پلید ہونے کی حدیث نقل کی ۔
جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو اس کے نقل کرنے کے سبب امام بخاری کو مطعون کرنا دیانت کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے تو بغیر دلائل دیئے ایک مسلک بیان فرمادیاہے اور یہی مسلک ائمہ اربعہ میں سے امام مدینہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ کاہے۔
فقالت الظاہر یۃ والامام مالک ؒ لا ینجس الماء بملا قاۃ النجاسۃ مالم یتغیراحد اوصافہ الثلثۃ
اوجزالمسالک جلد[۱] صفحہ[۵۲]
اگر اعتراض کرناہے تو پھر حسب عادت شریفہ قلم سنبھالیے اور امام مالک رحمہ اللہ کے متعلق آزادانہ رائے قائم کرکے خسر الدنیا والاخرۃ کا مصداق بنیئے ۔ کیونکہ امام مالک رحمہ اللہ پہلے کے آدمی ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ بعد کے۔
یاد رکھیں امام مالک رحمہ اللہ کی وفات ۱۷۹ میں اور امام بخاری رحمہ اللہ کی ولادت ۱۹۴ میں ہورہی ہے تقریباً پندرہ برس کا فاصلہ ہے امام مالک رحمہ اللہ کی وفات اور امام بخاری رحمہ اللہ کی ولادت کے درمیان۔
اور اگر جناب والا نے دلائل دیکھنے ہوں تو فقہ مالکیہ کی کتب کا مطالعہ فرماویں ۔ خواہ مخوہ امام بخاری رحمہ اللہ کے خلاف باتیں کرکے آخرت تباہ نہ کریں۔
رہی دوسری بات الامہ کاا سے (سور کلب کا پاک ہونا ) امام بخاری کا مسلک قرار دینا بھی درست نہیں کیونکہ محدث العصر حجۃ اللہ علی الارض سید محمد انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
امام بخاری سے یہ بات مستبعد ہے کہ وہ لعاب کلب کی طہارت کے قائل ہوں جبکہ اس باب میں قطعیات سے نجاست کا ثبوت ہوچکا ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام بخاری نے دونوں طرف کی احادیث ذکرکر دی ہیں ناظرین خود ہی کوئی فیصلہ کرلیں کیونکہ یہ بھی ان کی ایک عادت ہے ۔ انوار الباری جلد[۷] صفحہ[۴۶۸]
جہاں تک تیسری بات کا تعلق ہے جناب والاامام بخاری کو نہ نسیان ہوا ہے نہ غشیان بلکہ یہ آپ کی کم علمی وکم فہمی کاشاخسانہ ہے۔حضرت امام بخاری ؒ اس باب میں بلاترجیح مختلف مذاہب اور ان کے ادلہ کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں ۔
یہی بات حاشیہ نمبر[۵]پر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
2۔۔۔ علامہ عینی حنفی رقمطرازہیں ۔
فلم لایجوز ان یکون غرضہ بیان مذاہب الناس بل الظاہر ہذا۔عمدۃ القاری جلد[۲] صفحہ[۴۸۷]
حضور بات کوئی بھی قابل گرفت نہ تھی یہ صرف جناب کی کج فہمی کا شاخسانہ ہے۔
EE
تعارض نمبر{14}
قرآن مقدس سیرت رسول اجماع صحابہ وتابعین ائمہ مجتہدین اور تمام امت اس پر متفق ہے کہ پیشاب کسی انسان کسی کاہویاکسی جاندار کا ہووہ ناپاک اور پلید ہوتا ہے کوئی ایک اشارہ تک شرع اسلام میں ایسا نہیں پایا جاتا جس میں پیشاب کو پاک کہا گیا ہو خواہ وہ نبی کا کیوں نہ ہو ۔۔۔۔۔۔
امام بخاری باب باندھتے ہیں باب الصلوٰۃ فی الجبۃ الشامیۃ لیکن اس کے تحت اپنے امام استاذ حدیث جناب زہری کا فعل بلا نکیر ذکر فرماتے ہیں بذریعہ معمر کے کہ قال معمر رایت الزھری یلبس فی ثیاب الیمن ماصبغ بالبول
یمن کے یہودی اور مجوسی جس کپڑے کو نجس پیشاب کے ساتھ رنگا کرتے تھے جناب زہری صاحب وہی کپڑے پہنا کرتے تھے ۔بلفظہ
قرآن مقدس بخاری محدث صفحہ[۳۵]۔[۳۶]
J جواب L
یہاں بھی تین مسئلے قابل توجہ ہیں
1۔۔۔ کیا ہر قسمی جاندار کے پیشاب کی حرمت پر صحابہ تابعین ائمہ مجتہدین اور تمام امت کا اجماع ہے ؟
2۔۔۔ امام زہری نے پیشاب سے رنگا کپڑا کیوں پہنا؟
3۔۔۔ کیا نبی کا پیشاب بھی پلید و ناپاک ہے ؟
یقین جانئیے:۔
الامہ کے یہ جملے (قرآن مقدس سیرت رسول اجماع صحابہ و تابعین ائمہ مجتہدین اور تما م امت اس پر متفق ہیں کہ پیشاب کسی انسان، کسی جاندار کا ہو وہ ناپاک وپلید ہے ) پڑھ کر مبتدی طالب علم بھی سمجھ سکتا ہے یہ کسی دیوانے کی بڑ ہے یا کسی کتب دینیہ سے مطلقاً ناواقف کے اول فول ہیں۔
واقعی خدا بڑی منتقم ذات ہے جس شخص نے ساری زندگی علماء اسلام کی علمی حیثیت کا مذاق اڑایا دست قدرت نے یوں انتقام لیا کہ ایک مشہور مختلف فیہ مسئلہ (بول مایؤکل لحمہ) کو اس کے ہاتھوں امت کا اتفاقی مسئلہ لکھوا کر اس کی علمیت کا بھانڈا چوارہے پر چور کر دیا ‘
یہ بات تواصول الشاشی صفحہ[ ۲ ۲]اور نور الانوار صفحہ[ ۷۲] پڑھنے والا بھی جانتا ہے کہ ائمہ مجتہدین کا باہم اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ بول مایؤکل لحمہ (جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب )پاک ہے یا ناپاک ہے تو حضرت امام مالک ،حضرت امام احمد، حضرت امام محمد ،حضرت شعبی،حضرت عطاء ،حضرت نخعی، ؒ حضرت زہری ،حضرت ابن سیرین (رحمہم اللہ علیہم اجمعین )وغیر ہم کے نزدیک بول مایؤکل لحمہ پاک ہے
ملاحظہ ہو عمدۃ القاری جلد[۲] صفحہ[۶۴۹]
ان مالکاً استدل بھذاالحدیث علی طہارۃ بول مایؤکل لحمہ وبہ قال احمد و محمد بن الحسن والا صطخری والرویانی الشافعیان وہو قول الشعبی وعطاوالنخعی والزھری وابن سیرین والحکم الثوری ۔
نیز اس قسم کی عبارت ارشاد الساری جلد[۱] صفحہ[۵۴۰]پر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
اب کہاں گیا الامہ کا اتفاق امت وائمہ مجتہدین کا دعوی؟
نیز ترمذی شریف جلد[ ۱] صفحہ[۲۹]باب ماجاء فی بول یو کل لحمہ کے تحت حدیث عرنیین نقل کر کے امام ترمذ ی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہذا حدیث حسن صحیح یہ اور بات ہے کہ احناف میں حضرت امام اعظم اور امام ابو یوسف رحمہما اللہبول مایؤ کل لحمہ کی نجاست کے قائل ہیں بوجہ دلائل شرعی کے۔اور حدیث عرنیین کا جواب بھی ارشاد فرماتے ہیں ۔ملاحظہ ہوھدایہ شریف
ناظرین کرام:۔
یہ ہے علمی پوزیشن اس شخص کی جو بزعم خویش اناولاغیری کا مدعی ہے
تکبر عزازیل راخوار کرد
بزندان لعنت گرفتار کرد
رہا زہری کا ایسا کپڑا استعمال کرنا جوکہ صبغ بالبول ہے
علماء نے اس کے دوجواب ارشاد فرمائے ہیں جس مصبوغ بالبول کپڑے پہننے کے سبب امام زہری پر اعتراض ہورہاہے۔
1۔۔۔ یا تو وہ رنگنے کے بعد دھویا ہوا تھا۔ اور اگر دھوئے بغیر استعمال پر آپ مصرہیں تو اس پر دلیل پیش فرمائیں ۔
2۔۔۔ یا پھر وہ بول مایؤکل لحمہ سے مصبوغ تھا جو کہ بعض ائمہ کی طرح زہری کے نزدیک بھی پاک ہے۔
تسلی کے لیے دیکھئے :۔
ارشاد الساری جلد[۲] صفحہ[۲۳]
عمدۃ القاری جلد[۳] صفحہ[۲۸۱]
فتح الباری جلد[۲]صفحہ[۷۵]
ماصبغ بالبول ای بعد ان یغسلہ اوالمراد بول الما کول وہو طاہر عند الزہری
نبی ﷺکے پیشاب کا مسئلہ
بجائے اس کے کہ میں خود کوئی گذارش کروں فقہ کی مشہور کتاب شامی شریف جلد[۱] صفحہ[۳۱۸]کو ہی دیکھ لیتے ہیں اس میں لکھا ہے
صحح بعض ائمۃ الشافعےۃ طہارۃ بولہ اوسائر فضلاتہ وبہ قال ابوحنیفہ
امام اعظم ابوحنیفہؒ اور بعض مشائخ شوافع کے نزدیک بول وفضلات رسالت مآب اپاک ہیں
2۔۔۔ خیر الفتاوی جلد[ ۱] صفحہ[۳۲۹]
علماء اہل السنۃ والجماعۃ کا مذہب یہ ہے کہ آنحضرت اکے فضلات طاہر ہیں۔
3 ۔۔۔شرح زرقانی علی المواہب اللدنیۃجلد[۵] صفحہ[۵۵۱۔۵۵۲]پرکافی روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔
وفی ہذہ الاحادیث دلالۃ علی طہارۃ بولہ ودمہ اقال النووی فی شر ح المہذب واستدل من قال بطہارتہما بالحدیثین المعروفین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وبہذا قال ابوحنیفہ
4۔۔۔ فتاوی محمودیہ جلد[۱۲] صفحہ[ ۱۱۷]
حضرت نبی کریم اتمام مخلوقات میں سب سے زیادہ طاہر اطہر مزکی تھے آپ کی کوئی چیز نجس نہیں۔
5 ۔۔۔انوار الباری جلد[۷] صفحہ[ ۴۴۹]
فضلات انبیاء کرا م علیہم السلام کی طہارت کا مسئلہ مذاہب اربعہ کا مسلم طے شدہ مسئلہ ہے۔
6۔۔۔ محقق عینی حنفی آنحضرت اکے بالوں کی طہارت کے بیان میں فرماتے ہیں جب آپ کے فضلات پاک ہیں توبال بطریق اولی پاک ہیں۔
وقد قیل بطہارۃ فضلاتہ فضلا عن شعرہ الکریم
عمدۃ القاری جلد[ ۲] صفحہ[۴۸۱]
اگر مقدر یاوری کرے تو سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے باقی ضد اور ہٹ دھرمی کا علاج کسی کے پاس نہیں ۔
EE
تعارض نمبر{15}
قرآن کریم نے حضرات صحابہ کرام کے متعلق اولئک ہم المؤمنون حقاً فرمایا ہے مگر امام بخاری صفحہ [۱۲]پرروایت نقل کرتے ہیں ادرکت ثلثین من اصحاب النبی کلہم یخاف النفاق علی نفسہ میں نے تیس صحابہ کو پایا کہ وہ سب اپنے بارے میں نفاق سے خائف تھے ۔
J جواب L
کہاں اہل اللہ کے حالات اورکہاں احمد سعید چتروڑی آپ کو کس نے کہا ہے کہ ایمان کے بعد خوف دل سے نکل جاتا ہے بلکہ خوف خدا تو اور بڑھ جاتا ہے۔
ایمان اور خوف متضادچیزیں نہیں
1۔۔۔فلا تخافوہم وخافون ان کنتم مؤمنین
2۔۔۔ولمن خاف مقام ربہ جنتان
3۔۔۔فلا یأمن مکر اللہ الا القوم الکافرون
4۔۔۔قدافلح المؤمنون* الذین ہم فی صلوٰتہم خاشعون
5۔۔۔یعباد فاتقون
6۔۔۔ والذین آمنواوہم یتقون
اور ڈھیر ساری اس قسم کی آیات طیبات
بلکہ یہ حضرات ڈرتے ہیں کہیں کسی بات پر کسی وقت خالق ناراض نہ ہوجائیں اسی کو الایمان بین الخوف والرجاء میں بیان کیا گیا ہے جتنا کسی کا مقام زیادہ بڑا ہوتا ہے اتنی فکر زیادہ ہوتی ہے۔
اسی لئے صوفیاء کرام فرماتے ہیں کرتے رہو اور ڈرتے رہو
اندریں راہ می تراش ومی خراش
تادمے آخر دمے فارغ مباش
اصحاب رسول اکے خوف کا منشاء انتہائی ورع وتقوی وپرہیز گاری اور کمال فی الایمان تھا۔نعوذ باللہ نقص فی الایمان نہ تھا۔
چونکہ ان حضرات نے طویل عمریں پائیں اپنی آنکھوں سے شرع شریف پر عمل کے معاملہ میں لوگوں کے اندر تغیر پایا مگر قدرت نہ ہونے کے سبب خاموش رہے اب اسی خاموشی پر خوف زدہ ہیں کہ کہیں یہ مداہنت و نفاق نہ ہو
ان معروضات کا خلاصہ یہ نکلا نفاق اور چیز ہے خوف نفاق اور چیز ہے
اسی کو بیان فرماتے ہیں علامہ قسطلانی رحمہ اللہ
انما ذالک علی سبیل المبالغۃ منہم فی الورع والتقوی اوقالوا ذلک لکون اعمارہم طالت حتی رأوا من التغیرمالم یعہدوہ مع عجز ہم عن انکارہ فخافواان یکونواداہنوا بالسکوت ۔
ارشاد الساری جلد[۱] صفحہ [۲۳۴]
EE
تعارض نمبر{16}
امام بخاری نے صفحہ [۱۵]پرروایت نقل کی ہے کہ حضرت انس Z فرماتے ہیں نہینا فی القرآن ان نسأل النبی اہمیں قرآن کریم میں آنحضرت اسے سوالات کرنے سے منع کردیا گیا تھا
جبکہ قرآن کریم میں فاسئلو ا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون کا ارشاد ہے تو حضور اسے بڑھ کر اہل ذکر کون ہوسکتا ہے ؟لہذا قرآن وبخاری میں تعارض ثابت ہوا۔
J جواب L
نامعلوم میرا مخاطب کس اندر کے روگ کا روگی ہے کہ بات بنے نہ بنے امام بخاری پر اعتراض کرناہے جناب فاسئلوااہل الذکر میں جن سوالات کا ذکر ہے وہ ہیں ضروری اوربامقصد سوال اوربخاری میں نھینا فی القرآن ان نسأل النبی امیں جن سوالات سے ممانعت ہے وہ ہیں غیر ضروری اور بے مقصد سوالات ۔
بطور دلیل زیر نظر رہے آیت کریمہ یایھا الذین آمنوالاتسئلوا عن اشیاء ان تبدلکم تأو کم وان تسئلو ا عنہا حین ینزل القرآن تبدلکم عفااللہ عنہا واللہ غفور حلیم
یعنی اے ایمان والو جو چیزیں شارع نے تصریحاً نہیں فرمائیں ان کے متعلق فضول اور دور از کار سوالات مت کرو کیونکہ قرآن کریم نازل ہورہاہے اور تشریح کا باب مفتوح ہے تو بہت ممکن ہے کہ سوالات کے جواب میں بعض ایسے احکام نازل ہوجائیں جس کے بعد تمھاری یہ آزادی باقی نہ رہے پھر یہ سخت شرم کی بات ہوگی کہ جو چیز خو د مانگ کر لی اسکو نباہ نہ سکیں (ملخصاً تفسیر عثمانی )
خلاصۃ الکلام:۔
حدیث میں آداب نبوی ااورآداب شرع کی تعلیم کا ذکر ہے مگروہ کیسے سمجھے جس کی ساری زندگی بے ادبی میں گذری ہو۔
EE
تعارض نمبر{17}
قرآن کریم کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول آنحضرت ا کے تربیت یافتہ تھے اللہ کے نبی انے ان کو پاک کیا مگرامام بخاری صفحہ [۳۵]پرروایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ادو قبروں پر سے گذرے اور فرمایا ان کو عذاب ہورہا ہے ایک چغل خور تھا دوسرا پیشاب کے معاملہ میں بد احتیاط تھا( ملخصاً)
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صحابی رسول اسے ایسے کام سرزد ہوں ؟
J جواب L
ناظرین مکرم :۔
درج بالا خلاصہ سے یہ ہرگز نہ سمجھیں کہ جناب چتروڑی کو محبت اصحاب رسول اکھائے جارہی ہے اور وہ اسی غم میں نڈھال ہوئے جارہے ہیں کہ ہائے امام بخاری نے ایک ایسی روایت نقل کردی ہے جس سے اصحاب رسول اکی توہین کا اشارہ ملتا ہے ۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں
بلکہ حضرت کے قلبی اضطراب اور حواس باختہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ اس حدیث سے عذاب قبر ثابت ہورہا ہے ۔اور آپ ہیں( معتزلہ کے نقش قدم پر چلنے کے سبب) عذاب قبر کے منکر
یہ ہے وہ اندر کا روگ جسے ہم نے سمجھ لیا حضور آپ لاکھ رنگ بدلیں، سنگ بدلیں مگر
ع۔۔۔ تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں
محقق عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔
فیہ ان عذاب القبرحق یجب الایمان بہ والتسلیم لہ وعلی ذلک اہل السنۃ والجماعۃ خلافا للمعتزلۃ۔
عمدۃ القاری جلد[۲] صفحہ[۵۹۷]
یعنی اس حدیث سے عذاب قبر کا حق ہونا واضح ہوتا ہے
قبروں والے کون تھے؟
رہایہ مسئلہ کہ وہ قبروں والے کون تھے مؤمن یا کافر بہرحال کافر تو نہیں کہا جاسکتا کیونکہ حضرت افرمارہے ہیں لعلہ ان یخفف عنہما
یہی فرماتے ہیں علامہ قسطلانی رحمہ اللہ :۔
لا یجوزان یقال انہماکانا کافرین لانہما لو کانا کافرین لم یدع لھما۔ارشاد الساری جلد[۱] صفحہ[۵۱۶]
اور مؤمن ہونے کے بعد صحابی رسول اتھے یا غیر صحابی ۔تو ہمیں باوجود تتبع کے یہ نہیں مل سکا کہ وہ صحابی رسول اتھے (البتہ من ادعی فعلیہ البیان )
اگر واقعی یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچتی ہے تو پھر کسی قسم کا کوئی اشکال نہ رہا کیونکہ جب وہ صحابہ میں سے نہ تھے تو تعارض نہ بن سکا اور اگر بالفرض والتقدیر والمحال وہ حضرات صحابی رسول اللہ اتھے تو یاد رکھیں صحابہ کرام معصوم عن الخطاء نہیں محفوظ عن الخطاء ہیں۔
ونحن المسلمین لانعتقد العصمۃ لا حد بعد رسول اللہ اکل من ادعی العصمۃ لاحد بعد رسول اللہ افہو کاذب ۔ مقدمہ علی العواصم من القواصم صفحہ[۵]
EE
تعارض نمبر{18}
قرآن کریم فرماتا ہے لا یمسہ الاالمطہرون نیز احادیث صحاح بھی تصریح کررہی ہیں کہ قرآن پاک کی تلاوت ناپاک بدن سے نہیں کی جاتی ۔
مگر امام بخاری نقل کرتے ہیں لم یر ابن عباس بالقرأۃللجنب بأ ساً کہ ابن عباس کے نزدیک جنبی قرآن کی قرأت کرسکتا ہے ۔بخاری شریف صفحہ[۴۴]
یہ کیسے ہوسکتا ہے قرآن کچھ کہے۔ ابن عباس کچھ کہیں؟
J جواب L
واقعی تعصب سے ظاہری وباطنی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں
جناب آنکھیں کھولیں قرآن حکیم ناپاک کے ہاتھ لگانے سے منع فرمارہے ہیں اور ابن عباس Z ناپاک آدمی کے لیے تلاوت کا جواز بیان فرمارہے ہیں۔ ہاتھ لگانا اور ہوتا ہے اور قرأت کرنا اور ہوتا ہے لہذا ابن عباس Z کا اثر قرآن سے نہیں ٹکراتا
تعجب ہی تعجب :۔
خدا معلوم اب کیسے احادیث صحاح یاد آرہی ہیں اور الامہ صاحب رقمطراز ہیں کہ نیز احادیث صحاح بھی تصریح کررہی ہیں کہ قرآن کی تلاوت ناپاک بدن سے نہیں کی جاتی
کیا ہی اچھا ہوتا حضور والا صحاح احادیث کے شرائط ہی بیان کردیتے تاکہ ہمیں معلوم ہوجاتا آپ کس پانی میں ہیں ۔
آپ کا معیا رکیا ہے ۔جوکچھ ہم سمجھے ہیں آپ کا معیا رآپ کی عقل ناقص اور فہم نارسا ہے ۔جوکہ اہل علم کے نزدیک سو فیصد غلط ہے ۔
ابن عباس Z کا جنبی کے لئے قرأۃ کا اجازت دینا اس کے متعلق علماء نے جو کچھ لکھا ہے اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ
(۱)۔۔۔ ابن عباس Z کی منشایہ ہواگر کوئی شخص ایک آدھ آیت کو حالت جنابت بغرض دعا پڑھ لے یا بطور ذکرپڑ ھ لے تو جائز ہے ۔جیسے جمہور کے نزدیک اگر کوئی شخص بحالت جنابت ربنا اتنا فی الدنیاء حسنۃالخ آیت بغرض دعا پڑھ لے تو جائز ہے لیکن تلاوت کی غرض سے جائز نہیں۔
انعام الباری جلد[۲] صفحہ[۴۷۳]نیز شامی شریف جلد[۱] صفحہ[۲۹۳] پر موجود ہے
و لا بأس لحائض وجنب بقرأۃ ادعیۃ ومسہا وحملہا وذکراللہ تعالیٰ وتسبیح
فلو قرأت الفاتحۃ علی وجہ الدعاء اوشیئاً من الایات التی فیہا معنی الدعاء ولم ترد القرأۃ لابأس بہ
EE
تعارض نمبر{19}
قرآن مقدس میں ایک نہیں بیسیوں آیات صراحت کے ساتھ کہتی ہیں کہ موت کے بعد کوئی مردہ نہیں سن سکتا نیز مردہ پردہ میں دفنا دیا گیا اور پس پردہ سننا یہ بھی اللہ کی صفت ہے جس طرح موت میں سب برابر ہیں اسی طرح نہ سننے میں بھی سب برابر ہیں ۔۔۔۔۔۔میت نبی ابھی نہیں سن سکتا ۔
امام بخاری قرآن کے ظاہرکے خلاف صراحت سے کہتے ہیں باب المیت یسمع خفق النعال او رنیچے باندھے ہوئے باب کو پرکشش بناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب مردہ دفن کرکے لوگ واپس ہونے لگتے ہیں تو مردہ یسمع قرع نعالہم ان کے جوتوں کی آہٹ بھی سن لیتا ہے ۔یہ حال ہے امیرالمحدثین کا۔
قلیب بدر کے موقع پر ابن خطابZ اور دیگر صحابہ کرام چونک پڑتے ہیں کہ یارسول اللہ اہم کو تو آپ نے پڑھایا ہے کہ مردے نہیں سنتے اب آپ کیف تکلم اجسادًالاارواح لہا وقال اللہ انک لا تسمع الموتی۔۔۔۔۔۔امنا صدیقہ نے توظاہرعبارت قرآن سے ثابت کیا کہ مردوں کا سننا قرآن کے ظاہر حکم کے خلاف ہے ۔۔۔۔۔۔بہر حال یہ حدیث کے عنوان سے روایت قطعاً غلط اور جھوٹ ہے
J جواب L
لاکھ چھپا یا راز محبت نہ چھپ سکا
آنکھوں نے روکے یار سے اظہار کردیا
برادران اسلام :۔
یہ تھی اصل تکلیف نام نہاد امام انقلاب شیخ التفسیرو الحدیث کو امیرالمؤمنین فی الحدیث امام بخاری نور اللہ مرقدہ سے ماقبل ومابعد کے تمام تعارض تو محض دکھلاوہ تھے۔
کبھی آپ نے سوچا یہ روایات جو الامہ کے نزدیک محل نظر ہیں دیگر کتب احادیث میں بھی موجود ہیں مگرامام بخاری ہی اکیلے مطعون کیوں ٹھہرائے گئے اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح مستقل (باب المیت یسمع خفق النعال۔باب قول المیت وہوعلی الجنازۃقدمونی) ابواب باندھ کر اس ذہنیت کے حامل لوگوں پر امام بخاری نے نقض صریح فرمائی اسی طرح اور کسی نے نہیں کی ۔
معلوم ہوتا ہے ۲۴۱ ھ سے پہلے پہلے لگی ضرب کاری کی ٹیسیں ابھی تک چین نہیں کرنے دے رہیں۔
جناب والا:۔
آپ نے جب یہ جملے (بہر حال یہ حدیث کے عنوان سے روایت قطعاً غلط اور جھوٹ ہے ) سپرد قلم کیئے تھے آپ کا فرض بنتاتھا اسکی تائید میں سنی شارحین بخاری کے اقوال درج کرتے سند پر بحث کرتے ہوئے اہل فن کی جرح نقل کرتے کیونکہ روایت کا مدار سند پر ہوتا ہے مگر آپ اس سے قاصر وعاجز رہے جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ چاند کی طرف تھوکنے والے اور سورج کا منہ چڑھانے والے آپ اکیلے ہی ہیں۔
آپ کی بات کیسے مانیں ؟
پوری امت کی مخالفت میں آپ کی بات کیسے مانیں نہ آپ محدث، نہ مفسر، نہ فقیہ، نہ اچھی زبان استعمال کرنے والے خطیب، نہ علماء ربانیین میں آپ کا شمار، بلکہ جناب کا اخلاق بھی ابھی تک موضوع سخن بنا ہوا ہے۔
بادہ عصیاں سے دامن تر بتر ہے شیخ کا
پھر بھی دعوٰی ہے کہ اصلاح دوعالم ہم سے ہے
الامہ کی بے بسی
الامہ کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ اپنے دعوٰی (قرآن مقدس میں ایک نہیں بیسیوں آیات صراحت کے ساتھ کہتی ہیں کہ موت کے بعد کوئی مردہ نہیں سن سکتا ) پر ایک آیت بھی پیش نہ فرماسکے آپ ان کی تازہ تالیف قرآن مقدس بخاری محدث ص [۴۳]۔[۴۵] بار بار پڑھیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ کوئی ایک آیت اپنے اس دعوی خاص پر (موت کے بعد کوئی مردہ نہیں سن سکتا ) پیش کرسکے ہوں قرآن کے نام پر احادیث کے انکاری اور اقوال سلف سے اعراض کرنے والے کا حق تھا اپنے دعوٰی کو دلائل سے مبرہن کرتا مگر افسوس
آئے ہیں وہ میری کرنے آشفتہ حالی کا علاج
بکھرے ہوئے جو اپنے گیسو بنا سکتے نہیں
مسئلہ عذاب قبر و سماع موتی
عذاب قبر اور اعادہ روح :۔
اس بات پر اجماع ہے کہ عذاب قبر روح مع الجسد کو ہوتا ہے۔
1 ۔۔۔انعقد الاجماع ان عذاب القبر علی الروح والجسد : تفسیر مظہری صفحہ[ ۷۷] سورۃ ق
2۔۔۔ثم المعذب عند اہل السنۃ الجسدبعینہ اوبعضہ بعد اعادۃ الروح الیہ:
نووی علی المسلم جلد[۲] صفحہ[ ۳۸۶]
اہل السنۃ کے نزدیک جسم کو عذاب ہو تا ہے بایں طور کہ روح کا کل یا بعض جسم کیطرف اعادہ کیا جاتا ہے۔
3۔۔۔وقد اجمع اہل السنۃ علی اثبات حیاۃ القبور وقال امام الحرمین وقدا تفق سلف الامۃ علی اثبات عذاب القبر واحیاء الموتی فی قبورہم ورد الارواح فی اجسادہم
شفاء السقام :صفحہ[۱۵۱]
اہل قبور کی حیات پراہل السنۃ کا اجماع ہے کہ امام حرمین فرماتے ہیں امت کے اسلاف کا عذاب قبر (قبور میں مردہ کے زندہ ہونے ) اجساد کی طرف ردارواح پر اجماع ہے ۔
4۔۔۔ بل العذاب والنعیم علی النفس والبدن جمیعاباتفاق اہل السنۃوالجماعۃ:
کتاب الروح صفحہ[۷۲]
اہل السنۃ والجماعۃ کا اتفاق ہے کہ عذاب وراحت روح وبدن دونوں کو ہوتی ہے ۔
5۔۔۔خالفہم جمہور فقالواتعاد الروح الی الجسد اوبعضہ کماثبت فی الحدیث فتح الباری جلد[۴] صفحہ[ ۱۶۰]
جمہور فرماتے ہیں روح کو لوٹا دیا جاتا ہے کل یا بعض جسد کی طرف جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے ۔
6۔۔۔ والجمہور علی عود الروح الی الجسد ۔
روح المعانی جلد[۱۱] صفحہ [۵۷[جز[ ۲۱]
جمہور کا مسلک یہی ہے کہ روح جسم کی طرف لوٹا دی جاتی ہے
7۔۔۔ واعلم ان اھل الحق اتفقوا علی ان اللہ تعالیٰ یخلق فی المیت نوع حیاۃ فی القبر قدر ما یتالم ویتلذذ
شرح فقہ اکبر :صفحہ[۱۷۲]
جان لے اہل حق اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ میت میں ایک خاص قسم کی حیات پیدا فرماتے ہیں جس کے سبب وہ قبر میں دکھ سکھ محسوس کرتا ہے
ان جید علماء اہل السنۃ نے اس بات کی تصریح کردی کہ عذاب قبر حق ہے اور ہوتا بھی روح مع الجسد کو ہے۔ منکرین عذاب قبر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسی طرح صراحت کے ساتھ اہل السنۃ والجماعۃ کا اجماعی واتفاقی مسلک اکابر کی قلم سے نقل کریں کہ عذاب قبر روح مع الجسد کے ساتھ باطل ہے ۔
منکرین عذاب قبر کا حکم
1۔۔۔ولا یجوزالصلوۃ خلف من ینکر شفاعۃ النبی وینکر کرام الکاتبین وعذاب القبر کذامن ینکر الرؤیۃ لانہ کافر ۔ خلاصۃالفتاوی :جلد [۱]صفحہ[۱۴۹]
جو شخص حضور ا کی شفاعت، کراماً کاتبین، عذاب قبر اور رؤیت باری تعالیٰ کا منکر ہو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں کیونکہ وہ کافر ہے
2۔۔۔ ولا یجوز الصلوٰۃ خلف منکر الشفاعۃ والرؤیۃ وعذاب القبر والکرام کاتبین لانہ کافر
فتح التقدیر جلد[۱] صفحہ [ ۳۵۰]
3۔۔۔ منکر الشفاعۃ لاہل الکبائر والرؤیۃ وعذاب القبر ومنکر الکرام الکاتبین کافر ۔
رسائل بحر العلوم صفحہ[۹۹]
اہل کبائر کے لئے شفاعت رؤیت باری تعالیٰ عذاب قبراور کراماً کاتبین کا منکر کافر ہے۔
ناظرین کرام :۔
میں کوئی مفتی نہیں صرف بڑوں کی بات کا ناقل ہوں ان عبارات سے اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ عذاب قبر اتنے ٹھوس دلائل سے ثابت ہے کہ فقہاء کرام کی ایک ذمہ دار جماعت اسکے منکر کو کافر کہہ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ سمجھ نصیب فرماویں ۔
قبر کسے کہتے ہیں ؟
لفظ قبر حقیقۃً اس گڑھے پر بولا جاتا ہے جس میں میت کے جسد عنصری کو رکھا جائے ۔بطور دلیل ملاحظہ فرماویں
1۔۔۔ولاتقم علی قبرہ (توبہ)
2۔۔۔وماانت بمسمع من فی القبور (فاطر)
3۔۔۔ثم اماتہ فاقبرہ (عبس)
4۔۔۔واذالقبو ر بعثرت (الانفطار)
یہ آیات مقدسہ قبر کامفہوم متعین کرنے میں واضح ہیں ۔
5 ۔۔۔فاذاہو برجل یمشی بین القبور وعلیہ نعلان ۔ مستدرک حاکم صفحہ [۳۷۳]ہذا حدیث صحیح الاسناد
آپ انے دیکھاایک آدمی جوتے سمیت قبور کے درمیان چل رہا تھا۔
بات واضح ہے وہ شخض اسی ارضی قبور کے درمیان چل رہا تھا۔
6 ۔۔۔صحابی رسول فاتح مصر حضرت عمرو بن العاصZ وصیت فرمارہے ہیں جب میری قبرپر مٹی ڈال چکو تو اقیمو احول قبری قدر ماتنحر الجزورویقسم لحمہا حتی استأنس بکم ۔ مسلم شریف جلد [۱]صفحہ[۷۶] میری قبر کے گرد اتنی دیر ٹھہرے رہنا جتنا اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکتا ہو تاکہ میں تم سے انس حاصل کرسکوں ۔تو حضرات اسی مٹی والی قبر کے گرد ہی جمع رہے ہونگے
7۔۔۔حضرت زید بن ثابتZ فرماتے ہیں حضرت ااپنے خچر مبارک پر سوا ر ہوکر بنو نجا رکے ایک باغ میں جارہے تھے اور ہم بھی ساتھ تھے اچانک خچر بدکا قریب تھا آپ ا کو گرا دیتا
فاذا اقبر ستۃ اوخمسۃ فقال یعرف اصحاب ہذہ الاقبر ۔قال رجل انا قال فمتی ماتوا قال فی الشرک فقال ان ہذہ الامۃ تبتلی فی قبورہا ۔
مسلم شریف جلد [۲]صفحہ [۳۸۶]
معلوم ہوا وہاں چھ یا پانچ قبریں تھیں آپ ا نے فرمایا ان قبروں میں مدفون لوگوں کو کوئی جانتا ہے ایک نے عرض کی میں جانتا ہوں یہ دور شرک میں فوت ہوئے تھے حضرت انے فرمایا کہ اس امت کا قبروں میں امتحان ہوتا ہے۔
دو باتیں واضح ہوئیں
(۱)۔۔۔لفظ قبر اسی ارضی قبر پربولا جارہا ہے کیونکہ نبی نجار کا باغ اسی زمین پر لگا تھا
(۲)۔۔۔اور اسی ارضی قبر میں عذاب بھی ہورہا ہے کیونکہ اسی حدیث میں آگے الفاظ ہیں اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوکہ تم مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دوگے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں جو عذاب قبر میں سن رہا ہوں تمھیں بھی سنادے ۔ان یسمعکم من عذاب القبر الذی اسمع منہ
8۔۔۔ منکر نکیر منافق سے سوال کرچکتے ہیں تو فیقال للارض التأمی علیہ فتلتئم علیہ ترمذی جلد [۱] صفحہ[۱۶۰]
زمین کو حکم ملتا ہے اس پر سمٹ کر اکٹھی ہوجا سو زمین اس پر سمٹ جاتی ہے
بات صاف ہے اسی زمین والی قبر کو سمیٹا جارہا ہے جوکہ حسی قبرہے۔
9۔۔۔ عبداللہ بن دینا رفرماتے ہیں ان ابن عمرؓ کان اذا اراد سفرااوقدم من سفرجاء قبر النبی افصلی علیہ ودعا ثم انصرف۔
مؤطا امام مالک جلد[۳]صفحہ[۴۸۱۔۴۸۲۔حضرت ابن عمر Z جب سفر پر جاتے یا سفر سے واپس آتے تو حضرت ا کی قبر اطہر پر حاضر ہو کر صلوٰۃ وسلام عرض کرتے ۔
اب حضرت ا کی قبر اطہر بھی تو اسی ارض مدینہ میں ہے ۔
J۔۔۔ مدینہ میں حضرت پاک انے شہداء احد دو دو، تین تین کو ایک ہی قبر میں دفن فرمایا کان یجمع الثلاثۃ والاثنین فی قبر واحد مستدرک حاکم جلد[۱ ]صفحہ[ ۳۶۵]
فرمائیے وہ قبریں کہاں تھیں؟ یقیناًیہی حسی قبریں تھیں۔
ان چار آیت قرآنیہ اور چھ احادیث طیبہ سے یہ بات سمجھنا بالکل آسان ہوگئی کہ لفظ قبر حقیقۃ اسی گڑھے پر بولا جاتا ہے جہاں جسد خاکی دفن کیا جاتا ہے کیونکہ بنی نجار کا باغ بھی اسی زمین پر تھا۔ اور خچر بھی یہیں بدک رہا تھا ۔کسی برزخی مقام میں تو نہیں تھا۔ نیز قبر اطہر آنحضرت ابھی اسی ارض مدینہ میں ہے اور ولاتقم علی قبرہ کا حکم بھی اسی ارضی قبر کے متعلق ہے ۔
الحا صل لفظ قبرکااطلاق حقیقۃ اسی گڑھے پر کیا جاتا ہے جس میں میت دفن ہوتی ہے اور مجازی طور پراس برزخی مقام پر بھی بولاجاتاہے جہاں میت یا اسکے اجزاء اصلیہ ہوں عام اس سے کہ وہ درندوں اور پرندوں کا پیٹ ہو یا دریا کی گہرائی ہو آتش کدہ ہو یا ہوا ہو ۔
فائدہ
مناسب معلوم ہوتا ہے ضمناًمختصر اندا ز میں برزخ کا مفہوم بھی عرض کردیا جائے۔ برزخ بمعنی پردہ وآڑ کے استعمال ہوتا ہے۔ علماء اسلام کے نزدیک موت سے لیکر قیام قیامت تک کے درمیانی وقت پر برزخ کا اطلاق ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ موت سے قیام قیامت تک کی کاروائی پردہ میں ہونے کے سبب اسے عالم برزخ کہا جاتا ہو۔خلاصہ یہ نکلا کہ مردہ جہاں ہے، جس حال میں ہے وہ عالم برزخ میں ہے ۔
عذاب قبر اور قرآن کریم
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے اور دفن ہونے کے بعد قبرمیں انسان کا دو بارہ زندہ ہوکر فرشتوں کے سوالات کا جواب دینا پھر امتحان میں کامیابی اور ناکامی پر ثواب وعذاب کا ہونا قرآن مجید کی تقریباً دس آیات سے اشارۃ اور رسول کریم ا کی ستراحادیث متواترہ میں بڑی صراحت و وضاحت کے ساتھ مذکور ہے ۔
معارف القرآن جلد[۵] صفحہ [۲۴۸]
مگرہم چند ایک بیان کرتے ہیں
1 ۔۔۔یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت فی الحیوۃالدنیاوفی الاٰخرۃویضل اللہ الظلمین ویفعل اللہ مایشاء (سورہ ابراہیم)
مضبوط کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیوی زندگی میں اور آخرۃ میں ناانصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور کرتا ہے اللہ جوچاہے ۔
یہ آیت قبر کی زندگی کے متعلق نازل ہوئی اورفی الاخرۃ سے مراد قبر ہے یعنی اللہ تعالیٰ منکر نکیر کے سوالوں کے جواب میں مؤمنین کو ثابت قدم رکھتے ہیں جبکہ ظالمین کو پھسلا دیا جاتا ہے ثابت قدم رہنے والا بھی روح مع الجسد ہے اور پھسلنے والا بھی روح مع الجسد ہے۔یہی بات عظیم المرتبت مفسرین قرآن بیان فرماتے ہیں۔
1۔۔۔ علامہ ابو حفص دمشقی متوفی ۸۸۰ھ فرماتے ہیں
والمشہور ان ہذاالآیۃ وردت فی سوال الملکین فی القبر اللباب جلد [۱۱] صفحہ[۳۸۲]
یہ بات مشہور ہے کہ یہ آیت قبر میں سوال وجواب کے مسئلہ میں نازل ہوئی۔
2۔۔۔ علامہ بغوی متوفی ۵۱۶ھ فرماتے ہیں ۔
وفی الاخرۃ یعنی فی القبرہذاقو ل اکثر المفسرین۔
معالم التنزیل جلد[۳]صفحہ [۳۳]
3۔۔۔امام فخرالدین رازیؒ فرماتے ہیں۔
والمشہور ان ہذاالآیۃ وردت فی السوال الملکین فی القبر وتلقین اللہ المؤمن فی القبر من ربک وما دینک ومن نبیک
4 ۔۔۔مفتی اعظم پاکستان حضر ت مفتی محمد شفیع ؒ فرماتے ہیں
ان سب حضرات صحابہ کرام نے آیت مذکورہ میں آخرت سے مراد قبر اور اس آیت کو قبر کے عذاب و ثواب کے متعلق قرار دیا ہے۔
معارف القرآن جلد[ ۵] صفحہ[۲۴۸]
یہی مسئلہ درج ذیل مقام پربھی دیکھاجاسکتاہے۔
5۔۔۔روح المعانی جلد[ ۷] صفحہ [ ۲۱۷]
6 ۔۔۔الصاوی جلد[۴] صفحہ[۱۰۲۲]
7۔۔۔تفسیر قرطبی جلد[۹] صفحہ[۳۶۳]
8 ۔۔۔تفسیر بیضاوی جلد[۵] صفحہ[۱۶۴]
9۔۔۔تنویر المقیاس صفحہ[۲۷۲]
J۔۔۔ تفسیر مظہری سورۃ ابراہیم صفحہ[۱۸]
K۔۔۔ تفسیر خاز ن سورۃ ابراہیم [ ۳۵]
L ۔۔۔تفسیر درمنثورسورۃ ابراہیم صفحہ[۷۹]
M ۔۔۔تفسیر ابن ابی زمنین متوفی ۳۹۹جلد[۱]صفحہ[۴۱۲]
N۔۔۔تفسیر جامع البیان جلد[۱۳]صفحہ[۲۵۶]
O ۔۔۔تفسیر ابن کثیرجلد[۲]سورۃ ابراہیم
آئیے اتمام حجت کے لیے آپ کو لے چلتاہوں امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی اکے دروازہ پر۔
صحابی رسول ا حضرت براء بن عازب Z فرماتے ہیں۔
ملاحظہ ہو علم حدیث کی شہرہ آفاق کتاب سنن نسائی ج۱ ص۲۲۴
عن النبی اقال یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت فی الحیٰو ۃ الدنیاوفی الآخرۃ قال نزلت فی عذاب القبر
حضرت انے اس آیت کاشان نزول عذاب قبر ہی ارشاد فرمایا ۔
برادران مکرم :۔
اس آیت کی تفسیر سے (اور وہ بھی خود نبی کریم ا او رنا مور پندرہ مفسرین کی قلم سے ) یہ بات واضح ہوگئی کہ قبر میں نکیرین سوال وجواب کرتے ہیں جزاء وسزاء کا معاملہ بھی ہوتا ہے ۔
یاد رکھنا یہ کسی رحمۃ اللہ کی بات نہیں کلام اللہ کی بات ہے کیونکہ رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کو بہت چڑ ہے جبہی تو آپ نے اپنی تالیف (قرآن مقدس بخاری محدث ) میں لعنت لعنت کا ورد کیا ہے ۔سچ ہے جس چیز کی جتنی آمد ہو اتنا نکاس بھی ہوتا ہے ۔
آپ مانیں گے تو نہیں:۔
مگر ہمارا حق بنتا ہے کہ آپ کو کلمہ حق سنادیں ،پہنچادیں
شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب اس آیت کی تفسیرمیں فرماتے ہیں۔
یہ بشارت دنیوی واخروی ہے الاخرۃ سے عالم برزخ مراد ہے یعنی اللہ تعالیٰ اہل اخلاص مؤمنین کو دنیامیں او ر قبر میں کلمہ توحید کی برکت سے ثابت قدم رکھتا ہے ۔جواہر القرآن سورہ ابراہیم
فائدہ
ذرا غور کیا آپ نے شیخ القران نے آخرت سے مراد عالم برزخ فرمایا اور برزخ کی تعبیر لفظ قبر سے فرمائی۔
آیت نمبر ۲
النار یعرضون علیہا غدوًا وعشیاًویوم تقوم الساعۃ ادخلوا آل فرعون اشد العذاب(مومن)
وہ لوگ صبح شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (حکم ہوگا )آل فرعون کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو۔
بات بالکل واضح ہے کہ مرنے کے بعد اور قیامت سے پہلے ( جو کہ عالم قبر اور عالم برزخ کہلاتاہے) آل فرعون کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے اسی کو عذاب قبر کہا جاتا ہے کیونکہ مردہ کے اجزاء اصلیہ مرنے کے بعداو رقیامت سے پہلے جہاں ہونگے وہی اس کی قبر ہے۔
اس آیت کو صر ف میں ہی عذاب قبر کی دلیل نہیں بنارہا بلکہ درج ذیل جید مفسرین بھی یہی کچھ فرماتے ہیں
1۔۔۔ دلت ہذہ الآیۃعلی اثبات عذاب القبر ۔۔۔واذاثبت فی حقہم ثبت فی غیرہم۔اللباب جلد[۱۷صفحہ [۶۲]
یہ آیت عذاب قبر کے اثبات پر دلالت کرتی ہے اور جب ان (آل فرعون ) کے حق میں عذاب قبر ثابت ہوگیا تو دیگر کے متعلق بھی خود بخود ثابت ہوجائیگا
2 ۔۔۔والجمہور علی ان ہذاالعرض فی البرزخ واحتج بعض اہل العلم فی تثبیت عذاب القبر
تفسیر قرطبی جلد[۱۵] صفحہ[۳۱۸]
3 ۔۔۔یہ آیت دلیل ہے عذاب قبر کی اور حدیث کی روایات متواترہ اور اجماع امت اس پر شاہد ہیں ۔
معارف القرآن جلد[۷] صفحہ[۶۰۳]
4 ۔۔۔وفیہ دلیل علی بقاء النفس وعذاب القبر وقد دلت الاحادیث علیہ وانعقد الاجماع
تفسیر مظہری سورۃ مؤمن صفحہ[۲۶۲]
5 ۔۔۔ہذہ الایۃ تدل علی عذاب القبر
احکام القرآن جلد[۳] صفحہ[۵۶۹]
6 ۔۔۔ویستدل بہذہ الآیۃ علی اثبات عذاب القبر
تفسیر خازن جلد[۶] صفحہ[۸۱]
7 ۔۔۔احتج اصحابنا بہذہ الآیۃ علی اثبات عذاب القبر۔۔۔فثبت ان ہذا العرض انما حصل بعد المو ت وقبل القیامۃ :تفسیرکبیراما م رازی سورۃ مؤمن صفحہ [۷۳]
8 ۔۔۔وفیہ دلیل علی بقاء النفس وعذاب القبر
تفسیر بیضاوی ج[۷] ص[ ۳۳۲]
فائدہ:۔
بعض لوگ یہ اشکا ل پیش کرتے ہیں چونکہ اس آیت میں صبح شام کا ذکر ہے او رقبر میں صبح شام ہوگا نہیں بایں وجہ اس آیت کا عذاب قبر سے تعلق نہیں
جواب:۔
یہاں صرف باعتبار دنیا کے ایک اندازہ بیا ن فرمایا گیا ہے یعنی عذاب تو قبرمیں ہوگا کتنا ہوگا فرمادیا ۔غدواً وعشیاً (بقدر الدنیا )
یہی بات نقل فرمائی ہے شیخ زادہ علی البیضاوی ج[ ۷] صفحہ[۳۳۲] پر
فان قیل الغدو و العشی انمایحصلان فی الدنیا واما فی القبر فلا وجودلہمافیہ فکیف یمکن حمل الآیۃ علی عذاب القبر قلت انما ہو امر تقدیری بحسب بکرۃ یوم الدنیا وعشیتہ
اس آیت کریمہ سے بھی مسئلہ عذاب قبرروز روشن کی طرح واضح ہوا
ایک قابل غور بات :۔
قرآن کریم نے فرعونیوں کے لئے تین عذاب کا ذکر فرمایا ہے۔
1۔۔۔ واغرقنا آل فرعون وانتم تنظرون (سورۃ بقرہ )
اور غرق کیا ہم نے آل فرعون کو اور تم دیکھ رہے تھے
اس آیت شریفہ میں فرعونیوں کے لئے غرقاب ہونے کے عذاب کا ذکر ہے
2۔۔۔ النار یعرضون علیہا غدواًوغشیاً
وہ لوگ صبح شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں
یہاں دوسرے عذاب کا ذکر ہے یعنی صبح شام آگ پر پیش ہونا (عالم برزخ عالم قبرمیں)
3۔۔۔ ادخلو اآل فرعون اشد العذاب
(حکم ہوگا بروز جزاء ) داخل کرو آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں
یہاں روز قیامت کے عذاب کا ذکر ہے
اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بالا تفاق غرق ہونے والے فرعونی بھی روح مع الجسد تھے اور جہنم میں جانے والے فرعونی بھی روح مع الجسد ہونگے تو پھر عالم قبر وبرزخ میں بھی عذاب میں مبتلا روح مع الجسد کو ہونا چاہئیے کیونکہ
غرق ہونے والی بھی۔۔۔ آل فرعون ہے
اشدالعذاب میں جانے والی بھی۔۔۔ آل فرعون ہے
اور جسے آگ پر پیش کیا جارہا ہے وہ بھی۔۔۔ آل فرعون ہے
آخر کیا وجہ دو مقامات (غرق ہوتے وقت اور جہنم میں جاتے وقت ) تو آل سے مراد روح مع الجسد لیا جارہا ہے اور عالم قبر وبرزخ میں آل کا اطلاق صرف روح پر کیا جائے
آیت نمبر ۳
مماخطیئاتہم اغرقوا فادخلواناراً(سورۃ نو ح )
یعنی وہ لوگ اپنی خطاؤ ں کے سبب پانی میں غرق کیئے گئے تو آگ میں داخل ہوگئے ۔
یہ آیت کریمہ عذاب قبر کی واضح دلیل ہے کیونکہ نافرمان قوم نوح غرق ہوتے ہی فور اً آگ میں داخل کردی گئی۔ یہ فوراً والا معنی ہم اس لئے کررہے ہیں کیونکہ فادخلوا پر فاء ہے جو کہ تعقیب بلامہلت کے لئے آتی ہے ۔اور یہ بات آپ اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ موت کے بعد قیامت تک میت کو جو سزا جزاء دی جاتی ہے اسے عذاب قبر کہا جاتا ہے
نیز یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی کہ عالم قبر میں جزاء سزاء روح مع الجسد کوہوتی ہے کیونکہ جو غرق ہورہے ہیں انہیں کو نار میں داخل کیا جارہا ہے جب غرق ہونے والے روح مع الجسد ہیں تو عذاب نار پانے والے بھی رو ح مع الجسد ہونگے ۔
ایک ہم نہیں بلکہ درج ذیل مفسرین کرام بھی اس آیت کوعذاب قبر کی دلیل مانتے ہیں۔
1 ۔۔۔دل قولہ اغرقو ا فادخلو ا ناراً علی اثبات عذاب القبرلانہ یدل علی انہ حصلت تلک الحالۃ عقیب الاغراق ولا یمکن حمل الآیۃ علی عذاب الآخرۃ والا بطلت دلالۃ ہذہ الفاء ۔
اللباب جلد [۱۹]صفحہ[۳۹۹]
2۔۔۔ہذا یدل علی عذاب القبر
تفسیر قرطبی جلد [۱۸] صفحہ[۳۱۱]
3۔۔۔ اس آیت سے معلوم ہوا عالم برزخ یعنی قبرمیں رہنے کے زمانے میں بھی مردوں پر عذاب ہوگا ۔
معارف القرآن جلد[ ۶] صفحہ[۵۶۷]
4 ۔۔۔تمسک اصحابنا فی اثبات عذاب القبر بقولہ اغرقوافادخلواناراً۔ت
تفسیر کبیر سورۃ نوح صفحہ[۱۴۵]
5 ۔۔۔فہذہ ا لآیۃ دلیل علی اثبات عذاب القبر لان الفاء للتعقیب ۔۔۔خلافا للمعتزلہ ۔
تفسیر مظہر ی سورۃ نوح صفحہ[۷۷]
6۔۔۔ فیکون دلیلاًعلی اثبات عذاب القبرتفسیر نسفی سورۃ نوح صفحہ[۲۲۳]
7 ۔۔۔سو یہ قبر کے عذاب کے ثبوت پر صریح دلیل ہے۔
تفسیر عزیزی سورۃ نوح صفحہ[۲۳۰]
8 ۔۔۔تمسک اصحابنا فی اثبات عذاب القبر بقولہ تعالی ٰاغرقو ا فادخلوا ناراً۔
شیخ زادہ جلد[۸] صفحہ[۳۵۱]
9 ۔۔۔فادخلو ا ناراًہی نار البرزخ والمرا دعذاب القبر ومن مات فی ماء اونار اواکلتہ السباع اوالطیور مثلا اصابہ مایصیب المقبور من العذاب
روح المعانی سورۃ نوح صفحہ[۹۰]
J۔۔۔عوقبوابہا عقب الاغراق تحت الماء ۔
جلالین شریف سورۃ[نوح ]
مکرم ناظرین :۔
ہم نے آپ کے سامنے قرآن کریم کی تین آیات مقدسہ کی تفسیر جید مفسرین کی قلم سے پیش کی جس سے نصف النہار کی طرح یہ بات واضح ہے کہ عذاب قبر برحق ہے اور عذاب قبر، عذاب عالم برزخ ،روح مع الجسد کو ہوتا ہے۔
اتنی کثیر تعداد میں مفسرین کے اقوال پیش کرنے کا مقصد یہ بھی تھا کہ ہم ان لوگوں میں سے نہیں جو آیت قرآن کی پڑھیں اور معنی، مطلب ،مفہوم ،تفسیر من چاہی کریں ۔نہیں۔ بلکہ ہم وہی کچھ عرض کرتے ہیں ،وہی کچھ بتاتے ہیں جو علماء امت بتاتے آئے ہیں۔
اب جس کے دل میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کر سرعام رکھ دیا
مسئلہ سماع موتی
غیر انبیاء کاسماع یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے اصحاب رسول اسے لیکر آج تک علماء حق کے اکابر دونوں طرف نظر آتے ہیں۔ یہی بات رقمطراز ہیں مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ
یہ مسئلہ کہ مردے کوئی کلام سن سکتے ہیں یا نہیں ان مسائل میں سے ہے جن میں صحابہ کرامؓ کا باہم اختلاف رہاہے حضرت ابن عمر Z سماع موتی کو ثابت قرار دیتے ہیں اور حضرت ام المؤمنین صدیقہ عائشہؓ اسکی نفی کرتی ہیں اس لیئے دوسرے صحابہ و تابعین میں بھی دو گروہ ہو گئے ہیں بعض اثبات کے قائل ہیں بعض نفی کے ۔ معارف القرآن جلد[ ۶] صفحہ[۶۰۲]
قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ
مسئلہ سماع میں حنفیہ باہم مختلف ہیں او ر روایات سے ہر دو مذہب کی تائید ہوتی ہے ۔فتاوی رشیدیہ صفحہ[۵۴۰]
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ
اس مسئلہ میں صحابہؓ کے عہد سے اختلاف چلا آتا ہے دونوں جانب سے نصوص قرآن وحدیث پیش کی گئی ہیں ۔
تفسیر عثمانی سورۃ روم صفحہ[۷۰۴]
جب مسئلہ اختلافی ہے تو کیا رائے قائم رکھنی چاہیئے ؟
حضرت مفتی صاحبؒ فرماتے ہیں :۔
جن مواقع میں حدیث کی روایات صحیحہ سے سننا ثابت ہے وہاں سننے پر عقیدہ رکھا جائے اور جہاں ثابت نہیں وہاں دونوں احتمال ہیں اس لئے نہ قطعی اثبات کی گنجائش ہے نہ قطعی نفی کی
حضرت شیخ الاسلام شبیر احمدعثمانی ؒ فرماتے ہیں :۔
البتہ حق تعالیٰ کی قدرت سے ظاہری اسباب کے خلاف تمھاری کوئی بات مردہ سن لے اس کا انکار کوئی مؤمن نہیں کرسکتا اب نصوص سے جن باتوں کا اس غیر معمولی طریقہ سے سننا ثابت ہوجائیگا اسی حد تک ہم کو سماع موتی کا قائل ہونا چاہیئے ۔محض قیاس کرکے دوسری باتوں کو سماع کے تحت میں نہیں لاسکتے بہر حال آیت میں اسماع کی نفی ہے مطلقاً سماع کی نفی نہیں ہوتی
(تفسیر عثمانی سورۃ روم )
یہ ہے وہ راہ جو افراط وتفریط سے پاک ہے۔وماتوفیقی الاباللہ العلی العظیم
مسئلہ حیات الانبیاء علہیم الصلوٰۃ والسلام
حضرات انبیاء کرام علہیم الصلوۃ والسلام کی وفات ایک قطعی امر ہے جو کہ نصوص قطعیہ صریحہ سے ثابت ہے ۔(*کل نفس ذائقۃ الموت *انک میت وانہم میتون* افائن مت فہم الخلدون *ومامحمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم) اسی وفات کے نتیجہ میں حضرت کریم ا کی تجہیز وتکفین اور تدفین ہوئی ۔سیدنا ابوبکر خلیفہ بلا فصل منتخب ہوئے۔ بایں وجہ وفات کا لفظ حضرت ا کے حق میں بولاجاسکتا ہے ۔اسی پر قرآن وحدیث شاہد ہے اور امت مسلمہ کے اجماع واتفاق کے سبب اس کا کوئی شخص منکر نہیں۔
البتہ اس وفات کے بعد برزخ وقبر میں حضرات انبیاء علہیم الصلوٰۃ والسلام کو حیات حاصل ہونا بھی حق وصحیح ہے جو کہ قرآن کریم کی دلالۃ النص اور احادیث نبویہ اکی عبارۃ النص سے ثابت ہے۔جسمیں ذرہ برابر شک نہیں کیا جاسکتا ۔
اولاًاکابرین علماء کے ارشادات ملاحظہ ہوں
1 ۔۔۔علامہ علی قاری حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
فمن المعتقد المعتمدانہا حی فی قبرہ کسائر الانبیاء فی قبور ہم ۔شرح شفاء جلد[۲] صفحہ[۱۴۳]
معتمد علیہ عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت ااپنی قبر میں زندہ ہیں جیسا کہ دیگر انبیاء علیہم السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں ۔
2 ۔۔۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں
ان حیاتہ فی القبر لا یعقبہا موت بل یستمر حیاً والانبیاء احیاء فی قبورہم ۔
فتح الباری جلد[۸] صفحہ[۳۵۳]
آنحضرت اکو قبرشریف میں ایسی حیات حاصل ہے جس پر پھر موت وارد نہیں ہوگی کیونکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔
3۔۔۔ علامہ سمہودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
ولاشک فی حیاتہ ا بعد وفاتہ وکذاسائر الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام احیاء فی قبور ہم حیاۃً اکمل من حیاۃ الشہداء ۔
وفاء الوفا جلد[۴]صفحہ [۱۳۵۲]
آپ ا کی وفات کے بعد حیات میں کوئی شک نہیں اور اسی طرح تمام انبیاء کرام اپنی قبور میں زندہ ہیں اور انکی حیات شہداکی حیات سے بھی زیادہ ہے۔
4۔۔۔ علامہ ابن حجر ہیثمی متوفی ۹۷۴ھ فرماتے ہیں
فنحن نومن ونصدق بانہ احی یرزق وان جسدہ الشریف لا تأکلہ الارض والاجماع علی ہذا۔ الدرالمنضود
ہم اسی بات پر ایمان رکھتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں کہ حضرت ا زندہ ہیں رزق دیئے جاتے ہیں اور آپ کے جسم مبارک کو زمین نے نہیں کھایا اس پر اجماع ہے
5 ۔۔۔حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند شریف ۔
مجاہد ا سلام حضرت مولانا محمد علی جالندھری صاحب ؒ
شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب ؒ
خطیب اسلام حضرت مولانا قاضی نور محمد صاحب خطیب قلعہ دیدار سنگھ کا
متفقہ فیصلہ
وفات کے بعد نبی کریم اکے جسد اطہر کو برزخ (قبر شریف ) میں بہ تعلق روح حیات حاصل ہے اور اس کی حیات کی وجہ سے روضہ اقدس پر حاضر ہونے والوں کا آپ اصلوٰۃ وسلام سنتے ہیں۔
احقر محمد طیب واردحال راولپنڈی1962ء
مولانا قاضی نور محمد صاحب خطیب قلعہ دیدار سنگھ
لا شئ(مولانا)غلام اللہ خان
(مولانا )محمد علی جالندھری عفااللہ عنہ
[ ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی اگست 1962]
فائدہ
ناظرین گرامی :۔
میں آپ کی توجہ اس طر ف دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ درج بالا فیصلہ صرف اور صرف چار بزرگو ں کا ہی نہیں بلکہ جمعیت اشاعۃالتوحید والسنۃ کی مجلس عاملہ کا منظور شدہ فیصلہ ہے اسی ماہنامہ تعلیم القرآن ۱۹۶۲ء اگست کے شمارہ کے ص۵۰ پر مجلس عاملہ کے ارکان کے اسماء گرامی بشمول ،سید عنایت اللہ شاہ بخاری صاحب، قاضی شمس الدین صاحب ،سجاد بخاری صاحب ،مولانا غلام ربانی صاحب درج ہیں ۔جن کی کل تعداد ستائیس ہے لکھتے ہیں۔
جمعیت اشاعت التوحید والسنۃ کے اس نمائندہ اجتماع میں حسب ذیل قراردادیں باتفاق رائے منظور کی گئیں
.۔۔۔حضرت امیر شریعت صاحب ؒ حضرت مفتی محمد حسن صاحبؒ حضرت شیخ لاہوری ؒ حضرت حماد اللہ ہالیجویؒ امام اہل السنت حضرت لکھنوی ؒ اور قاضی نو ر محمد صاحبؒ کی تعزیت کی قرار دادیں
2۔۔۔عائلی قوانین کے خلاف قرار داد
3 ۔۔۔مسئلہ حیات النبی اکا فیصلہ
جمعیت اشاعۃالتوحید والسنۃ کا یہ نمائندہ اجتماع اس بات کا فیصلہ کرتا ہے اور اپنی تمام جماعت سے اس کی پابندی کرنے کی درخواست کرتا ہے کہ حضرت مولانا علامہ قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبندکی تجویز کردہ عبارت پر فریقین کے درمیان جو صلح ہوئی ہے اسے قائم رکھا جائے اور اسے ہرگز توڑا نہ جائے (مگر یہ کہ فریق ثانی صلح کے خلاف کسی قسم کا اقدام کرے ) ہماری جماعت جس طرح پہلے متحدہوکر اشاعت التوحید والسنۃ کا کام کرتی رہی ہے اسی طرح آئندہ بھی کرتی رہے گی۔
لہذا یہ بات ذہن نشین کرنے کی ہے کہ یہ فیصلہ جمیعت اشاعت التوحید والسنۃ کی مجلس عاملہ کا متفقہ فیصلہ ہے اس جماعت کی صرف ایک دو مقتدر شخصیات کا نہیں ۔
6 حیات الانبیاء متفق علیہ است ہیچ کس رادروے خلافے نیست ۔ اشعۃ اللمعات جلد[۱] صفحہ[۵۷۴]
انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات متفق علیہ ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں
آپ سوچ رہے ہونگے میں نے اس باب میں اکابر علماء اسلام کے اقوال پرہی اکتفاء کیا ہے قرآنی آیات ونبوی ارشادات مبارکہ نقل نہیں کیئے ۔حالانکہ
b ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون[ الآیہ]
b ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ اموتا بل احیاء عند ربہم یرزقون[ الآیہ]
b ولو انہم اذ ظلمو اانفسہم جاء وک[ الآیہ]
b ماکان لکم ان تؤذوا رسول اللہ [ الآیہ]
b فلاتک فی مریۃ من لقاۂ [ الآیہ]
b ماکان محمد ابااحد من رجالکم [ الآیہ]
b وللا خرۃ خیر لک من الاولی[ الآیہ]
اور دیگر آیات طیبات کے ساتھ ساتھ احادیث رسول اللہ ا سے بھی استدلا ل کیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ ان حضرات کے ارشادات ہزاروں تفاسیر کا نچوڑ اور لاکھوں شروحات کا خلاصہ ہیں۔ اگر مقدر یاوری کرے او رقسمت ساتھ دے تو ہدایت کے لئے اتنا قد رکافی ہے
7 علماء دیوبند کا متفقہ فیصلہ المہند علی المفند صفحہ[۳۸] پر تفصیلی موجود ہے جس میں اس بات کی تصریح ہے
عندنا وعند مشائخنا حضرت الرسالۃاحی فی قبرہ الشریف ہمارے اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں
ناظرین کرام :۔
علماء ربانیین کے ارشادات بالکل واضح ہیں کہ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنی قبور میں زندہ ہیں ۔یہ بات ان علماء حضرات کی قلم سے نقل کی گئی ہیں جن کی بات حجت کا درجہ رکھتی ہے اور جن کی پوری زندگی اللہ کے دین پڑھتے پڑھاتے گذری
مذاہب اربعہ وحیات نبویہ ﷺ
حنفیہ
لان الانبیاء علیہم الصلاۃ والسلام احیاء فی قبورہم ۔ شامی جلد[۴] صفحہ[۱۵۱]
ایک جزئی کی دلیل دیتے ہوئے فرماتے ہیں کیونکہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں
(۲) ان الانبیاء احیاء فی قبور ہم کما وردفی الحدیث
مجلس عاملہ کا متفقہ فیصلہ ہے اس جماعت کی صرف ایک دو مقتدر شخصیات کا نہیں ۔
6 حیات الانبیاء متفق علیہ است ہیچ کس رادروے خلافے نیست ۔ اشعۃ اللمعات جلد[۱] صفحہ[۵۷۴]
انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات متفق علیہ ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں
آپ سوچ رہے ہونگے میں نے اس باب میں اکابر علماء اسلام کے اقوال پرہی اکتفاء کیا ہے قرآنی آیات ونبوی ارشادات مبارکہ نقل نہیں کیئے ۔حالانکہ
b ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون[ الآیہ]
b ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ اموتا بل احیاء عند ربہم یرزقون[ الآیہ]
b ولو انہم اذ ظلمو اانفسہم جاء وک[ الآیہ]
b ماکان لکم ان تؤذوا رسول اللہ [ الآیہ]
b فلاتک فی مریۃ من لقاۂ [ الآیہ]
b ماکان محمد ابااحد من رجالکم [ الآیہ]
b وللا خرۃ خیر لک من الاولی[ الآیہ]
اور دیگر آیات طیبات کے ساتھ ساتھ احادیث رسول اللہ ا سے بھی استدلا ل کیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ ان حضرات کے ارشادات ہزاروں تفاسیر کا نچوڑ اور لاکھوں شروحات کا خلاصہ ہیں۔ اگر مقدر یاوری کرے او رقسمت ساتھ دے تو ہدایت کے لئے اتنا قد رکافی ہے
7 علماء دیوبند کا متفقہ فیصلہ المہند علی المفند صفحہ[۳۸] پر تفصیلی موجود ہے جس میں اس بات کی تصریح ہے
عندنا وعند مشائخنا حضرت الرسالۃاحی فی قبرہ الشریف ہمارے اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں
ناظرین کرام :۔
علماء ربانیین کے ارشادات بالکل واضح ہیں کہ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنی قبور میں زندہ ہیں ۔یہ بات ان علماء حضرات کی قلم سے نقل کی گئی ہیں جن کی بات حجت کا درجہ رکھتی ہے اور جن کی پوری زندگی اللہ کے دین پڑھتے پڑھاتے گذری
مذاہب اربعہ وحیات نبویہ ﷺ
حنفیہ
لان الانبیاء علیہم الصلاۃ والسلام احیاء فی قبورہم ۔ شامی جلد[۴] صفحہ[۱۵۱]
ایک جزئی کی دلیل دیتے ہوئے فرماتے ہیں کیونکہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں
(۲) ان الانبیاء احیاء فی قبور ہم کما وردفی الحدیث ۔مجموعہ رسائل ابن عابد ین جلد[۲] صفحہ[۲۰۲]
(۳) مما ہو مقرر عندالمحققین انہ حی یرزق ۔
نور الایضاح[ ۲۷۲]
یہ بات عندالمحققین ثابت ہے کہ آپ ازندہ ہیں اور رزق دیئے جاتے ہیں۔
شوافع
1۔۔۔۱ مام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
والانبیاء علیہم الصلاۃ والسلام بعد ما قبضواردت الیہم ارواحہم فہم احیاء عند ربہم الاعتقادصفحہ[۳۰۵]
وفات کے بعد انبیاء علیہم السلام کی ارواح کو (اجساد کی طرف )لوٹا دیا جاتا ہے پس وہ زند ہ ہیں اپنے رب کے ہاں
2۔۔۔علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
حیاۃ النبی فی قبرہ ہو وسائر الانبیاء معلومۃ عندنا علماقطعیاً ۔الحاوی للفتاوی جلد[۲] صفحہ[۱۳۹]
حضرت ااور تمام انبیاء کرام کی حیات فی القبر کا علم ہمیں قطعی ہے
حنابلہ
1۔۔۔حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
ومعلوم بالضرورۃ ان جسدہ طری مطراً ۔
کتاب الروح صفحہ[۶۳]
یہ بات یقینی طور پر معلوم ہے کہ آپ اکا جسد اطہر (قبر شریف میں) ترو تازہ ہے
2۔۔۔ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
ویستحب ان یکثر من الصلاۃ علی رسول اللہ یوم الجمعہ ۔المغنی لابن قدامہ صفحہ[۴۰۲]
اور مستحب ہے کہ بروز جمعہ حضرت اپر کثرت سے درود شریف پڑھا جائے پھر آگے حدیث مبارک نقل کرتے ہیں فان صلاتکم معروضۃ علی پس تحقیق تمہار ا پڑھا ہوا درود میرے اوپر پیش کیا جاتاہے ۔
مالکیہ
حضرت امام مالک رحمہ اللہ اسے ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے حضرت اکی قبر کی زیارت کی ہے کیونکہ عام طورپر زیار ت کا لفظ موتی کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ حضور انور ا تو زندہ ہیں ۔
ان کراہۃ مالک لذلک لاضافۃ الزیارۃ الی القبر ۔۔۔فلما کانت الزیارۃ تستعمل فی الموتٰی وقد وقع من الکراہۃ ماوقع کرہ ان یذکر مثل ذالک فی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔وفاء الوفا جلد[۴] صفحہ [۱۳۶۴]
نہ من تنھا دریں مے خانہ مستم
جنید وشبلی وعطار ہم مست
ناظرین مکرم :۔
رہاحضر ت نبی خاتم اکا سماع صلوٰۃ وسلام سو وہ بھی ایک قطعی ویقینی حقیقت ہے ۔مزید تفصیل میں جانے کی ضرور ت نہیں ماہنامہ تعلیم القران اگست ۱۹۶۲ کی عبارت (وفات کے بعد نبی کریم کے جسد اطہر کو برزخ (قبر شریف ) میں بہ تعلق روح حیات حاصل ہے اور اس کی حیات کی وجہ سے روضہ اقدس پر حاضر ہونے والوں کا آپ اصلوٰۃ وسلام سنتے ہیں ) ہی کافی ہے کیونکہ اس پر فریقین کے چوٹی کے اکابر کے دستخط ہیں جن میں الامہ کے استاد بھی ہیں
اس بحث کا اختتام منبع العلوم مخزن الفہوم محی السنۃ ماحی البدعۃ رئیس المحققین قدوۃالعارفین زبدۃ المحدثین حضرت شیخ الحدیث علامہ ابو الزاہد محمد سرفراز خانصاحب صفدر مدظلہ فاضل دارالعلوم دیوبند شریف کی اس تحقیق پر کرتا ہوں۔
بلاخوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ تقریباً ۱۳۷۴ھ تک اہل السنۃ والجماعۃ کا کوئی فرد کسی بھی فقہی مسلک سے وابستہ دنیاء کے کسی خطہ میں اس کا قائل نہیں رہاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (اور اسی طرح دیگر حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ) کی روح مبارک کا جسم اطہر سے قبر شریف میں کوئی تعلق واتصال نہیں او رآپ عندا لقبر صلوٰۃ وسلام کا سماع نہیں فرماتے کسی اسلامی کتاب میں عام اس سے کہ وہ کتا ب حدیث وتفسیر کی ہو یا شرح حدیث اور فقہ علم کلام کی ہو یا علم تصو ف وسلوک کی ،سیرت کی ہو یا تاریخ کی کہیں صراحت کے ساتھ اس کا ذکر نہیں کہ آپ کی روح مبارک کا جسم اطہر سے کوئی تعلق واتصال نہیں اور یہ کہ آپ عندالقبر صلوٰ ۃ وسلام کا سماع نہیں فرماتے
من ادعی فعلیہ البیان ولا یمکنہ انشاء اللہ تعالیٰ الی یوم البعث والجزاء والمیزانتسکین الصدور
یہ وہ قرض ہے جس کے چکانے سے فریق مخالف نسل در نسل عاجز وقاصر ہے ویسے سنا ہے کہ مقروض کی نماز جنازہ درست نہیں۔
EE
تعارض نمبر{20}
قرآن وحدیث میں صراحت ہے کہ جو شخص کسی سے پیار کرے گا تشبہ اختیار کرے گا وہ انہیں میں سے ہوگا ۔
مگرا مام بخاری حضرت بریدہ اسلمی صحابی رسول ا سے صفحہ [۱۸۱]پرنقل کرتے ہیں کہ انہوں نے وصیت فرمائی تھی ان یجعل فی قبرہ جریدان میری قبر میں دو چھڑیاں رکھ دینا اور قبر میں چھڑیا ں رکھنا روافض کا طریقہ کار ہے لہذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صحابی رسول روافض کا شعار اپنائے( ملخصاً)
شاید یہی امام بخاری کا مسلک تھا نیز امام بخاری نے اس کی سند بیان نہیں کی ۔
J جواب L
اللہ تعالیٰ رحم فرمائیں امام بخاری رحمہ اللہ کے بغض نے اس اللہ کے بندے کی عقل کوماؤف کردیا ہے۔
بنیادی طور پر تین باتیں حل طلب ہیں
1 ۔۔۔امام بخاری سند نہیں لائے
جواب :۔
عمدۃالقاری جلد[۶] صفحہ[۲۵۲] ۔ارشاد الساری جلد[۳ ]صفحہ[۵۰۹] ۔ فتح الباری جلد[۴] صفحہ[۱۴۰]پر مرقوم ہے
وقد وصلہ ابن سعد من طریق مورق العجلی ملاحظہ فرماویں۔
لہذا اعتراض نہ رہا
2 ۔۔۔شاید یہ امام بخاری رحمہ اللہ کا مسلک تھا۔
جوا ب ۔
یہ بھی سو فیصد درست نہیں کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ حضرت بریدہ Z کی وصیت کے بعد ذکر کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرZ نے عبدالرحمان بن ابی بکر Z کی قبر پر اون کا خیمہ لگا دیکھا تو فرمایا اے غلام اسے اکھیڑ دے اس (صاحب قبر ) کاعمل اس پر سایہ کرے گا۔
طرز بخاری سمجھنے والے علماء فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا حضرت بریدہ Z کی وصیت کے بعد یہ اثر نقل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح یہ خیمہ مرنے والے کو فائدہ نہیں دیتا اسی طرح چند ڈالیاں کجھور کی بھی مفید نہیں بلکہ صاحب قبر کے اعمال صالحہ فائدہ دینگے
ملاحظہ ہو ارشاد الساری جلد[۳] صفحہ[۵۰۹]
لکن الظاہر من تصرف المؤلف ان ذٰلک خاص المنفعۃ بما فعلہ الرسول علیہ الصلاۃ والسلام ببرکۃ الخاصۃ بہ وان الذی ینتفع بہ اصحاب القبور انما ہو الاعمال الصالحۃ فلذلک عقبہ بقولہ ورأی ابن عمر الخ
اگر فلذالک عقبہ بقولہ ورأی ابن عمر پر غور کیا جائے تو بات بالکل عیاں ہے کہ قبر میں ٹہنیاں رکھنا امام بخاری کا مسلک نہیں
3 ۔۔۔روافض کا شعار صحابی رسول کس طرح اپنار ہے ہیں ۔
جواب (۱)
یہ بات کتنی غلط اور نامناسب ہے کیونکہ صحابہ پہلے گذرے ہیں روافض بعد کی پیداوار ہیں اب پہلوں نے اپنے بعد والوں کا شعار کیسے اپنا لیا۔
جواب( ۲)
شراح بخاری رحمہم اللہ نے وضاحت کی ہے کہ بعض نسخوں میں علی قبرہ کے الفاظ ہیں تو بالفرض اگر ٹہنیاں رکھنا شعار روافض ہے بھی تو وہ قبر میں ہے اور صحابی قبر کے اوپر ڈالنے کا فرمارہا ہے قبر کے اندر کا نہیں۔
جواب(۳)
امام بخاری رحمہ اللہ اسی باب میں جو روایت نقل کررہے ہیں کہ حضرت ادو قبروں پر گذرے انہیں عذاب ہورہا تھا آپ انے کجھور کی ہری ڈالی کو چیر کر دو حصے فرمایا اور ہر قبر پر ایک ایک گاڑھ دی (ملخصًا)
حضور والا :۔
بالاتفاق وہ ٹہنیاں حضرت انے قبروں کے اوپر گاڑھی تھیں مگر حدیث کے الفاظ ہیں ثم غرز فی کل قبر واحدۃ یہاں فی کا لفظ ہے مگر ٹہنیاں قبر کے اندر نہیں گاڑھی جارہی ہیں بلکہ (فی ظاہر کل قبر ) ہر قبر کے ظاہر (باہر) پر گاڑھی جارہی تھیں اسی طرح بریدہ اسلمی کی وصیت میں جو فی قبرہ کا لفظ ہے اس کا معنی بھی یہی ہوگا کہ ان یجعل فی ظاہر قبرہ کہ ٹہنیاں قبر کے اوپر ڈال دینا
قبر پر شاخ گاڑہنے کا مسئلہ
تحقیقی بات یہ ہے کہ قبروں پر آنحضرت ا کا شاخ گاڑھنا صرف حضور اقدس اکی خصوصیت تھی اور تخفیف عذاب آپ کے دست مبارک کی برکت سے ہوا تھا۔ کیونکہ اگر یہ حکم عام ہوتا تو عہد صحابہ میں کوئی قبر شاخ سے خالی نہ ہوتی رہا حضرت بریدہ Zکا وصیت فرمانا تو وہ ان کا ذاتی عمل مبارک تھا جس پر اصحاب رسول اعمل پیرا نہ تھے۔ یاد رکھیں ہم اہل السنۃ بھی ہیں اور والجماعۃ بھی ہیں۔
EE
تعارض نمبر{21}
قرآن مقدس میں مردہ کے کلام کرنے کو محال کہا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ ولواننا نزلنا الیہم الملائکۃ وکلمہم الموتٰی اور دوسرے مقام پر فرمایا اوکلم بہ الموتی جس کا مطلب ہے کہ مردوں کا کلام کرنا محال اور ناممکن ہے۔لیکن امام بخاری نے باب باندھ دیا باب کلام المیت علی الجنازہ اور اس کے نیچے قد مونی قد مونی کی روایت ٹانک دی [ملخصاً]
J جواب L
سنا ہے مرنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔ بھی پیچھا چھوڑ دیتا ہے مگر نامعلوم الامہ کو مردوں سے کیا تکلیف ہے لفظ میت آیا نہیں اور حضرت آپے سے باہر ہوئے نہیں
اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ نام نہاد امام انقلاب نے قرآن کریم کو بھی معاف نہیں کیا اور جس قرآن کے نام پر ساری عمر لوگوں کو ورغلاتا رہا اس کی تحریف معنوی سے بھی باز نہ آیا ۔
الامہ کی خیانت :۔
ملاحظہ فرماویں۔مگر ان کے اپنے استاذ کی قلم سے
اس تعارض میں دوآیات کریمہ کے حصے نقل کیئے گئے ہیں
ولو اننا نزلنا الیہم الملائکۃ وکلمہم الموتی
۔[سورۃ انعام]
اور اوکلم بہ الموتی سورۃ [الرعد]
ان دونوں کی تفسیر میں ان کے استاذ اور جمعیت اشاعت التوحید والسنۃ کے روح رواں شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ان مشرکین کے مطلوبہ معجزات ان کو دکھا دیں ان پر فرشتے اتار دیں اور مردے زندہ ہوکر ان سے باتیں کرنے لگیں اور ہر چیزجووہ چاہیں اٹھا کر ان کے سامنے کردیں تو بھی وہ ایمان نہیں لائنیگے یعنی ان کا ایمان لانا محال ہے
اب داد دیجیئے الامہ کو قرآن کہتا ہے ان مشرکین کا ایمان لانا محال ہے یہ شریف کہتا ہے مردوں کا کلام کرنا محال ہے
ناظرین :۔
جس شخص کے بے رحم قلم سے اللہ کا قرآن محفوظ نہیں امام بخاری کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔اس کی پوری زندگی کا سرمایہ یہی ہے کہ قرآن خدا کا پڑھا اور معنی مفہوم اپنی مرضی کا بیان کیا ۔انا للہ وانا الیہ راجعون
اب آپ خود ہی فیصلہ فرمادیں کہ جب قرآن حکیم سے مردوں کا عدم تکلم ثابت ہی نہیں ہوا تو بخاری شریف کی حدیث قد مونی قد مونی کے الفاظ قرآن سے کیسے ٹکرائے؟
ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس مقام پر دیگر مقامات کی طرح احمد سعید کے ذہن کو ٹھوکر لگ رہی ہے اس کی عقل ،نظریہ اور سوچ قرآن وحدیث سے ٹکرارہی ہے ۔یہ نہیں کہہ سکتے کہ قرآن کریم اور بخاری شریف ٹکرا رہے ہیں
کیا مردہ کلام کرسکتا ہے ؟
اس پر ہم بے شمار دلائل سپردقلم کرسکتے ہیں مگرسرے دست صرف ایک آیت قرآنی ملاحظہ فرماویں سورۃ یٰسین شریف میں انطاکیہ کے رہنے والے مرد موحد حبیب نجار کا واقعہ مذکور ہے کہ جب لوگوں نے اسے جلا کر یا پتھر مار کر یا گلہ دبا کر شہید کردیا تو من جانب اللہ اسے دخول جنت کا حکم ملا اب وہی جنت میں جانے والا شہید کہنے لگا قال یٰلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی کاش میری قوم کو یہ بات معلوم ہوجاتی کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا ہے
طرز استدلال :۔
قال یٰلیت قومی یعلمون میں قال کا فاعل ہو ضمیر ہے جوکہ راجع بسوئے رجل ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے (جاء من اقصا المدینۃ رجل ) اور یہ بات مسلم ہے کہ رجل کا اطلاق روح مع الجسد پر ہوتا ہے۔ لہذا اس سے تو یہ ثابت ہوگیا کہ یلیت قومی یعلمون اسی رجل کا مقولہ اسی کے بول ہیں جسے شہید کیا گیا جو دنیا سے چل بسا۔مگر مرنے کے بعد بول رہا ہے۔ کا ش میری قوم کو میری مغفرت کا علم ہوجاتا۔
جب قرآن کریم نے مرنے کے بعد بولنے کو ثابت کردیا تو امام بخاریؒ نے اگر مردہ کے بولنے کا باب باندھ دیاتو کیوں مطعون ٹھہرا؟
نیز اس مقام پر ایک عجیب وغریب واقعہ بیان کرنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا
صحابی رسول حضرت زید بن خارجہ بدری صحابی ہیں۔ انکی وفات بمرض خنا ق خلافت سیدنا امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان کے زمانہ میں ہوئی یہ بزرگ وفات کے بعد بولنے لگ گئے
تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو
تہذیب التہذیب جلد[۳] صفحہ[۳۵۶]
طبقات ابن سعد جلد[۲] صفحہ[۴۱۴]
تقریب التہذیب صفحہ[۱۷۳]
تعقیب التقریب صفحہ[ ۱۷۳]
EE
تعارض نمبر{22}
بر اہو اندھی تقلید کا جس نے بخاری جیسے محدث جلیل کو قرآن کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رکھا ۔۔۔ہمارے حضرت اکے متعلق لکھ مارا کہ آپ انے فرمایا نحن احق بالشک من ابراہیمکہ ہم ابراہیم علیہ السلام کی نسبت شک کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بخاری صفحہ[۴۷۷]
خلاصۃ الکلام الامہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امام بخاری نے حضرت ابراہیم کو اور حضرت پاک اکو بھی مرنے کے بعد زندہ ہونے کے عقیدہ میں شک کرنے والا بتایا (نعوذ باللہ )
J جواب L
امام بخاری رحمہ اللہ کو قرآنی مفہوم سے قاصر کہنے والے حضرت کی قرآن فہمی کا اندازہ آپ نے گذشتہ تعارض میں لگا لیا تھا کہ ایسی معنوی تحریف کی جس سے یہود بھی الامان والحفیظ کہہ اٹھیں
جناب الامہ صاحب :۔
اگر آپ کے پاس بخاری شریف کی اور کوئی شرح نہیں تھی تو کم از کم حاشیہ نمبر ۴ ہی دیکھ لیتے تو صاف لکھا تھا انی لم اشک فابراہیم لم یشک حضرت ا نے فرمایا نہ میں نے شک کیا نہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے شک کیا۔ بات تو بالکل صاف تھی کسی قسم کا کوئی اعتراض واشکال نہ تھا مگر تعصب اور محدث کبیر سے بغض واقعی لا علاج مرض ہے
مزید وضاحت:۔
اصل میں جب یہ آیت کریمہ رب ارنی کیف تحی الموتی ) نازل ہوئی تو بعض مسلمان یہ کہنے لگے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ شک والے جملے (رب ارنی کیف تحی الموتی ) کیسے کہہ دیئے ؟
حالانکہ ہمارے نبی ا تو اللہ کے کسی معاملہ میں شک نہیں کرتے جب یہ بات حضور اکرم ا تک پہنچی تو آپ نے لوگوں کو سمجھاتے ہوئے فرمایا اگر انبیاء علیہم السلام قدرت خداوندی میں شک کرتے تو پھر میں بھی شک کرتا جب میں شک نہیں کرتا تو ابراہیم علیہ السلام نے بھی شک نہیں کیا۔
گویا حضورانے سمجھا دیا ابراہیم کا سوال مزید بیان کے لئے تھا کسی شک وگمان کی وجہ سے نہ تھا ۔یہی بات ملاحظہ فرماویں
1۔۔۔ فتح الباری جلد[۷] صفحہ[۶۷۹] پر علامہ ابن حجر فرماتے ہیں۔
ان سبب ہذا الحدیث ان الآیۃ لما نزلت قال بعض الناس شک ابراہیم ولم شک النبی فبلغہ ذالک فقال نحن احق بالشک من ابراہیم ۔۔۔لانہ لیس بشک انما ہو طلب لمزیدا لبیان
2۔۔۔عمدۃ القاری جلد[۱۱] صفحہ[۸۸]
3 ۔۔۔ارشاد الساری جلد[۷]صفحہ[ ۳۴۷]
EE
تعارض نمبر{23}
اصحاب رسول وہ مقدس جماعت ہے جس کی عظمت وشان پر رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ودیگر آیات قرآنی موجود ہیں۔
مگر امام بخاری رحمہ اللہ صفحہ[۵۹۹]پرایک روایت لائے ہیں جس کے الفاظ ہیں کہ حضرت براء Z کو جب ایک آدمی نے مبارک پیش کی کہ آپ نے حضرت اکی صحبت پائی ہے اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے ہیں تو انہوں نے جواباً فرمایا یاابن اخی انک لاتدری مااحد ثنا بعدہ(ترجمہ بقلم الامہ ) بھیتجے تجھ کو کیا خبر کہ ہم نے رسول اللہ کی وفات کے بعد کیا کیا بدعتیں جاری کیں لہذا امام بخاریؒ نے صحابیؓ کو بدعتی کہا( ملخصا)
J جواب L
مکرم ناظرین :۔
احدثنا کا حتمی طور پر بدعت معنی لینا بھی ان علمی خیانتوں میں سے ایک ہے جس میں الامہ ید طولی رکھتے ہیں۔
علماء نے اس عبارت کا بالکل صاف ستھرا معنی کیا ہے ۔اے بھتیجے آپ نہیں جانتے ہم نے حضرت اکے بعد کیا کیا کام کیئے ہیں۔ اس صور ت میں نہ کوئی اعتراض نہ کوئی اشکال ۔
لیکن الامہ چونکہ صاف ستھرے راہ ومزاج کے راہی نہیں انہیں تو از خود قابل اعتراض مفہوم بیان کرکے محدث کی عیب جوئی ہی کرنی ہے
مجھے تو پسند اور مجنون کو لیلی
پسند اپنی اپنی خیال اپنا اپنا
رہا صحابی رسول اکا یہ فرمانا کہ مااحد ثنا بعدہ (ہم نے آپ کے بعد کیا کیا کام کیئے ہیں ) اسے ہم عرض کردیتے ہیں تاکہ دل میں کسی قسم کی خلش نہ رہے۔
بخاری شریف کے چوٹی کے شراح علامہ عینی حنفی جلد[۲] صفحہ[۱۹۴] علامہ قسطلانی جلد[۹] صفحہ[۲۳۳] اور علامہ ابن حجر عسقلانی اس سے وہ فتنے مراد لیتے ہیں جو حضرت اکی وفات حسرت آیات کے بعد رونما ہوئے مثلا جنگ جمل وصفین کے دلخراش واقعات
یشیرالی ماوقع لہم من الحرو ب وغیرہا فخاف غائلۃ ذالک ۔
فتح الباری جلد[۹] صفحہ[۲۷۳]
EE
تعارض نمبر{24}
کون نہیں جانتا کہ قرآن مقدس میں لوط علیہ السلام والی قوم کی سی بدکاری کرنے والا کافر ہی ہوتا ہے اور لواطت کا کام سوائے کافر کے اور کوئی مؤمن نہیں کرتا اتأ تون الرجال شہوۃ من دون النساء صرف اور صرف کفار کی عادت تھی اور عورت کے ساتھ یہ فعل بد کرنا تو اور بھی زیادہ کفر ہے فاقتلوا العالی والسافل کا حکم نبوی بھی خاص اسی فعل بد کے لئے آیا تھا
بخاری محدث عورت کی دبر زنی
لیکن بخاری صاحب نے اتنا بڑا کفری نظریہ بے دھڑک ہو کر ایک جلیل القدر صحابی کے معصوم العمل ماتھے پر جڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں نساء کم حرث لکم کی تفسیر عبداللہ بن عمرؓنے یہ فرمائی ہے کہ عورت کی دبر زنی کرنی چاہیئے یہ معنی ہے انی شئتم کا ( لاحول ولا قوۃا لا باللہ )
فی اتیان النساء فی ادبارہن بخاری کے اساتذہ ابن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ آپؓ نے فرمایا انی شئتم یاتیہا فی ۔۔۔۔۔۔ ای فی الدبر عورت کی دبر میں کرے ۔
بخاری کتاب التفسیر اس پر شراح بخاری قسطلانی وغیرہ نے فرمایا کہ بخاری نے فی کا حرف ذکر کرکے دبر کا لفظ بوجہ کراہت کے ذکر نہیں کیا ورنہ تمام سندوں میں وقع التصریح بہ بخاری کے تمام نسخوں میں فی الدبر ہے من الدبر نہیں ہے جس کا مطلب ہے کہ خاص دبر میں لواطت کرے جلیل القدر محفوظ من اللہ کے متھے یہ جڑتے ہوئے بخاری صاحب کو ذرہ برابربھی حالت شعور نہیں ۔۔۔۔۔۔بالکل جھوٹی روایت ہے ۔۔۔۔۔۔ کیا اتنا بڑا مغالطہ بخاری کو کسی شئی کے نشہ کی وجہ سے ہوا؟ ۔۔۔۔۔۔ کیا ایسے فعل بد کو ذکر کرنے والے رواۃ لعنتی نہ ہونگے ۔بلفظہ صفحہ[۵۲۔۵۳۔۵۴]
J جواب L
ہم نے اس تعارض کا تقریباً اکثر حصہ انہیں کی قلم سے نقل کردیا ہے تاکہ ناظرین الامہ کی حواس باختگی کذب بیانی اور دجل وفریب کا مشاہدہ فرمالیں۔
میرے پیارے بھائیو:۔
جس بیہودہ انداز تحریر سے بیہودگی کا اظہار کرتے ہوئے امیر المؤمنین فی الحدیث کو ،نشئی حالت ،شعور میں نہ ہونا ،رواۃ کا لعنتی ہونا،وغیرہ وغیرہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی سزا وہ بھگت رہا ہے اور انشاء اللہ قدرت کے منتقم ہاتھوں سے قبر وآخرت میں بھگتے گا۔
جہاں تک بات ہے مسئلہ کی تو پوری توجہ سے سنیں کہ امام بخاری کی صحیح بخاری شریف کتاب التفسیر کا وہ مقام جس کاحوالہ الامہ نے دیا ہے اس وقت میرے سامنے ہے میں پورا باب ہی نقل کردیتا ہوں تاکہ اس کا یہ جھوٹ کھل کرسامنے آجائے کہ بخاری کے تمام نسخوں میں فی الدبر ہے جس کامفہوم ہے کہ عورت سے غیر فطری کام کیا جائے۔
باب قولہ تعالی نسائکم حرث لکم فاتواحرثکم انی شئتم وقدموا لانفسکم الایۃ حدثنا اسحاق قال اخبرنا النضربن شمیل قال اخبرنا ابن عون عن نافع قال کان ابن عمر اذا قرأ القرآن لم یتکلم حتی یفرغ منہ فاخذت علیہ یوماًفقرأ سورۃ البقرۃ حتی انتہی الی مکان قال اتدری فیما انزلت قلت لا قال نزلت فی کذا وکذاثم مضی وعن عبدالصمد حدثنی ایوب عن نافع عن ابن عمرفاتو ا حرثکم انی شئتم قال یأتیھا فی رواہ محمد بن یحیٰی بن سعید عن ابیہ عن عبیداللہ عن نافع عن ابن عمرحدثنا ابونعیم قال حدثنا سفیان عن ابن المنکدرقال سمعت جابراًقال کانت الیہود تقول اذا جامعہا من وراۂا جاء الولد احول فنزلت نسائکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم ۔
بخاری جلد [۲ ]صفحہ [۶۴۹]
حضرات گرامی :۔
ایک بار نہیں بار بار پڑھیئے اس پورے چیپٹر میں کہیں آپ کو صرف دبر کا لفظ نظرآتا ہے فی الدبر تو بعد کی بات ہے اگر نظر نہیں آتا اور یقیناًنظر نہیں آئے گا تو پھر اندازہ کیجئے اس نام نہاد امام انقلاب شیخ التفسیر والحدیث کی علمی بے بضاعتی کا۔
اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں شراح بخاری علامہ عینی متوفی ۸۵۵ ھ علامہ قسطلانی متوفی ۹۳۳ ھ حافظ ابن حجر متوفی ۸۵۲ پرجنہوں نے آج سے کئی سوسال قبل صاف لکھا ہے کہ امام بخاری نے صرف یا تیہا فی ذکر کیا ہے۔
دبر صر ف الامہ کو نظر آنے لگی
علامہ عینی رحمہ اللہ رقمطرازہیں
وقع ہنا فی روایۃ البخاری یاتیہا وسکت عن مجرورہا ولم یذکرفی ای شیء وہذاوقع فی جمیع النسخ ۔۔۔والظاہر انہ لم یدرکہ فبقی البیاض بعدہ مستمرًا
عمدۃ القاری جلد[۱۲] صفحہ[۴۵۹]
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
وفی سراج المریدین ان المؤلف ترک بیاضابعد فی ۔۔۔۔۔۔ولم یتر حج عندہ فی ذالک شئی بیض لہ حتی یثبت عند الترجیح فاخترمتہ المنیۃ
ارشاد الساری جلد[۱۰]صفحہ[۷۰]
حافظ ابن حجررحمہ اللہ لکھتے ہیں
قولہ یاتیہافی ہکذا وقع فی جمیع النسخ لم یذکر مابعد الظرف۔ فتح الباری جلد[۹] صفحہ[۶۸۲]
لطیفہ
شراح بخاری کہتے ہیں بخاری کے تمام نسخوں میں صرف فی کالفظ ہے دبر کا ذکر کہیں نہیں مگر یہ شریف کہتا ہے بخاری کے تمام نسخوں میں فی الدبر ہے
امام بخاری کا مسلک :۔
بقول محدث جلیل امام بدرالدین عینی رحمۃ اللہ علیہ
والظاہر من حال البخاری انہ لایری اباحتہ ذالک
امام بخاری عورت سے غیر فطری عمل کے جواز کے قائل نہ تھے
عمدۃ القاری جلد[۱۲] صفحہ[۴۵۹]
جمہور کا مذہب :۔
مذہب الشافعی وابی حنیفہ وصاحبیہ واحمد والجمہور التحریم لورودالنہی عن فعلہ
امام شافعی امام ابوحنیفہ امام ابویوسف امام محمدرحمہم اللہ علیہم اجمعین اور جمہور علماء اسلام کا یہی مذہب ہے کہ عورت سے غیر فطری عمل حرام ہے
جہاں تک امام مالک کا تعلق ہے وہ بھی حرمت کے قائل ہیں کیونکہ جب ان کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ لوگ آپ کی طرف اس کے جواز کی نسبت کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا
یکذبون علی یکذبون علی
وہ میرے اوپر جھوٹ بولتے ہیں ۔
ارشاد الساری جلد[۱۲] صفحہ[۷۱]
ابن عمر Z کے قول کی صحیح تعبیر :۔
جمہور اہل السنۃ والجماعۃ ابن عمرZ کے قول کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ومفہوم یہ ہوگا کہ مرد بیوی سے ہمبستری تو کرے قبل میں فطری مقام میں مگر پشت کی طرف سے
وحملوا ماوردعن ابن عمر علی انہ یأتیہا فی قبلہامن دبرہا ارشاد الساری جلد[۱۲] صفحہ[۷۱]
سمجھا ہوں اب میں تیری قیل وقال سے
انداز حق نما سے کتنی ہے چڑتجھے
EE
تعارض نمبر{25}
قرآن مقدس میں زنا کو حرام قرار دیا گیا ہے مگرامام بخاری فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس متعہ کے جواز کے قائل تھے یہ کیسے ہوسکتا ہے صحابی رسول حضرت کا عم زاد زنا کو جائز قرار دیں[ ملخصا]ً بخاری صفحہ[۷۶۷]
J جواب L
ہم بڑی تفصیل کے ساتھ متعہ کے متعلق ضروری ابحاث پیش کرچکے ہیں یہاں صرف اتنا عرض کروں گا کہ الامہ بیچارہ زنا اور نکاح موقت (متعہ ) میں فرق نہیں کرسکتا زنا ہمیشہ اسلام میں حرام رہا ہے البتہ متعہ جو کہ نکاح موقت ہوا کرتا تھا ابتداء اسلام میں جائز تھا جس کی بعد میں ممانعت فرمادی گئی
تفصیل کے لئے دیکھئے تعارض ۸۔۹۔۱۰
نہ سیدنا ابن عباس Zکبھی زنا کی حلت کے قائل رہے ہیں اور نہ ہی امام بخاری رحمہ اللہ نے ایسی کوئی نسبت ان کی طرف کی ہے
سیدنا ابن عباسZ کا رجوع
جہانتک حضرت ابن عباس Z کا تعلق ہے وہ بھی متعہ کی حرمت کے قائل ہیں پہلے قول سے رجوع فرمالیا تھا ۔
ملاحظہ ہو ۔نصب الرایہ جلد[۳] صفحہ[۲۳۰]
واما مایحکی فیہا عن ابن عباس فانہ کان یتاول اباحتہا للمضطرالیہاہ بطول الغربۃ وقلۃ الیساروالجدۃ ثم توقف وامسک عن الفتوی بہا
(۲) وابن عباس صح رجوعہ ۔
ہدایہ شریف جلد[۲] صفحہ[۳۱۳]
(۳) وروی عنہ الرجوع ۔
فتح الباری جلد[۱۱]صفحہ[۴۲۷]
EE
تعارض نمبر{26}
اللہ تبارک وتعالیٰ نے لہوولعب گانے بجانے شیطانی بانسری طبلے ربانے توتیاں سے منع فرمایا ہے ومن الناس من یشتری لہو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ مگر امام بخاری صفحہ[۷۷۵]پرروایت لائے ہیں ایک انصاری کی شادی کے موقعہ پر آپ انے سیدہ عائشہ سے فرمایا ماکان معکم لہو فان الانصار یعجبہم اللہوکیا آپ کے پاس لہو یعنی گانے بجانے خوش گپیاں عیش نشاط کی چیزوں میں سے ۔۔۔۔۔۔کیونکہ انصار ان چیزوں کو بڑ ا پسند کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔کیا آپ اپنے انصاریوں کو قرآن کے خلاف تربیت دیتے رہے تھے؟ اور کیا اپنے گھر ایسی فحش چیزیں اور لہویات رکھا کرتے تھے ؟اور کیا عائشہ صدیقہ بھی انہیں چیزوں پر گذارا کرتی تھیں ؟
J جواب L
لہو کسے کہتے ہیں او رلہوالحدیث کسے کہتے ہیں ؟اس فرق کو سمجھنا اس شخص کی علمی دسترس سے بہت دور ہے جس نے ساری زندگی قرآن کریم کو گائیکی کے انداز میں پڑھا اور قرآن کی تحریف معنوی جس کا بہترین شغل رہا ہو ۔
برادران مکرم :۔
ہوسکتا ہے آپ میری بات تسلیم نہ کریں مگر میں انداز تحریر اور طرز بیان سے یہی سمجھ رہاہوں کہ الامہ صرف بخاری کے خلاف نہیں لکھنا چاہتا بلکہ خود حضور اکرم ا اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے خلاف دشمنان اسلام کو زہریلا مواد مہیا کرنا چاہتا ہے جس کی بین دلیل درج بالا عبارت میں خط کشیدہ الفاظ ہیں۔
کس نے ڈالی ہیں رقیبوں کے گلے میں بانہیں
تم تو کہتے تھے کہ بیگانہ آغو ش ہیں ہم
کیا کوئی سنجید ہ کافر بھی یہ جملے لکھ سکا ۔جو اس نے لکھے ہیں
1 کیا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابھی انہیں چیزوں پر گذارا کرتی تھیں؟
2کیا (نعوذ باللہ قریشی ) اپنے گھر میں ایسی فحش چیزیں اور لہو یات رکھا کرتے تھے؟
انا للہ وانا الیہ راجعون
مسلمان ہوشیار باش:۔
یہ تو ایک ہے جو تحریر کے ذریعہ پکڑا گیا نامعلوم ایسے کتنے چھپے رستم ہونگے جو توحید وسنت کی اشاعت کے نام پر غلط نظریات کا زہر مسلمانوں میں گھول رہے ہونگے
حدیث کا صحیح مفہوم :۔
مفہو م سمجھنے سے پہلے لہو ،لعب اور لہو الحدیث کا صحیح مفہوم ذہن نشین فرمالیں ۔انشاء اللہ بات سمجھ آجائیگی۔
لہو:۔
1سنجیدگی چھوڑ کر مزاح کی طرف میلان کو لہو کہاجاتا ہے
2بلکہ ہر دانشمند انہ کھیل تفریح کو بھی لہو کہا جاتا ہے
لعب :۔
غیر مفید کام میں مشغول ہونا جس سے مفید کام متروک ہوجائے اسے لعب کہتے ہیں ۔معجم القرآن ۔لغات القرآن جلد[۵] صفحہ[۲۴۵]
لہوالحدیث
فضول بیہودہ بے سروپا قصوں پر مشتمل کھیل تماشا ۔
لغات القرآن جلد[۵]صفحہ[ ۲۴۶]
مکرم نا ظرین :۔
حدیث میں شادی کے موقع پر جس چیز کا ذکر ہے وہ لہو ہے بمعنی دانشمندانہ کھیل مثلاً نیزہ بازی وغیرہ یا سنجیدہ مزاح مثلاً دف پر مجاہدین کے مجاہدانہ کارناموں پر مشتمل اشعار کہنا یا باحیا چٹ پٹے اشعار کہنا مثلاً حدیث میں ہے حضور ا نے فرمایا یوں کہاجائے۔ اتینا کم اتیناکم فحیانا وحیاکم
ہم آئے تمھارے گھر۔ ہم آئے تمھارے گھر۔ ہمیں بھی مبارک ۔تمھیں بھی مبارک
خلاصۃ الکلام :۔ جس کی ممانعت ہے وہ لہوالحدیث ہے اور حدیث بخاری میں جس کا ذکرہے وہ لہو ہے
فائدہ
دف اسے کہتے ہیں جس کے ایک طرف چمڑا لگا ہوا ہو جو عام طور پر پرانے زمانے میں ماہ رمضان المبارک میں سحری کے وقت لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے بجایا جاتا تھا۔
EE
تعارض نمبر{27}
قران کریم میں نکاح شادی کے لئے بلوغ شرط رکھا گیا ہے حتی اذا بلغو النکاح کی نص خود اللہ کے رسول ا پر نازل ہوئی ہے پھر خاص طور پر نساء کے لفظ سے نکاح کو جائز کہا گیا ہے تاکہ پتہ چلے کہ نکاح بالغہ عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ نابالغ لڑکی پرنساء کا لفظ نہیں بولا جاتا ۔۔۔۔۔۔
بخاری محدث نبی ﷺ کی توہین
لیکن بخاری صاحب نے اپنی روایت کے ذریعہ آپ ا کا نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی کھیل کھیلنا ثابت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ان النبی ﷺ تزوجھا وھی بنت ست سنین وبنی بھا وہی بنت تسع سنین ۔بخاری جلد [۲]صفحہ [۷۷۱]
حضرت عائشہؓ کیساتھ آپ اکی شادی ہوئی تو ان کی عمر چھ سال کی تھی اور جب بنا فرمایا تو نو سال کی تھی
بھلا اس سے زیادہ آپ اکی توہین اور کیا ہوگی کہ حضرت عائشہؓ ابھی تک نساء کی فہرست میں بھی داخل نہ ہوئی ہوں کہ آپ ا نعوذ باللہ ان سے جنسی کھیل رچائیں اور طبع آزمائی میں مشغول ہوجائیں ۔
بخاری صاحب روایت پرستی میں قزاق راویوں کے چنگل میں اتنا پھنسے ہوئے تھے کہ ان کو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ میں خود جلد[۲]صفحہ ۲۰۴] میں کیا لکھ آیا ہوں کہ سورۃ القمرنبوت کے پانچویں سال نازل ہوئی تو حضرت ام المؤمنین ابھی بچی ہی تھیں اور کھیلتی پھرتی کہ سورۃ القمر کی آیات یا د ہوگئیں تھیں پھر مکہ میں آپ اپندرہ سال رہے تو سورۃ القمر کے نزول کے وقت صدیقہؓ کی عمر چھ سال ہی مانی جائے تو آپ ا سے نکاح ہوا تھا تو ہجرت کے وقت ان کی عمر سولہ یا سترہ سال کی تو ضرور ہوگی اور بوقت رخصتی اٹھارہ انیس سال کی ہوگی پھر قرآ ن کریم کی اصطلاح کے بھی خلاف ہے کہ لڑکی کو نساء کہا جائے
نیز قرآن میں بلوغ کی عمر میں نکاح کرنا آیا ہے ورنہ حتی اذابلغو النکاح فرمایا ہوا جملہ بے فائدہ رہے گا تو ان تما م قوانین قرآن کے خلاف اور قانون معاشرت کے خلاف آپ ا کی معصوم شخصیت کس طرح کرسکتی تھی ۔
لعنت ہو کینہ وربدکردار راویوں پر جنہوں نے عصمت نبوت کو داغدار کرنے سے گریز نہیں کیا اور حیرت ہے بے بصیرت روایت پرستوں پر جنہوں نے ایسی خرافات کو اپنے احاطہ علم میں جگہ دی اور درج کتاب کردیا
J جواب L
میرے واجب الاحترام قارئین :۔
شرم وحیاء سے عاری اس بد فطرت انسان کی قلم نے محبوب خدا، معصوم عن الخطاء، مجسم شرم وحیا،ء سید الانبیاء کے خلاف توہین کی سب حدیں کراس کردیں ،اسے حرم نبوی کا شرم نہ آیا، اس نے نسبت ابوبکر کا لحاظ نہ کیا۔
میرا قلم لکھتے ہوئے کانپ رہا ہے، دل گھبرارہا ہے، جگر خون کے آنسوں رورہا ہے میں لکھوں تو کس طرح لکھوں ،خدا کی بارگاہ میں بے شمار مرتبہ استغفار کرتے ہوئے درگاہ رسالت میں لاتعداد مرتبہ معافی کا خواستگا ہوکر اپنی امی سیدہ طیبہ طاہرہ حمیراء حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (میرے ماں باپ اولاد خویش اقارب انکی جوتے مبارک پر قربان ہوجائیں تو اپنے لئے سعادت جانوں ) کی دربار پرانوار میں انتہائی معذرت کرتے ہوئے اس شقی ازلی کے جملے سپرد قلم کررہا ہوں لکھتا ہے۔
آپ ا کا نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی کھیل کھیلنا صفحہ[۵۷]
آپ انعوذ باللہ ان سے جنسی کھیل رچائیں اور طبع آزمائی میں مشغول ہوجائیں صفحہ[۵۸]
یہ وہ فقرے ہیں جنہیں راج پال اور رشدی جیسے ملعون بھی نہ لکھ سکے
احمد سعید چتروڑی :۔
میں مفتی نہیں مگر میرا دل گواہی دیتا ہے، میری عقل فیصلہ کرتی ہے ،میرا علم مجھے کہتا ہے، میرے ضمیر سے یہ آوازیں نکل رہی ہیں، کفریہ جملے بولنے میں تو سب سے بڑھ گیا۔
ایک بارپھر میں امی کی خدمت میں دست بستہ عرض گذار ہوں امی میں نے یہ جملے مجبوراً لکھے ناراض نہ ہونا مجھے رب العزت کی عزت وعظمت کی قسم، تیرے تقدس تیری عصمت اور تیری عظمت پر میرا مکمل ایمان ہے
دوستو:۔
بات صرف اتنی تھی کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ نو سال کی عمر مبارک میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکی رخصتی ہوگئی اب اگر کسی کو اعتراض تھا تو دلائل کی دنیا میں بات کرتا ۔مگر یہ نازیباجملے، گندا قلم اور بھونڈا انداز تحریر کسی شریف آدمی سے ناممکن ہے ۔ اس بحث میں چند باتیں سمجھنے کی ہیں
1۔۔۔کیا شادی ورخصتگی کے لئے لڑکی کا پندرہ اٹھارہ سال ہونا ضروری ہے ؟
جواب :۔
منکوحہ کا رخصتی (میری مراد ہمبستری ہے ) کے لئے شرعاً جوان ہونا ضروری ہے عمر باعتبار سنین کے متعین نہیں
قال مالکؒ والشافعیؒ وابوحنیفۃؒ حدذالک ان تطیق الجماع ویختلف ذالک باختلافہن ولا یضبط بسن وہذاہو الصحیح ولیس فی حدیث عائشہؓ تحدید ولا المنع من ذالک فیمن اطاقتہ قبل تسع ۔
نووی علی المسلم جلد[۱] صفحہ[۴۵۶]
2۔۔۔کیا نو سال کی لڑکی جوان ہوسکتی ہے؟
جواب :۔
بالغ اور جوان ہونے کا تعلق ہر ملک کی آب وہوا ،خوراک وغذا سے ہے گرم علاقوں میں لڑکیاں جلدی جوان ہوجاتی ہیں جب کہ ٹھنڈے علاقوں میں بدیر ۔سعودی عرب اور مکۃ المکرمہ ویسے بھی خط استواء پر ہونے کے سبب بہت زیادہ گرم ہے پھر ان کی عمومی خوراک کھجوریں اور بکری کا دودھ ہوا کرتی تھی لہذا نوسال کی عمرمیں جوان ہوجانا بالکل قرین قیاس ہے۔تاریخ تونوسال کی ماں، اٹھارہ سالہ نانی اور گیارہ سالہ والد ثابت کرتی ہے۔
a۔۔۔حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص Z کے حالات میں مرقوم ہے کہ یہ اپنے والد سے صرف گیارہ سال چھوٹے تھے۔ گویا حضرت عمروؓ کی شادی دس برس کی عمرمیں ہوئی خود گیارہ سال کے ہوئے اور بیٹا حضرت عبداللہ پیدا ہوگیا۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص العالم الربانی رضی اللہ عنہ۔۔۔۔۔۔وابوہ اسن منہ باحد عشرعاما فقط
تذکرہ الحفاظ جلد[۱] صفحہ[۹۳]
b۔۔۔عبادبن عباد المہلبی فرماتے ہیں ہم نے اپنے علاقہ میں نو سال کی والدہ اور اٹھارہ سال کی نانی دیکھی۔
قال ادرکت فینایعنی المہالبۃ امرأۃ صارت جدۃ وہی بنت ثمان عشرۃ سنۃ ولدت لتسع سنین ابنۃ فولدت ابنتہالتسع سنین فصارت ہی جدۃ وہی بنت ثمان عشرۃ سنۃ:۔سنن دار قطنی کتاب النکاح
c۔۔۔حضرت امام شافعی ؒ فرماتے ہیں
رایت بالیمن بنات تسع یحضن کثیرًا
سیر اعلام النبلاء جلد]۳[صفحہ]۳۲۹۵[
3۔۔۔الامہ کی کم فہمی کہوں یا دھوکہ دہی؟
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر بوقت رخصتگی اٹھارہ انیس سال ثابت کرنے کے لئے لکھتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سورۃ قمر نبوت کے پانچویں سال نازل ہوئی اور امی صدیقہؓ فرماتی ہیں میں بچی تھی کھیلتی پھرتی تھی کہ مجھے سور ۃ قمر کی آیات یاد ہوگیءں تو ماننا پڑے گا اس وقت آپ کی عمرچھ سال کی ہوگی پندرہ سال بعداز اعلان نبوت آپ مکہ مکرمہ میں رہے تو بوقت ہجرت آپ کی عمر سولہ سترہ سال ہوگی شادی ہوئی تو کم ازکم اٹھارہ انیس سال ہوچکی ہوگی۔
جواب :۔
الامہ کے اس سارے مفروضہ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ سورۃ قمر نبوت کے پانچویں سال نازل ہوئی۔
حضور والا اگر کوئی کتا ب میسر نہیں تو بخاری جلد[۲] صفحہ[۷۲۲] حاشیہ نمبر [۱] ہی دیکھ لیتے تو علامہ سہارنپوری ؒ نے صاف لکھا ہے وکان الانشقاق بمکۃ قبل الہجرۃ بنحو خمس سنین یہ واقعہ ہجرت سے تقریبا پانچ برس پہلے پیش آیا (پورے پانچ بھی نہ تھے )تو بایں اعتبار نزول سورۃ قمر کے وقت عمر مبارک چار کے قریب ہوگی کیونکہ چار سال کی بچی اوروہ بھی دینی گھر ابوبکر Zکے گھر میں رہنے کے سبب سورۃ قمر کی آیات یاد کرسکتی ہیں اور [۱] ھ شوال المکرم میں شادی ہورہی ہے
لہذا بلاخوف تردد امام بخاری کی روایت سچی ثابت ہوگی کہ آپ رضی اللہ عنہا جب حضرت اکے گھر مبارک تشریف لائیں جب رخصتی ہوئی تو عمر مبارک نوسال ہوچکی تھی۔
آئیے خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی مسئلہ کا حل سنیئے
عن عمرہ بنت عبدالرحمان بن سعد بن زرارہ قالت سمعت عائشۃ تقول تزوجنی رسول اللہ ا فیشوال سنۃ عشر من النبوۃ قبل الہجرۃ لثلاث سنی ن واناابنۃست سنین وہاجر رسول اللہ افقدم المدینۃ یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ لیلۃخلت من شہر ربیع الاول واعرس بی فی شوال علی رأس ثمانیۃ اشہر من المہاجر وکنت یوم دخل بی ابنۃتسع سنین۔طبقات ابن سعد جلد[۶] صفحہ[۴۱]
بات واضح ہوگئی سیدہ خود اپنی زبانی فرماتی ہیں کہ چھ سال کی عمرمیں میر ا نکاح ہوا اور نوسال کی عمر میں رخصتگی ہوئی۔اب ،اگر، مگر ،چِنانچہ ،چُنانچہ کی گنجائش نہیں آپ بھی بزبان سیدہ رضی اللہ عنہا معتبر دلائل پیش کریں کہ حضرتؓ فرماویں میری عمر اس وقت اٹھارہ انیس سال ہوچکی تھی ۔دیدہ باید
کس کس طرح ستاتے ہیں یہ بت ہمیں نظام
ہم ایسے ہیں کہ جیسے کسی کا خدا نہ ہو
EE
تعارض نمبر{28}
قرآن کریم نے لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہر کم تطہیرا کا مثردہ سنایا کئی آیات قرآنی اہل بیت نبی کی فضیلت میں نازل ہوئیں سیدہ عائشہؓ کے بستر پر قرآن کا نزول ہوا مگر امام بخاری باب ماجاء فی بیوت ازواج النبی وما نسب من البیوت الیھن کے تحت حدیث لائے قال النبی اخطیبا فاشار نحو مسکن عائشۃ فقال ہناالفتنۃثلاثامن حیث یطلع قرن الشیطان جس سے (نعوذ باللہ )سیدہ کی توہین ہوتی ہے
J جواب L
کسی بھی حدیث کو سمجھنے کے لئے اس کے تمام طرق پر نظر رکھنا ضروری ہے ورنہ ایسے ہی ٹھوکر لگے گی جیسی الامہ کو لگی۔ یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ کتب حدیث میں موجود ہے
1۔۔۔ ھاھنا ارض الفتن واشار الی المشرق
2 ۔۔۔الاان الفتنۃ ھاھنا یشیرالی المشرق
3 ۔۔۔یشیر بیدہ نحو المشرق ویقول ہنا ان الفتنۃ ھاھنا ثلاثا
4 ۔۔۔واومأ بیدہ نحو المشرق
فتح الباری جلد[۱۶] صفحہ[ ۵۰۲]
تو تمام احادیث پر نظر ڈالنے سے مفہوم واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت اکی مراد مشرق کی طرف سے اٹھنے والے فتنوں کی طرف اشارہ ہے ۔
رہی یہ بات کہ راوی نے نحو مسکن عائشہ کیوں کہا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت قلیل آبادی ہونے کے سبب مسجد نبوی اکے شرقی جانب مشہورو معروف بڑی عمارت آپ رضی اللہ عنہا کے حجرہ شریفہ کے سوااور کوئی نہ تھی۔
نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ جس غلط نظریہ کو سامنے رکھ کر الامہ احمد سعید بات کررہا ہے(کہ مسکن عائشہ فتنوں کا مرکز بنے )نہ وہ راوی حدیث سیدنا عبداللہ بن عمرZ کے ذہن میں تھانہ امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے حاشیہ دماغ کے قریب گذرا۔ خدا نخواستہ خدانخواستہ اگرا مام بخاریؒ کے دل میں ذرہ برابر ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے خلاف میل ہوتی تو آپ اپنی صحیح میں مستقل باب باندھ کر سیدہ کے فضائل کی روایا ت نقل نہ فرماتے ۔
حالانکہ صحیح بخاری جلد[۱] صفحہ[۵۳۲] پر مستقل عنوان فضل عائشہؓ قائم فرما کر نیچے احادیث طیبہ درج فرماتے ہیں برکت کے لئے ایک روایت سن لیجئے
ان عائشۃؓ قالت قال رسول اللہ یومایاعائشۃ ھذا جبرئیل علیہ السلام یقرئک السلام
آپ انے فرمایا عائشہ جناب سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کو سلام کہہ رہے ہیں۔
ہاں اگر آپ کو بخاری شریف کی اس روایت کے جعلی خود ساختہ ہونے پر اصرار ہے تو ہم چیلنج کرتے ہیں تاریخ اسلام میں صرف ایک محقق سنی شارح بخاری کا نام بتادیں جس نے اس روایت کو جعلی کہا ہو
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
EE
تعارض نمبر{29}
قرآن مقدس شاہد ہے کہ انبیاء کا خواب وحی کی طرح حق ہوتا ہے اور نبی کو اس کے حق ہونے میں ذرہ برابر تردد نہیں ہوتا مگرامام بخاری صفحہ[۷۶۰ ]پرحدیث لائے ہیں کہ آپ ا نے سیدہ عائشہ سے فرمایا آپ مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائے گئے تھے اور یہ بھی کہا گیا یہ آپ کی بیوی ہے فاقول ان یکن ہذا من عنداللہ یمضیہ پس میں نے کہا اگر یہ امر خدا وندی سے ہے تو ہوکر رہے گا
جب نبی کا خواب وحی الہی ہوتا ہے تو حضرت پاک نے اگر کی قید کیوں لگائی [ملخصا]
J جواب L
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آج سے صدیوں پہلے دیا جاچکا ہے اور متلاشیان حق کی تسلی وتشفی بھی ہوچکی ہے۔ مگرہمارے الامہ کو اس سے کیا غرض اس نے تو کسی نہ کسی طرح عوام کے سامنے اپنی شیخی دکھانی ہے کہ میں وہ تیس مارخان ہوں جس نے اتنی باریکی سے بخاری شریف کا معاندانہ مطالعہ کیا ہے کہ مجھے، اگر ،بھی نظرآگیا۔
لیکن حیر ت کی بات ہے اسے اگر نظر آیا لیکن اگر کے جواب پر مشتمل حاشیہ نمبر[ ۳] نظر نہ آیا ۔ارشاد الساری جلد[۱۱] کاصفحہ۴۰۲ ۔عمدۃالقاری جلد[۱۴] کا صفحہ [۱۸] فتح الباری جلد[۱۱] کا صفحہ[۴۴۱] نظر نہ آیا۔ جس پر محدثین عظام شراح بخاری رحمہم اللہ تعالیٰ نے کئی جوابات ارشاد فرمائے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے ۔
کہ حضرت اکوخواب کی حقانیت میں ذرہ برابر شک نہ تھا سو فیصد یقین تھا۔مگر بطریق شک بیان کرکے علم بلاغت کی ایک قسم مزج الشک بالیقین کا اظہار فرمایا۔ یہ عربی زبان میں فصاحت وبلاغت کا ایک طرزو طریقہ ہے۔
یہی بات ان اکابر نے فرمائی جن کا نام میں اوپر درج کرچکا ہوں
اولم یشک ولکن اخبر علی التحقیق واتی بصورۃ الشک وہذا نوع من انواع البلاغۃ یسمی مزج الشک بالیقین
لیکن اس شریف کو کیا پتہ بلاغت کیا ہوتی ہے اسے تو صرف توحید کے نام پر توہین اور سنت کے نام پر اکابر سے بغاوت ہی ورثہ میں ملی ہے۔
EE
تعارض نمبر{30}
اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو صدیق فرمایا ہے ۔انہ کان صدیقا نبیامگر امام بخاریؒ روایت لائے ہیں لم یکذب ابراہیم الا ثلٰث کذبات جس سے واضح ہے کہ حضرت ابراہیم نے تین جھوٹ بولے جو کہ مقام نبوت اور نص قرآنی کے خلاف ہے [ملخصا]بخاری صفحہ[۷۶۱]
J جواب L
یہ وہ روایت ہے جس پر صدیوں سے مفسرین کرام، محدثین عظام بطور تشریح وتفسیر لکھتے آئے ہیں ،امت کو سمجھاتے آئے ہیں، یہ تشریح آپ کو تفاسیر وشروحات حدیث میں مل سکتی ہیں۔ مگر برا ہو ضد عناد اور بغض باطن کا جس نے الامہ کے دل ودماغ پر پردہ ڈالا ہوا ہے، حق سمجھ نہیں سکتا ۔ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصار ہم غشاوۃ ولہم عذاب عظیم
اکابر پر بد اعتمادی وہ آفت ہے جس سے خرمن ایمان تباہ ہوجاتی ہی بطور تمہید چند فوائد ذہن میں رکھیں پھر اصل بات گذارش کرتا ہوں
فائدہ۱
قرآن کریم کی مختلف آیات طیبات میں ہمیں ایسے الفاظ ملتے ہیں جو ظاہری معنی کے اعتبار سے انبیاء علیہم السلام کے شایان شان نہیں۔ مثلاً
1۔۔۔ حضرت آدم علیہ السلام کی دعاربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنالنکونن من الخاسرین میں ظلم وخسران کے الفاظ
2۔۔۔ حضرت یونس علیہ السلام کی دعا میں لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظٰلمین میں ظلم کا لفظ ہے
3۔۔۔سورۃ فتح میں انا فتحنالک فتحاً مبیناً* لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتأخر میں ذنب کا لفظ ہے
4 ۔۔۔سورۃ الضحی میں ووجد ک ضالاًفھدٰی میں ضال کا لفظ
تو حضرات مفسرین کرام ان مقاما ت پر ان الفاظ کاوہ معنی مراد نہیں لیتے جو عامۃ الناس کے لئے لیا جاتا ہے بلکہ ایسی تاویل کرتے ہیں جو مقام نبوت کے لائق ہو۔
اسی طرح حدیث بخاری ( الا ثلث کذبات ) میں بھی وہ معنی مرادنہیں لیا جائے گا جو عامۃ الناس کے لئیے لیا جاتا ہے بلکہ وہ معنی لیا جائے گا جو شان سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لائق ہو
فائدہ نمبر ۲
اگر متکلم ایسے الفاظ بولے جس کے دو معنی ہوسکتے ہوں سننے والا ایک مفہوم سمجھے جبکہ بولنے والا دوسرا مفہوم مراد لے اسے توریہ کہا جاتا ہے ۔جو بعض مقامات پر باتفاق فقہا جائز ہے
مثلا شب ہجرت جب آپ اکی ذات بابرکات مع سید نا ابوبکر Z جارہے تھے تو سائل نے پوچھا کون ہو؟ جواباًسید نا ابوبکر Z بولے رجل یہد ینی السبیل یا ہاد یہدینی یہ میرا رہنما ہے ۔سائل نے دنیا کا رہنما سمجھا اور سید نا ابوبکر Z نے دین ودنیاکا رہنما مراد لیا۔ اسے توریہ کہتے ہیں
فائدہ نمبر ۳
ثلث کذبات سے کن واقعات کی طرف اشارہ ہے
1۔۔۔ جب قوم بروز عید حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ جانے کا کہنے لگی تو آپ نے فرمایا انی سقیم میری طبیعت ناساز ہے تو قوم نے ظاہری طور پر بیمار سمجھ کر چھوڑ دیا مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مراد ان کی مشرکانہ حرکات سے طبعی انقباض تھا جس پر سقیم کے لفظ بولے جانے کی گنجائش ہے اور اسی کو توریہ کہتے ہیں۔
2۔۔۔حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب بتوں کی مرمت فرمالی اور ہتھوڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا تو قوم نے پوچھا کیا یہ بتوں کو توڑنے والا عمل آپ نے کیا ہے؟ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا بل فعلہ کبیرہم (بلکہ اس بڑے نے کیا ہے)
یہاں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بطور توریہ توڑنے کی نسبت بڑے بت کی طرف مجازً افرمادی
3۔۔۔حضرت ابراہیم علیہ السلام مع اپنی اہلیہ محترمہ سیدہ سارہ سفر پر تھے راستہ میں ایسے علاقہ سے گذرے جہاں کا رئیس بدکردار تھا۔ اگر کسی کے ساتھ اس کی بیوی کو دیکھتا تو عورت کو پکڑ کر بدکاری کرتا۔ ہاں اگر کسی کے ساتھ اس کی بہن یا بیٹی ہوتی تو شرارت نہ کرتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی عزت وعصمت کے پیش نظر اس ظالم رئیس کے کارندوں سے فرمایا یہ میر ی بہن ہے
اب یہاں بھی توریہ ہے کیونکہ ان کارندوں نے خونی رشتہ کے سبب بہن ہونا سمجھا مگر ابراہیم علیہ السلام نے دینی اعتبار سے انما المؤمنون اخوۃ کے سبب بہن کہا ۔یہی بات صاحب تفسیر مظہر ی نے سورۃ صافات میں فرمائی ہے
1۔۔۔المراد بالکذبات التعریضات والتوریہ
تفسیر مظہری سور ۃ صافات صفحہ[۱۲۳]
کذبات سے مراد تعریضات وتوریہ ہے ۔
2۔۔۔والصحیح ان الکذب حرام الااذا عرض ووری الکشاف جلد[۴] صفحہ[ ۵۱]
3۔۔۔بعض احادیث صحیحہ میں اس پر لفظ کذب کا اطلاق کیا گیا ہے حالانکہ فی الحقیقت یہ کذب نہیں بلکہ توریہ ہے اور اسی طرح کا توریہ مصلحت شرعی کے وقت مباح ہے ۔
تفسیر عثمانی صفحہ[۷۷۰] سورۃ صافات
4۔۔۔معلوم ہوا کہ یہ درحقیقت کذب نہ تھا بلکہ ایک توریہ تھا ۔
معارف القرآن جلد[۶] صفحہ[۱۹۹]
5 ۔۔۔قال عیاض الصحیح ان الکذب لا یقع منہم مطلقاً واما الکذبات المذکورات فانماہی بالنسبۃ الی فہم السامع ۔۔۔۔۔۔انما سماہا کذبات وان کانت من جملہ المعاریض۔مرقاۃ جلد[۱۱] صفحہ[۸]
ناظرین گرامی قدر :۔
ان فوائد کو ذہن نشین کرلینے کے بعد اچھی طرح سمجھیں کہ حدیث بخاری میں کذب اپنے اصلی معنی میں نہیں بلکہ اسی توریہ پر بولاجارہا ہے ورنہ نعوذ باللہ انبیاء کرام تو معصوم عن الخطاء ہیں ۔
توریہ کو کذب کیوں کہا گیا ؟
رہا یہ اشکال کہ توریہ کو کذب کیوں کہا گیا ؟تواس کا جواب دیتے ہوئے قاضی عیاض فرماتے ہیں
انما ہی بالنسبۃ الی فہم السامع لکو نہا فی صورۃ الکذب واما فی نفس الامرفلیست کذبات
[حاشیہ بخاری]
چونکہ عام لوگ اپنی دانست میں توریہ کو بھی کذب سمجھ بیٹھتے ہیں اسی لیے ان پر کذب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اگر چہ فی الحقیقۃ وہ کذب نہیں ۔گویا یہ کذب صوری اور صدق حقیقی ہے۔
EE
تعارض نمبر{31}
قرآن کریم نے حلال چیزوں کے استعمال کرنے کا حکم دیا ہے اور خبائث وحرام چیزوں سے اجتناب کرنے کا فرمایا ہے
مگر امام بخاری ایک جھوٹی روایت لائے ہیں جس میں ہے کہ رسول اللہ ا نے ایک قوم کو اونٹوں کے دودھ اور پیشاپ پینے کا حکم فرمایا (ملخصاً)
بخاری صفحہ[۱۰۰۵]
J جواب L
بول مایؤکل لحمہ کے متعلق مکمل بحث تعارض نمبر ۱۴ میں بیان ہوچکی ہے۔ وہیں ملاحظہ فرماویں
رہا الامہ کا یہ کہنا کہ یہ روایت جھوٹی ہے اس کے اپنے جھوٹے ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے ۔کیونکہ امام مدینہ حضرت امام مالک ،حضرت امام احمد ،حضرت امام محمد، محدث جلیل ابن خذیمہ ،محدث کبیرابن حبان، امام نخعی ،امام زہری اور دیگر محدثین رحمہم اللہ علیہم اجمعین اس کی تصحیح کرنے کے بعد بول ما یؤکل لحمہ کی طہارت کا قول فرماچکے ہیں ۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اگرچہ بول مایوکل لحمہ کی نجاست کی قائل ہیں مگروہ بھی اس حدیث کو محض بنا بر مجبوری کے بغرض دواء استعمال کرنے پر محمول کرتے ہیں حدیث کو جھوٹا نہیں کہتے ۔ جب ائمہ مجتہدین ومحدثین ایک حدیث کی تصحیح فرماچکے ہوں آج کے کسی گویے کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے جھوٹا کہے
خدا کی شان تو دیکھو کہ کلچڑی گنجی
کرے بستان میں بلبل کے آگے نواسنجی
تفصیل وتشفی کے لئے ملاحظہ فرماویں ارشاد الساری جلد[۱] صفحہ[۵۴۰]
واجتح لشربہم البول من قال بطہارتہ نصافی بول الابل وقیاسا فی سائرمأ کول اللحم وہو قول مالک واحمدومحمد بن الحسن من الحنفیۃ وابن خزیم وابن المنذر وابن حبان ۔۔۔۔۔۔وذہب الشافعی وابوحنیفہ والجمہور الی ان الابوال کلہا نجسۃ الا ماعفی عنہ وحملوا مافی الحدیث علی التداوی فلیس فیہ دلیل علی الاباحۃ فی غیر حال الضرورۃ
نیز یہی بات عمدۃالقاری جلد[۲] صفحہ[۶۴۹] پر بھی دیکھی جاسکتی ہے
مسئلہ تداوی بالحرام
اس مسئلہ میں علماء نے کافی وافی کلام کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر دیندار اور تجربہ کار ماہر فن معالج تجویز کرے کہ اس کے علاوہ اورکوئی علاج نہیں تو بقدرضرورت بغرض علاج استعمال کرنا درست ہے ورنہ نہیں
قیل یرخص اذا علم فیہ الشفاء ولم یعلم دواء آخر کما رخص الخمر للعطشان وعلیہ الفتوی
فتاوی شامی جلد[۱] صفحہ[۲۱۰]
EE
تعارض نمبر{33-32}
ان دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مقدس میں اصحاب رسول کی شان وتوصیف میں اولئک ہم المتقون ۔اولئک ہم الراشدون۔ اولئک ہم المؤمنون حقاً۔ اولئک حزب اللہ ارشادات خداوندی موجود ہیں۔
مگرامام بخاری جلد[۲] صفحہ[۹۷۴]پر دو روایات نقل کرتے ہیں جن کا مفہوم ہے کہ روز قیامت حوض کوثر پر ایک جماعت آئے گی مگر انہیں روک دیا جائے گا
میں کہوں گا اصحابی یہ تو میرے اصحاب ہیں آنے دو جواب ملے گا لا تدری ما احدثوا بعدک ۔ انہم ارتدواعلی ادبار ہم القہقری آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا
لہذا اس حدیث میں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی ہے [ملخصا]ً
J جواب L
نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ جس امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب المناقب کا عنوان قائم فرماکر مستقل باب باندھا ہو باب فضائل اصحاب النبیااسی طرح دیگر اصحاب رسول اللہ اکے اسماء گرامی کے ساتھ ابواب منسوب کرکے فضائل کی روایات نقل کی ہوں اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اچھا ذہن نہیں رکھتے تھے ۔یا بقول الامہ یہی بکواس توروافض کے مذہب کی بنیاد تھی صفحہ [۶۸]یقیناًحقیقت کا منہ چڑھانے والی بات ہے امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری کا دامن اس الزام سے سوفیصد صاف ہے
مگر جس کا مزاج ہی بکواس کرنا ہو وہ بکتا رہتا ہے
حدیث کا صحیح مفہوم
یہ بات توبالا تفاق مسلم ہے کہ اس سے اصحاب النبی رضی اللہ عنہم جن کا جینا مرنا دین اسلام پر تھا قطعاًمراد نہیں کیونکہ ان کی عظمت وشان پر درجنوں آیات قرآنی اور بیسیوں احادیث نبویہ اناطق ہیں
شارح مسلم محدث جلیل امام نووی ؒ فرماتے ہیں
المراد بہم بہ المنافقون والمرتدون
اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو مرتد ہوگئے تھے مثلاء مسیلمہ کذاب اور اسودعنسی کے متبعین۔
بعض روایات میں امتی کے الفاظ بھی آتے ہیں تو پھر اصحاب رسول اکی نسبت سے کسی قسم کا اعتراض ہی نہ رہا
فائدہ جلیلہ
جس طرح قرآن کریم کی ایک آیت دوسری کی تفسیر کرتی ہے اسی احادیث طیبہ میں بھی صحیح مفہوم متعین کرنے کے لئے تما م طرق حدیث پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
جب ہم نے یہی رویت مستدرک حاکم جلد[۱]صفحہ[۷۷] پر دیکھی تو بات صاف ہوگئی ،اشکال جاتا رہا اور اصحاب رسول اکی پوزیشن چودھویں کے چاند سے بھی زیادہ روشن چمکنے لگی۔
حضرت ابن عمرZ سے روایت ہے حضرت افرماتے ہیں حوض کوثر پر بعض لوگ آئیں گے ان کو روک دیا جائے گا۔
حضرت سیدنا ابوبکرZ نے عرض کی لعلی منہم کیا ہم بھی انہیں سے ہونگے؟ آپ ا نے فرمایا لا ولکنہم قوم یخرجون بعد کم نہیں آپ ان میں سے نہیں بلکہ وہ تمھارے بعد آنے والی قوم ہے
ان الفاظ نے صحابہ کی پوزیشن واضح کردی کہ اس سے مراد صحابہ نہیں ہیں بلکہ وہ اورلوگ ہونگے جو بعدمیںآئیں گے۔
سنائیے الامہ صاحب :۔
آپ قرآن وحدیث کا تعارض ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے یا ناکام۔ یقیناًناکام ونامراد ہوئے
سمجھنے کی بات :۔
امام بخاری رحمہ اللہ اسی باب میں روایت لائے ہیں ابوحازم عن سہل بن سعد اس میں الفاظ ہیں لیردن علی اقوام۔ اصحابی کے الفاظ نہیں اقوام کے الفاظ ہیں ۔
امام مسلم ۔مسلم شریف جلد[۱] صفحہ[۱۲۶] پرروایت لائے ہیں ابوحازم عن ابی ہریرہ اس میں ہے ترد علی امتی الحوض۔۔۔ فاقول یارب ھؤ لاء اصحابی فیجیبنی ملک فیقول وھل تدری مااحد ثوابعد ک اس میں امتی کے الفاظ ہیں
ناظرین مکرم :۔
ان دونوں روایات کو بغور دیکھیں پہلی روایت بخاری والی میں اقوام کا لفظ ہے اور مسلم کی روایت میں امتی کا لفظ ہے حوض پر آنے والے امتی ہونگے مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ھؤلاء اصحابی یہ میرے صحابہ ہیں۔
معلوم ہوا یہاں پر اصحاب کا اطلاق امتی پر ہورہا ہے ۔لفظ اصحاب سے یاران نبوت صلی اللہ علیہ وسلم مراد نہیں ۔
باقی آپ جانتے ہیں امت نے کیا گل کھلائے یہ شریف بھی تو اپنے آپ کو امتی کہلاتا ہے جس کے منہ زور قلم سے امام بخاری رواۃ بخاری حرم نبوت اور خود نبی اکی ذات محفوظ نہیں
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم ونازک بے اثر
EE
تعارض نمبر{35-34}
امام بخاری صفحہ[۸۴۲]پربے حیا راوی ابوحازم کے ذریعہ آپ اپر یہ الزام اور روایت ذکر کرتے ہیں جس میں قرآن کی نص قطعی کے خلاف آپ کا ایک عیاش عورت سے نکاح کرنے کی کوشش کرنا ثابت ہورہا ہے۔ جو عورت نہ مہاجرات میں سے نہ واہبۃ النفس میں سے اور نہ ہی آپ کی رشتہ دار نہ ہی ایمان دار اور نہ ہی آپ سے واقف بس ایک آوارگی میں مست ہی تھی لا غیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی عورت کا ذکر اللہ کے نبی نے سن کر بے تابی سے قاصد کو کہنا کہ اس کو بلوالو ۔۔۔۔۔۔ وہ عورت اتنی خود مختار تھی اور آزاد۔ تو ایسی عورت پر اللہ کا پیغمبر اتنا فریفتہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔ایسا کام تو کوئی چنڈ وباز بھی نہیں کرتا یعنی وہ کافر اور کافرکی بیٹی تھی ۔۔۔۔۔۔لیکن بخاری صاحب لعنتی راویوں پر اعتماد کرکے بڑے وثوق سے روایت جڑدی کہ آپ انے اللہ سے معاذ اللہ بغاوت کرکے قرآن کے صریح خلاف ہوکر اس آوارہ عورت نخوت کی پیداوار سے از خود مطالبہ کردیا کہ تومجھے اپنا نفس ہبہ کردے
قرآن مقدس بخاری محدث صفحہ[۶۹تا ۷۲]
J جواب L
ناظرین :۔
درج بالا عبارت بلفظہ ہے جس میں اس الامہ نے
1 ۔۔۔روای حدیث ابوحازم کو بے حیا اور مطلقاً رواۃ بخاری کو لعنتی کہا
2 ۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لکھا ایسی عورت پر اللہ کا پیغمبر اتنا فریفتہ ہوجائے کسی عورت کا ذکر اللہ کے نبی ؐنے سن کر بے تابی سے قاصد کو کہنا کہ اس کو بلوالو۔۔۔۔۔۔ ایسا کام توکوئی چنڈ وباز بھی نہیں کرسکتا
3۔۔۔ منکوحہ رسولؐ کو آوارگی میں مست عورت ۔خود مختار اور آزاد ۔کافرہ اور کافر کی بیٹی۔ آوارہ عورت نخوت کی پیدا وار لکھا
آپ خود فیصلہ فرماویں یہ مسلمان کا قلم ہے یاکسی کافر کا طرز تحریر ہے اس کا اخروی معاملہ تو جو ہوگا یاہورہا ہے اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتے ہیں مگر حیرانگی تو ان شرفاء پر ہے جو اب بھی اس کتاب کے آنے کے بعد بھی اس کی اس رسواء زمانہ تالیف کو تحقیق کا نام دیتے ہیں اور گن گاتے نہیں تھکتے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون
حقیقت حال
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کو دومقام پر لائے ہیں
1 کتاب الطلاق2 کتاب الاشربہ
میں مناسب سمجھتا ہوں دونوں مقام سے مکمل روایت نقل کردوں تاکہ دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے
عن ابی سعید قال خرجنا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم حتی انطلقنا الی حائط یقال لہ الشوط حتی انتہینا الی حائطین فجلسنا بینہما فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم اجلسوہہنا ودخل وقداتی بالجو نیۃ فانزلت فی بیت فی نخل فی بیت امیمہ بنت النعمان بن شراحیل ومعہا دا یتھا حاضنۃ لہا فلما دخل علیھا النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ھبی نفسک لی قالت وھل تھب الملکۃ نفسھا للسوقۃ قال فاھوی بیدہ یضع یدہ علیھا لتسکن فقالت اعوذ باللہ منک فقال قد عذت بمعاذ ثم خرج علینا فقال یا ابا اسید اکسہا رازقیین والحقھا باھلہا ۔
کتاب الطلاق جلد[۲]صفحہ[۷۹۰]
عن سہل بن سعد قال ذکرللنبی صلی اللہ علیہ وسلم امراۃ من العرب فامر ا با اسیدالساعدی ان یرسل الیھا فارسل الیھا فقدمت فنزلت فی اجم بنی ساعدۃ فخرج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حتی جاء ھا فدخل علیھا فاذاامراۃ منکسۃ راسھا فلما کلمھا النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالت اعوذ باللہ منک فقال قد عذ تک منی قالو لہا اتدرین من ہذا قالت لا قالواھذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاء لیخطبک قالت کنت انااشقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب الاشربہ جلد [۲] صفحہ[۸۴۲]
دونوں روایات کا مفہوم یہ ہے بی بی امیمہ بنت نعمان کے والد حضرت نعمانؓ Z جو کہ صحابی رسول اتھے حضور کی خدمت میں گذارش کی میں آپ کی شادی عرب کی ایک خوبصورت عورت سے کردوں (مگر وہ بیوہ ہے ) قدر غبت فیک وحطت الیک وہ آپ سے عقیدت ومحبت بھی کرتی ہے حضرت انے ساڑھے بارہ اوقیہ پر نکاح فرمالیا (معلوم ہوتا ہے حضرت نعمان اپنی بیٹی کے وکیل بن کر حاضر ہوئے تھے)۔طبقات ابن سعد جلد[۶] صفحہ[۱۰۶]
آپ ا نے حضرت ابو اسیدساعدی Z کو لینے کے لئے ساتھ بھیج دیا یہاں تک کہ حضرت ابواسیدZ نے انہیں لاکر بنی ساعدہ کے مکانوں میں بٹھایا اسکے ساتھ اسی کی دائی بھی تھی۔ آپ ا کو اطلاع دی گئی آ پ ا تشریف لائے اورمکان میں داخل ہوئے۔ کیا دیکھتے ہیں وہ شرم سے سر جھکائے بیٹھی ہے اور فرمایاہبی نفسک اپنے آپ کو میرے حوالے کر باوجود یکہ نکاح پہلے ہوچکا تھا یہ محض تالیف قلب کے لئے فرمایا (وہ چونکہ آپ ا کو پہچانتی نہ تھی دیکھا ہوا نہ تھا اس کے ذہن میں حضرت ا کا نقشہ ایک انتہائی ظاہری ٹھاٹھ باٹھ کا تھا مگر حضور انورا حسب عادت شریفہ بے تکلف سادہ لباس میں ملبوس داخل ہوئے تھے ) تو کہنے لگی کیا شہزادی اپنے آپ کو ایک عام شہری کے حوالہ کرسکتی ہے؟ (کیونکہ اسکے ذہن میں تو تھا کہ میں امام الانبیاء سیدالاولین والآخرین کے لئے ہوں شکل سے نا آشنا ہونے کے سبب آپ کو عام آدمی سمجھ بیٹھی )آپ ا نے پھر بھی ازراہ تشفی وتسلی ہاتھ مبارک آگے بڑھایامگر پھر بھی اس نے لا علمی کے سبب کہہ دیا میں آپ ا سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں آپ ا نے فرمایا تو نے ایسی ذا ت کی پناہ طلب کی جو واقعی پناہ لینے کے قابل ہے۔
آپ ا باہر تشریف لائے اور فرمایا ابو اسیدؓ اسے کپڑوں کا جوڑا دے کر اسکے گھر پہنچا آؤ
جب اس عورت سے پوچھا گیاا تدرین من ہذا کیا جانتی ہویہ کون تھے؟ کہنے لگی لا، نہیں انہوں نے بتایا یہ رسول اللہ ا ہی توتھے تو پریشان ہوکر کہنے لگی کنت انااشقی ہاں میں ہی بد نصیب تھی ۔
طبقات ابن سعد جلد[۶] میں ہے وہ خلافت سید عثمان Z میں فوت ہوئی۔
قارئین مکرم :۔
یہ ہے مکمل روایت کا صحیح مفہوم
خلاصتہ الکلام :۔
اس پورے واقعہ پیش آنے کا سبب اس عورت کا آنحضرت اکو نہ پہچاننا تھا ۔ نعوذ باللہ کسی قسم کی گستاخی کرنا مقصود نہ تھی ۔اگر گستاخی مقصود ہوتی تو پریشان ہوکر اپنے آپ کو بدنصیب نہ کہتی ۔دیکھئے بخاری شریف[ کتاب الاشربہ]
فرمائیے اس میں کونسی چیز قابل گرفت ہے کہ احمد سعید نے انتہائی بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت ابوحازم کو بے حیا لکھ دیا۔ کافرانہ روش پر چلتے ہوئے صحابی رسول ا حضرت نعمانZکو کافر کہہ دیا ۔ایک باحیا خاتون جو کہ منکوحہ رسول ا ہوچکی تھی اسے آوارگی میں مست عورت، کافرہ، نخوت کی پیداوار لکھ رہا ہے۔
پھر آنحضرت ا کی شان اقدس واطہر کی گستاخی کرتے ہوئے لکھا کہ ایسا کام تو چنڈو باز بھی نہیں کرسکتا ۔فرمائیے اگر یہ اسلام ہے تو کفر کیا ہوگا؟
نہ برق میں یہ کرشمہ نہ شعلہ میں یہ ادا
کوئی بتائے کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے
مسلمانو:۔
خدا کے لئے اپنے حال پر رحم کرو اس شریف کی حقیقت کو پہچانواور دین نبویؐ، حدیث پیغمبر سے پیار کرتے ہوئے ا س سے بے زاری کا اظہار کرو اس میں تمھاری نجات ہے ۔نوٹ
طبقات بن سعد جلد[۶] صفحہ[۱۰۵]
اسد الغابہ جلد[۷] صفحہ[۱۵]
سیرۃ النبی ؐالھدی والرحمہ صفحہ[۴۱۱]
میں اسی بنت نعمانؓ کا ذکر زوجات النبی میں کرنا اس کی بین دلیل ہے کہ وہ منکوحہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھی گو بعد میں طلاق ہوگئی
مؤدبانہ گذارش :۔
عمومی طور پر مترجمین بخاری نے ہل تھب الملکۃ نفسہا للسوقۃمیں سوقہ کا معنی بازاری کیا ہے جو کہ انتہائی نامناسب ہے کیونکہ سوقہ کا معنی عوام الناس ہے جبکہ السوقی کا معنی بازاری ہے۔
دیکھئے معجم الوسیط صفحہ[۵۴۸]۔القاموس الوحیدصفحہ[ ۸۲۶]
گر قبول افتد زہے عزوشرف
لطیفہ
ایک مرتبہ ایک رافضی نے میرے سامنے یہی روایت پیش کرکے امام بخاری ؒ پر اعتراض کیا اور بڑا اترا کر متکبرانہ انداز میں گفتگو کرنے لگا مگر جب میں نے انہیں کی کتاب اعلام الوری مؤلفہ ابی علی الفضل بن الحسن طبرسی مطبوعہ تہران کے صفحہ [۱۵۰ ]پر بعینہ انہیں الفاظ کے ساتھ حوالہ پیش کیا تو پھر غبارہ سے ہوا نکل گئی اور ہاتھوں سے طوطے اڑ گئے ۔
EE
تعارض نمبر{36}
اس کاخلاصہ یہ ہے کہ آیات مبارکہ استغفر لہم اولا تستغفر لہم اور ولا تصل علی احد منہم مات ابداًکا نزول عبداللہ بن سلول کی موت سے پہلے ہوا
مگر امام بخاری روایت لائے ہیں کہ حضرت پاک انے اس کا جنازہ پڑھایااور ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ بعد میں نازل ہوئیں۔بخاری صفحہ[۱۸۲]
نیزیہ کیسے ہوسکتا ہے خداوند روکیں اور نبی حکم عدولی فرماویں
(۲ ) یہ بھی جھوٹ ہے کہ آنحضرت ا کو آیت کریمہ استغفر لہم اولا تستغفر لہم کی روشنی میں منافق کے جنازہ پڑھنے نہ پڑھنے میں اختیار تھا[ ملخصا]ً
اس کے علاوہ گالی گلوچ سے خوب اچھی طرح اپنی قبروآخرت کالی کی
J جواب L
آئیے یہ فیصلہ الامہ کے استاذ محترم شیخ القرآن ؒ سے کراتے ہیں۔
تفسیر جواہرالقرآن سورۃ توبہ صفحہ[۴۴۸] حاشیہ[ ۷۵] پر رقمطراز ہیں
صحیح مسلم میں ہے جب ابن ابی مرگیا تو حضورااس کا جنازہ پڑھنے لگے تو حضرت عمرZ نے آپ کا دامن تھام کر عرض کیا یارسول اللہ۔ اللہ نے تو آپ کو اس کا جنازہ پڑھنے سے منع فرمادیا ہے آپ نے کہا اللہ نے فرمایا اگر تم ستر بار ان کے لئے بخشش مانگو تو بھی نہیں معاف کرونگا اور میں اس کے لئے ستر سے بھی زیادہ بار استغفار کرونگا۔ شاید اللہ اسے معاف کردے
ناظرین :۔
اس عبارت سے دو باتیں واضح ہوگئیں
1۔۔۔حضور انے حضرت عمرؓ کو جوجواب دیااس سے معلو م ہوتا ہے کہ حضرت انے اس کا جنازہ پڑھایا ۔
2۔۔۔حضور اکرم ااستغفر لہم اولا تستغفرلہم سے مطلقاً ممانعت کا مفہوم نہیں لے رہے بلکہ دونوں جہتوں میں اختیار کے سبب جنازہ پڑھا رہے ہیں ۔
اب خود ہی فیصلہ فرماویں سچا کون؟ استاد یا شاگرد
2شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
آپ انے ارشاد فرمایا اے عمر Z مجھکو استغفار سے منع نہیں کیا گیا بلکہ آزاد رکھا گیا ہے کہ استغفار کروں یا نہ کروں یہ خدا کا فعل ہے اسے معاف نہ کرے ۔۔۔۔۔۔لیکن آخر کار وحی الہی ولا تصل علی احد منہم مات ابداً ولا تقم علی قبرہ نے صریح طور پر منافقین کا جنازہ پڑھنے یا ان کا اہتما م دفن کفن وغیرہ میں حصہ لینے کی ممانعت کردی۔ تفسیر عثمانی سورۃ توبہ حاشیہ[ ۸۷]
اس سے بھی واضح ہو ا کہ حضرت انے نما زجنازہ پڑھی اور استغفار کرنے نہ کرنے میں اپنے آپ کو مختا ر سمجھا نیز آیت مبارکہ ولا تصل علی احد منہم مات ابداً بعد میں نازل ہوئی
3مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحب ؒ فرماتے ہیں ۔
رسول اللہ انے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے کہ مغفرت کروں یا نہ کروں اور آیت میں جو سترمرتبہ استغفار پر بھی مغفرت نہ ہونے کا ذکر ہے تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرسکتا ہوں
آیت سے مرا د سورۃ توبہ کی وہی آیت ہے جوابھی گذرچکی ہے یعنی استغفر لہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفراللہ لہم پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی ۔نماز کے بعد ہی یہ آیت نازل ہوئی لا تصل علی احدمنہم الخ چنانچہ اس کے بعد آپ انے کبھی کسی منافق کے جنازے کی نماز نہیں پڑھی ۔معارف القرآن ج[۴] صفحہ[۴۳۴]
مسئلہ واضح ہوا کہ حضرت انے اس عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ بھی پڑھی آیت سے استغفار کرنے یا نہ کرنے کا اختیار بھی سمجھا نیز آیت ولا تصل علی احد منہم مات ابداً بعد میں نازل ہوئی ۔جس طرح امام بخاری روایت لائے ہیں
4 اما م قرطبی ولا تصل علی احدمنہم مات ابداً کے تحت رقمطراز ہیں۔
وتظاہرت الروایات بان النبی ا صلی علیہ وان الایۃ نزلت بعد ذالک
روایت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت انے اس کی نماز جنازہ پہلے پڑھی اور آیت بعد میں نازل ہوئی ۔
تفسیر قرطبی جلد[۸] صفحہ[۲۱۸]
5صاحب روح المعانی رقمطراز ہیں
واکثر الروایات انہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی علیہ ۔
روح المعانی جلد[۶] صفحہ[۱۵۴]
6صاحب تفسیر خازن فرماتے ہیں
ولما نزلت ہذا الایۃ قال رسول اللہ ان اللہ قد رخص لی فسازیدن علی سبعین ۔۔۔۔۔۔فصلی علیہ رسول اللہ فانزل اللہ عزوجل ولا تصل علی احدمنہم مات ابداً۔
تفسر خازن سورۃ توبہ صفحہ[۱۰۵]
7صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں ۔
فصلی علیہ فانزل اللہ تعالیٰ ولا تصل علی احد منہم مات ابداً۔ تفسیر مظہر ی سورۃ توبہ صفحہ[۲۷۶]
ان تمام مفسرین کرام نے امام بخاری رحمہ اللہ کی تائید کی ہے تردید نہیں کی
اشکال :۔
آپ انے رئیس المنافقین کی نمازجنازہ کیوں پڑھائی؟
جواب :۔
پہلی بات تو یہ ہے صراحت کے ساتھ ان پر نمازجنازہ نہ پڑھنے کا حکم بعد میں نازل ہوا نیز مصلحت یہ تھی کہ اس منافق کے صاحبزادہ کامل الایمان صحابی رسولؐ حضرت عبداللہ بن عبداللہ کی دلجوئی مقصود تھی ۔
EE
تعارض نمبر{37}
قرآن کریم نے اصحاب رسول کی عظمت میں والزمہم کلمۃ التقوی ارشاد فرمایا ہے مگرا مام بخاری روایت لائے ہیں ان ناسامن اصحابی یؤخذبہم ذات الشمال فاقول اصیحابی اصیحابی فیقول انہم لم یزالو ا مرتدین علی اعقابہم منذ فارقتہم بخاری۔صفحہ [۴۷۳]
اس سے اصحاب رسول ؐکی توہین معلوم ہوتی ہے
J جواب L
اس روایت کی مکمل بحث تعارض نمبر۳۲ میں جواباً گذارش کی جاچکی ہے الامہ نے چونکہ اعتراضات کے نمبر بڑھانے ہیں اس لئے اسے دوبارہ ذکر کردیا ورنہ اس روایت اور سابقہ کا مضمون ومفہوم ایک ہے۔ البتہ صرف الفاظ مختلف ہیں وہاں اصحابی تھا یہاں اصیحابی ہے وہاں ارتدو اعلی ادبارہم تھا یہاں مرتدین علی اعقابہم ہے
ہم واضح کرچکے ہیں
1 ۔۔۔اصحابی بمعنی امتی ہے یاران نبوت مراد نہیں۔
2۔۔۔ مستدرک حاکم کی روایت میں واضح ہے حضرت انے ابوبکرZ سے فرمایا لکنہم قوم یخرجون بعد کم وہ قوم بعد میں آئے گی (اے صحابہ ) تم مراد نہیں
یہ باتیں سمجھ لینے کے بعد فرمائیے اب بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے دل میں اصحاب رسول اکی نفرت تھی نعوذ باللہ۔ اور وہ یہ روایات توہین صحابہؓ کیلئے لائے
EE
تعارض نمبر{39-38}
قرآن مقدس ایک ہی حرف پر نازل ہوا جس حرف پرنازل ہواسی حرف کے ساتھ موجود ہے نہ اللہ نے مختلف قرأتوں میں نازل کیا اور نہ رسول اللہ ا نے کسی صحابی کو کچھ اورکسی اور صحابی کو کچھ پڑھایا ۔نہ کسی صحابی نے موجودہ حرف کے خلاف پڑھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن امام بخاری کہتے ہیں کہ اس موجودہ حرف کے علاوہ دوسری قرأتیں بھی نازل ہوئی ہیں سبعۃ قرأت پرقرآن نازل ہوا ۔۔۔۔۔۔گویا یہ اختلاف ان کے درمیان خود اللہ کے رسول نے ڈال دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصحاب کو غلط فہمی میں خود رسول اللہ ؐ نے ڈال دیا تھا ۔۔۔۔۔۔صحیح بخاری صفحہ[۳۲۶۔ ۷۴۷۔ ۷۵۴۔ ۱۰۳۵۔ ۱۱۲۶ ] متقارب الفاظ کے ساتھ پانچ جگہ ذکر کی ہے ۔
قرآن مقدس بخاری محدث[۷۶ تا ۷۹]
خلاصۃ الکلام:۔
الامہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں
1۔۔۔ رسول اللہ انے مختلف صحابہ کو مختلف الفاظ میں قرآن نہیں پڑھایااوران القرآن انزل علی سبعۃ احرف یا اسکے متقارب الفاظ پر مشتمل احادیث بخاری جھوٹی ہیں۔
2۔۔۔امام بخاری نے کہا ہے کہ سبعۃ قرأت پر قرآن نازل ہوا۔
J جواب L
لعنۃ اللہ علی الکاذبین
اس شریف نے جو صفحات نقل کیئے ۳۲۶۔۷۴۷۔۷۵۴۔۱۱۲۶۔۱۰۳۵ ان میں سے ایک مقام پر بھی سبعۃ قرآت کے الفاظ نہیں ہیں ۔اس نے سوفیصدیہ سفید جھوٹ بولا کہ امام بخاریؒ کہتے ہیں کہ اس موجود ہ حرف کے علاوہ دوسری قرأتیں بھی نازل ہوئیں ہیں سبعۃ قرات پر قرآن نازل ہوا ہے۔ بلفظہ
(قرآن مقدس بخاری محدث صفحہ[۷۸] سطر نمبر[ ۱۰]
سب سے بڑی چیز ہے خوف خدا جب یہ دل سے نکل جائے تو پھر اس قسم کی غلط بیانی عقل سے بعید نہیں ۔میں نے روافض وغیرہ کی کتب بغور دیکھی ہیں مگر یہ شخص جھوٹ بولنے میں چیمپئن ہے ،اس فن کی اعلی ڈگری حاصل کی ہے اس کو کہتے ہیں قبرچونا گچ مردہ بے ایمان کذب اور دھوکہ دہی کے سواء کام نہیں اور القاب امام انقلاب شیخ التفسیر والحدیث علامہ
انا للہ وانا الیہ راجعون
دستار کے ہرپیچ کی تحقیق ہے لازم
ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا
فائدہ جلیلہ
امام بخاری رحمہ اللہ جو روایت لائے ہیں اس کے الفاظ ان القرآن انزل علی سبعۃ احرف کے قریب قریب ہیں ۔یہ روایت صرف امام بخاری ہی نہیں بلکہ
b امام مسلم جلد[۱] صفحہ[ ۲۷۲] پر نقل فرماتے ہیں
ان ہذا القرآن انزل علی سبعۃ احرف
b امام ابوداؤد جلد[۱] صفحہ[ ۲۰۷] پر نقل فرماتے ہیں ۔
ان ہذا القرآن انزل علی سبعۃ احرف
bامام نسائی ج[۱ ]صفحہ [۱۰۵] پر نقل فرماتے ہیں ۔
ان ہذا القرآن انزل علی سبعۃ احرف
b امام ترمذی جلد نمبر[ ۲] صفحہ[ ۱۳۸] پر نقل فرماتے ہیں ۔
ان ہذا القرآن انزل علی سبعۃ احرف
b امام مالک موطا صفحہ [۱۸۷]پر فرماتے ہیں ۔
ان ہذا القرآن انزل علی سبعۃ احرف
نیز صاحب روح المعانی علامہ آلوسی بغدادی حنفی نقشبندی فرماتے ہیں
1۔۔۔اقول روی احدو عشرون صحابیاً حدیث نزول القرآن علی سبعۃ احرف حتی نص ابوعبیدہ علی تواترہ ۔روح المعانی جلد[۱] صفحہ[۲۰]
میں کہتا ہوں اس حدیث کو اکیس اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کیا ہے یہاں تک کہ امام ابوعبیدہؒ فرماتے ہیں یہ روایت متواتر ہے ۔
2۔۔۔ورد حدیث نزل القرآن علی سبعۃ احرف من روایۃ جمع من الصحابۃ
۱بی بن کعبؓ{2} انس{3} حذیفہؓ {4} زید بن ۱رقمؓ {5}سمرہ بن جندبؓ {6} سلمان بن حردؓ {7} ابن عباسؓ {8} ابن مسعودؓ{9}عبدالرحمن بن عوفؓ {10}عثمان بن عفانؓ {11}عمرو بن ابی سلمہؓ{12}عمروبن العاصؓ {13}معاذ بن جبل{14}ہشام بن حکیمؓ {15}ابی بکرۃؓ{16} ابوجھمؓ{17}ابو سعید الخدریؓ{18}ابو طلحہ انصاریؓ{19} ابو ھریرہ {20} ابو ایوبؓ {21} عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔
الاتقان۔ صفحہ[ ۴۶]
اس حدیث کو اکیس اصحاب رسول اروایت فرماتے ہیں۔ مگر احمد سعید منکر ہے۔
3 ۔۔۔حضرت عثمان Z نے منبر مبارک پر کھڑے ہوکر فرمایا میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جنہوں نے حضرت پاک اسے ان القرآن انزل علی سبعۃ احرف سنا ہو کھڑے ہوجائیں فقامو احتی لم یحصوا فشہدوا بذالک فقال وانا اشھد معہم اتنی تعداد میں صحابہؓ کھڑے ہوئے کہ شمار بھی مشکل تھا امیر عثمان Zنے فرمایا میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں ۔
مسند ابویعلی بحوالہ الاتقان جلد[۱] صفحہ[۴۶]
ناظرین گرامی :۔
توجہ کا مقام ہے کیا یہ سارے اصحاب رسول ا اور محدثین کرامؒ جھوٹ اور جھوٹی روایت پر مجتمع ہوگئے (العیاذ باللہ ) ان کے دل میں ذرہ برابر خوف خدا نہ تھا کہ غیر حدیث کو حدیث بنا کر امت کے سامنے پیش فرمادیا۔
لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
حقیقت یہ ہے کہ حدیث بھی سچی ہے بحمد اللہ اصحاب رسول ا اورمحدثین عظام رحمہم اللہ علیہم اجمعین بھی سچے ہیں صرف ایک شخص قدرت کی گرفت میں ہے جو پوری امت کو جھوٹا کہہ رہا ہے جب چوٹی کے محدثین عظام اور مفسرین کرام نے اپنی مشہور ومتداول کتب میں اس حدیث کو نقل فرمایا دیا ہے تواحمد سعید کو ن ہوتا ہے جس کی بات قابل التفات ہو۔ کیا اکابر کی مخالفت کا نا م تحقیق ہے ؟
بلبل ہمہ تن خوں شد وگل ہمہ تن داغ
اے وائے بہارے اگر این ست بہار
حدیث کا صحیح مفہوم :۔
محققین امت کا قول یہ ہے کہ قرآن اولاً قریش کی لغت پر نازل ہوا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قومی زبان تھی وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لہم
ہجرت سے قبل چونکہ اسلام لانے والے زیادہ تر اہل مکہ سب قریش تھے اسی لیے دوسری لغت میں مسلمانوں کو پڑھنے کی چندا ں ضرورت نہ تھی مگر ہجرت کے بعد دیگر قبائل عرب اسلام میں داخل ہونے لگے گو تما م قبائل عرب کی مشترکہ زبان عربی تھی مگر تلفظ میں کافی فرق تھا
مثلاً قریش حتی حین کو حاء کے ساتھ پڑھتے مگر قبیلہ ھذیل کے لوگ حتی عینع کے ساتھ پڑھتے (آج بھی مکہ المکرمہ میں مکی قم کہتے ہیں اور مصری گم کہتے ہیں) یا دلی ولکھنو کی زبان اردو ہونے کے باوجود مختلف ہے ایک کھار اپانی کہتے ہیں دوسرے کھاری پانی بولتے ہیں بعض چھالیہ کہتے ہیں دوسرے ڈلی یا سپاری کہتے ہیں ۔
اس لئے حضور اکرم انے درخواست کی کہ اس میں توسیع کی جائے چنانچہ درخواست منظور ہوئی اور سات طریقوں (مراد سات لغات ہیں ) پر قرآن پڑھنے کی اجاز ت دے دی گئی نیز ان سات لغات میں پڑھنا ہر شخص کی رائے پر نہ تھا بلکہ رسول اللہ اسے سن کر پڑھنے کی اجازت تھی۔
قال القاضی ابوبکر الباقلانی الصحیح ان ہذہ الاحرف السبعۃ ظہرت واستفاضت عن رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم وضبطہا عنہ الامۃ ۔
نو وی علی المسلم جلد[۱] صفحہ[۲۷۲]
گویا قرآن کی اصلی لغت قریش کی لغت تھی او ر دوسرے لغات کی اجازت عارضی بغرض تیسیر تھی جب دیگر قبائل کے لئے قریش کے ساتھ اختلاط کے سبب لغت قریش پر قرآن پڑھنا آسان ہوگیا تو صحابہؓ نے اجماع واتفاق کے ساتھ خلیفہ راشد سیدنا عثمان Z کے زمانہ میں ایک ہی لغت (قریش) پر قرآن کو جمع فرما کر دیگر لغات میں قرآن کا پڑھنا بند کردیا۔
ذکر الطحاوی ان القراۃ بالاحرف السبعۃ کانت فی الامرخاصۃ لضرو رۃ لاختلاف لغۃ العرب ومشقۃ اخذ جمیع الطوائف بلغۃ فلما کثر الناس والکتاب وارتفعت الضرورۃ عادت الی قرأۃ واحدۃ۔
نووی علی المسلم جلد[۱] صفحہ[۲۷۲]
کیونکہ عارضی حکم حصو ل غر ض تک ہی ہوتاہے۔
ملخصًاامداد الاحکام جلد[۱]صفحہ[۲۶۴۔۲۶۶]
یہ ہے حدیث کا صحیح مفہوم جسے نہ سمجھنے کے سبب چتروڑی نے سرے سے احادیث کا ہی انکار کردیا ہے۔
چتروڑی اور اسکے ہمنواء کان کھول کر سنیں :۔
باوجودیکہ سبعہ احرف سے قرأت سبعہ مرادنہیں مگر بایں ہمہ امت میں جو قرأتیں متواتر ہیں اور مسلمانوں کاان پر اجماع ہو چکا ہے ان کا ماننا ضروری ہے۔ نیز متواتر کا منکر کافر ہوتا ہے۔
1 ۔۔۔القرآن الذی تجوز بہ الصلاۃ بالاتفاق ہو المضبوط فی مصاحف الائمۃ التی بعث عثمانؓ الی الامصار وہو الذی اجمع علیہ الائمۃ العشرۃ وہذا ہو المتواتر جملۃ وتفصیلا ۔
فتاوی شامی جلد[۱] صفحہ[۴۸۶]
2۔۔۔قد اجمع المسلمون فی ہذہ الامصار علی الاعتماد علی ماصح من ھٰولاء الائمۃ مما رووہ ورأوہ من القرات تفسیرقرطبی جلد[ ۱]صفحہ[۴۶]
3۔۔۔ومن انکرالمتواتر فقد کفر
فتاوی عالمگیری جلد[۲] صفحہ[۲۶۵]
تیری جدا پسند ہے میری جدا پسند
تجھ کو خودی پسند ہے مجھ کو خدا پسند
لطیفہ
اب تک۳۷ تعارض پیش کیئے گئے ہیں ہر تعارض میں قرآن مقدس کا عنوان قائم کرکے قرآن کریم کی آیت اور بخاری محدث کے عنوان کے تحت بخاری شریف کی روایت نقل کرکے بزعم خویش تعارض ثابت کرناالامہ کا انداز تالیف و تصنیف رہا ہے ۔مگر تعارض نمبر ۳۸۔۳۹ میں قرآن مقدس کے عنوان کے تحت کوئی قرآنی آیت درج نہیں کی گئی بلکہ الامہ احمد سعید کی اپنی تقریر لکھی گئی ہے
نامعلوم وجہ کیاہے ؟
یا تو ترکش خالی ہوچکا ہے یا پھر نعوذ باللہ ثم نعوذباللہ حضرت نے اپنے کلام کو اس قابل سمجھا کہ اسے قرآن مقدس کے زیر عنوان درج کیا جائے۔
واللہ اعلم بالصواب
EE
تعارض نمبر{40}
قرآن پاک میں مسلمانوں کے دوگروہوں میں اگر لڑائی ہوجاے تو حکم ربانی ہے کہ ان کے درمیان صلح کرادو وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینہما اور سور ت حجرات کی یہ آیت باتفاق علماء فتح خیبر کے بعد نازل ہوئی تھی ۔
بلفظہ صفحہ[۸۰]
مگر بخاری ؒ نے صفحہ [۳۷۱]پر اس آیت کا شان نزول اس واقعہ کو قرار دیا ہے کہ جب مسلمانوں اور عبداللہ بن ابی کے درمیان لڑائی ہوگئی تھی ابن ابی اس لڑائی کے وقت کٹر کافر تھا وہ تو غزوہ بدر کے بعد منافقانہ اسلام لایا تھا امام بخاریؒ کو آیت میں مؤمنین کے الفاظ بھی نظر نہ آئے[ ملخصا]ً
تعارض کا خلاصہ یہ ہے کہ آیت میں موجود مؤمنین کے الفاظ واضح کرتے ہیں کہ لڑائی مؤمنین کے درمیان تھی عبداللہ بن ابی اس وقت کافر تھا لہذا اس آیت کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں جس میں ابن ابی کا ذکر ہے
نیز آیت کا نزول فتح خیبر کے بعد ہوا اور عبداللہ ابن ابی غزوہ بدر کے بعد مسلمان ہوا ۔
J جواب L
پہلے اصل واقعہ سن لیں پھر انشاء اللہ جواب گذارش کروں گا۔
جب آنحضرت ا مدینہ تشریف لائے تو لوگوں نے گذارش کی اگر جناب عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لے چلیں تو اس کی دل جوئی ہوجائیگی اور بہت سے لوگ مسلمان ہوجائینگے آنحضرت ا بلاتکلف تشریف لے گئے
مگر اس کمینہ فطرت نے کہہ دیا لقد آذانی نتن حمارک آپ کے گدھے کی بدبو نے مجھے پریشان کردیا۔ یہ جملے سن کر صحابی رسول ا برداشت نہ کرسکا اس نے جواباً کہا رسول اللہ اکا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے۔ صحابی Z کے اس جواب پر ابن ابی کے ایک ہم قوم کو غصہ آگیا۔ الغرض دونوں طرف سے ہاتھا پائی ہوئی حضرت ا نے صلح کرادی اور یہ آیت نازل ہوئی ۔
تفصیل کے لئے عمدۃالقاری جلد[۹] صفحہ[۵۷۴]
میرے پیارے بھائیو :۔
اس آیت وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا[الایۃ] کا نزول اس واقعہ پر ہوا جس میں عبداللہ ابن ابی بھی تھا یہ نقل کرنے والے صرف امام بخاری ؒ نہیں اس حقیقت کو دیگر کے علاوہ صاحب کشاف نے جلد[۴] صفحہ[۳۶۷] پر
علامہ عینی نے عمدہ القاری جلد[۹] صفحہ[۵۷۴]پر
علامہ قسطلانی نے ارشاد الساری جلد[۶] صفحہ[۱۶۷]
حضرت ابن عباس Z نے تنویر المقیاس صفحہ[۵۴۸]پر بھی تسلیم کیا ہے
لہذا احمدسعید کا یہ کہنا کہ یہ بات صرف امام بخاریؒ کی ہے درست نہیں
نہ من تنھا درین مے خانہ مستم
جنید وشبلی وعطار ہم مست
رہی یہ بات کہ آیت میں مؤمنین کے الفاظ ہیں اور اس وقت ابن ابی کا فر تھا اس کا جواب علامہ قسطلانیؒ متوفی ۹۲۳ھ اور علامہ عینیؒ متوفی ۸۵۵ھ نے آج سے صدیوں پہلے ارشاد فرمادیا ہے ۔
جس کا خلاصہ یہ ہے عرب کی عام عادت کے مطابق یہ لڑائی اتنی بڑھی کہ اصل واقعہ سے بے خبر ہونے کے سبب دو قوموں کی لڑائی بن گئی اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ دونوں قوموں میں مؤمن مسلمان بھی تھے لہذا قرآن کریم کا وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا فرمانا بالکل درست ہے ۔
وفی تفسیر ابن عباس واعان ابن ابی رجال من قومہ وہم مؤمنون فاقتتلوا
عمدۃ القاری جلد[۹] صفحہ[۵۷۵]۔
ارشادالساری جلد[۶]صفحہ[۱۶۷]
باقی الامہ کا یہ کہنا کہ سورۃ بعد میں نازل ہوئی ہے اور واقعہ پہلے کا ہے اس کا جواب حافظ ابن حجر عسقلانیؒ متوفی ۸۵۲ھ فرماتے ہیں
یحتمل ان تکون آیۃ الاصلاح نزلت قد یماًفیندفع الاشکال ۔فتح الباری جلد[۶] صفحہ[۵۷۴]
EE
تعارض نمبر{41}
قرآن مقدس میں یہ بیان ہوا ہے کہ جو شئی مسلمانوں کے لئے ضرر رساں ہو اور اس سے نفع کی توقع نہ ہو تو اس کو مٹا دینا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاص طور پر قرآن نے انبیاء کا یہ خاص کردار ذکر کیا ہے وہ اللہ کی رحمت کا نمونہ ہوتے ہیں بلند اخلاق کہ خود تکالیف برداشت کرلیتے ہیں لیکن کسی کود کھاتے نہیں بلفظہ صفحہ[۸۱]
لیکن امام بخاری صفحہ [۴۲۴]پرایک قصہ نقل کرتے ہیں جو غالباً کسی یہودی النسل کا بتایا ہوا ہے جس میں ایک پیغمبر کا اللہ کی تسبیح کرنے والے جانداروں کا قتل کرنا ثابت ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ایک چیونٹی نے تم کو کاٹا مگر تم نے پورا استہان جلا دیا ۔۔۔۔۔۔بلفظہ
J جواب L
ذرا الفاظ پر توجہ فرمائیں،،جو غالباً کسی یہودی النسل کا بتایا ہواہے،، حالانکہ حضرت ابوھریرہ Z صحابی رسول ا حافظ الحدیث فرماتے ہیں سمعت رسول اللہ االخ ناقل وراوی صحابی رسول ہیں اور واقعہ بتانے والی ذات بابرکات حضرت ا کی ہے ۔خود سوچئیے اس نے یہ تہذیب سے گرے ہوئے کفریہ لفظ کس کے متعلق کہے ؟
لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
واقعی اللہ تعالیٰ کی ذات حلیم ہے حوصلہ والی ہے ورنہ آسمان پھٹ جاتا باد ل آگ برساتے پتھروں کی بارش ہوتی زمین پر زلزلے ہوتے ایسا غلط قلم چلاتے وقت یہ شخص صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ۔مگر اللہ تیری حکمت بالغہ کو کون سمجھے تو حکیم ہے تیرے معاملات میں کسی کو کیا دخل ۔مگر یاد رکھیں
دیر گیر د سخت گیرد مرترا
ان بطش ربک لشدید
بلی تھیلے سے باہر آگئی :۔
قرآن وبخاری کا تعارض ثابت کرنے والا تعارض نمبر ۴۱ میں بھی قرآنی آیت پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہوا آیت کریمہ پیش نہ کرسکا
قرآن کے نام پر جھوٹ:۔
قرآن مقدس کا عنوان قائم کرنے کے بعد الامہ لکھتے ہیں
1 ۔۔۔قرآن مقدس میں یہ بیان ہوا ہے کہ جو شئے مسلمانوں کے لئے ضرر رساں ہو اور اس سے کبھی نفع کی توقع نہ ہو توا س کو مٹا دیا جانا چاہئیے صفحہ[۸۱]
2 ۔۔۔قرآن نے انبیاء علیہم السلام کا یہ خاص کردار ذکر کیا ہے وہ اللہ کی رحمت کا عملی نمونہ ہوتے ہیں بلند اخلاق کہ خود تکالیف برداشت کرلیتے ہیں لیکن کسی کو دکھاتے نہیں صفحہ[۸۱]
ہم جاننا چاہینگے کہ درج بالا عبارت قرآن کی کن آیات مقدسہ کا لفظی ترجمہ ہے
رہی یہ بات کہ اس نبی علیہ السلام نے چیونٹیوں کو کیوں جلایا اس کے متعلق علماء کبار نے کافی وافی بحث فرمائی ہے ۔جس میں یہ بھی ہے کہ شاید اس پیغمبر علیہ السلام کی شریعت میں چیونٹیوں کا قتل کرنا اور کسی کو تعذیب بالنار جائز ہوگا۔
قال العلماء وہذا الحدیث محمول علی ان شرع ذالک النبی علیہ السلام کان فیہ جواز قتل النمل وجوا ز احراق بالنار ۔
نووی علی المسلم جلد[۲] صفحہ[۲۳۶]
جواب نمبر ۲:۔
ہوسکتا ہے وہ نبی اللہ چیونٹیوں کو پہلے جلا چکے ہوں اور جلانے کے عدم جواز کی اطلاع من جانب اللہ بعد میں دی گئی ہو
والاولی ان یقال لعلہ لم یکن یعلم حینئذ انہ لا یجوز ۔
عمدۃ القاری جلد[۱۰] صفحہ[۳۳۹]
یادرکھنے کی بات یہ ہے کہ علماء اسلام ،شراح بخاری نے اس حدیث کے جوابات وتاویلات ارشاد فرمائی ہیں مگر چتروڑی کی طرح یہ کسی نے نہیں کہاکہ روایت موضوع ہے۔
EE
تعارض نمبر{42}
ولا تکونو ا کالتی نقضت غزلہا من بعد قوۃ انکاثا میں نقضت غزلہا بطور تمثیل ہے نہ یہ کہ کسی قصہ کا ذکر ہوا۔
لیکن داد دیجیئے امام بخاری ؒ کو جو قرآن کی آیت کی تفسیر ایک عورت کا واقعہ بتاتے ہیں جو خرقاء نامی مکہ میں رہتی تھی اور صبح کو سوت کات کر شام کو توڑ موڑ دیتی تھی پھر کمال تعجب ہے کہ بخاری صاحب ایسی تفسیر سدی کذاب اور اس کے تلمیذ احمق صدقہ بن ابی عمران پر اعتماد کرکے اپنی کتاب میں درج کردیتے ہیں۔ ملخصاً وبلفظہ صفحہ[۸۲۔۸۳]
J جواب L
جناب الامہ احمد سعید :۔
آپ کو آپکے استاذ مکرم کی تفسیر سنواتا ہوں شاید تسلی ہوجائے شیخ القرآن تفسیر جواہر القرآن جلد[۲] صفحہ[۶۱۰] سورۃ نحل حاشیہ نمبر[ ۷۵]پر رقمطرا ز ہیں
یہ عہد توڑنے والوں کے لئے تمثیل ہے کہتے ہیں مکہ مکرمہ میں ایک عورت تھی جس کے دماغ میں خلل تھا وہ سوت کاتتی تھی مگرکاتنے کے بعد سوت کو نوچ ڈالتی (ابن کثیر ) فرمایا عہد کو توڑنا بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ وہ کم عقل عورت سوت کات کر توڑ دیتی تھی
سنایئے :۔
امام بخاریؒ کو توآپ داد دلوارہے تھے آپ کے شیخ محترم کو داد کون دے گا؟ حضرت شیخ القرآن علامہ غلام اللہ خان صاحب بھی وہی لکھ رہے ہیں جو امام بخاری نے نقل کیا۔
سعدیاشیرازیاسبق مدہ کم ذات را
کم ذات چوں ملا شود گلہ کند استادرا
پھر جس سدی کو آپ کذاب فرمارہے ہیں ابن کثیر میں وہی سدی ہے جس پر اعتماد کر کے شیخ القرآن واقعہ تفسیرجواہرالقرآن میں ذکر کرتے ہیں ۔
باقی روایت میں صدقہ کون ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے بعض نے صدقہ ابن الفضل مروزی ذکر کیا ہے۔ بعض نے صدقہ ابو ھذیل فرمایا ہے بعض نے صدقہ بن ابی عمران بھی لکھا ہے آپ نے کیسے احمقانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے بلا تحقیق احمق لکھ دیا ۔
اور اگر بالفرض صدقہ بن ابی عمران بھی ہے تو تقریب التہذیب صفحہ[۲۳۴] اور میزان الاعتدال جلد[۳] صفحہ[۴۲۷]پر اسے قاضی الاھواز صدوق لکھا ہے۔
پھر امام مسلم بھی کتاب الصیام جلد[۱] صفحہ[۳۵۹] پر صدقہ بن ابی عمران سے روایت لاتے ہیں مگر آپ ہیں جواسے احمق کہتے ہیں۔ عقل کا علاج کرو ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جلد[۱۰] صفحہ[۲۸۰]
EE
تعارض نمبر{43}
قرآن مقدس کے نزول سے قبل شیاطین الجن آسمانی خبر فرشتوں کی باہمی گفتگو سن کر کچھ نہ کچھ چرالیتے تھے مگر نزول قرآن کے بعد اب کسی جن کا پہلے کی طرح سننا ممکن نہیں رہا خود جنات کی بات قرآن ذکر فرماتا ہے وانا کنا نقعد منہا مقاعد للسمع فمن یستمع الان یجدلہ شھا بارصداً
مگر امام بخاریؒ صفحہ [۴۵۶]پرروایت لاتے ہیں ان الملائکۃ تنزل فی العنان وہوالسحاب فتذکر الامر قضٰی فی السماء فتسترق الشیطان السمع الخ جس سے معلوم ہوتا ہے جن اب بھی فرشتوں کی بات سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیتے ہیں [ملخصاً]
J جواب L
جناب والا اگر آپ میں عربی سمجھنے کی صلاحیت نہیں تواردو تفسیرمعارف القرآن ہی دیکھ لیتے آپ کا مغالطہ دور ہوجاتا مگر شرط ہے کہ نیت اصلاح کی ہو
خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا
حضرت مفتی اعظمؒ فرماتے ہیں :۔
یہ مضمون حدیث عائشہؓ کے منافی نہیں کیونکہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ شیاطین آسمان میں جاکر یہ خبریں چرا لاتے ہیں بلکہ یہ ہوسکتا ہے کہ پہلے یہ خبریں درجہ بدرجہ آسمانوں میں فرشتوں کے اندر پھیلی ہوں پھر فرشتے عنان سماء یعنی بادل تک آتے اور اس کا تذکرہ کرتے ہوں یہاں سے شیاطین خبروں کی چوری کرتے ہوں۔معارف القرآن جلد[۶] صفحہ[۵۸۰]
خلاصہ یہ نکلا کہ قرآن کریم اور دیگر احادیث طیبہ میں آسمانوں پر پہرے بٹھانا معلوم ہوتا ہے او راس حدیث میں جو شیاطین کے سن لینے کا ذکر ہے وہ تحت السماء بادل ہیں۔ حدیث بخاری میں ان الملائکۃ تنزل فی العنان وہوا لسحاب کاذکر ہے ذرا آنکھیں کھولیں اور عقل سنبھالیں یہی بات تفسیر مظہری میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
EE
تعارض نمبر{44}
سبعۃ احرف والی حدیث کے سلسلہ میں ہے جو اب تفصیلاً گذر چکا ہے ۔ البتہ یہاں ایک مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی اس کا جواب ضروری سمجھتا ہوں
مغالطہ
قرآن حکیم فرماتا ہے ہم نے آسان کردیا قرآن سمجھنے کو ولقد یسرنا القرآن للذکر اگر کئی قراتیں اور لغات مانی جائیں تو پھر عسر بن جائیگا ۔یسر نہیں رہیگا ۔
J جواب L
اس وقت میرے سامنے اہل السنۃ والجماعۃ علماء دیوبند کا ترجمہ شیخ الہند بریلوی مسلک کے احمد رضاخان بریلوی اور غیر مقلد ین میں سے جوناگڑھی کا ترجمہ سامنے ہے۔
ان بزرگوں نے ذکر کا معنی سمجھنا ،یاد کرنا، نصیحت، کیا ہے
قرأتیں اگرچہ مختلف ہوں قرآن کریم کا سمجھنا اس سے نصیحت حاصل کرنا یا اہل فن کے لیے اسے یاد کرنا بحمد اللہ آسان ہے جبہی تو ہزاروں کی تعداد میں طلباء شعبہ تجوید وقرآت میں زیر تعلیم ہیں ۔
EE
تعارض نمبر{45}
اس میں الامہ نے بزعم خویش مسئلہ ترک قرأۃ خلف الامام میں احناف کے حق میں دلائل پیش کئیے ہیں اور پھراپنی عادت شنیعہ کے مطابق محدث جلیل امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو سخت سست کہا
1 ۔۔۔لیکن امام بخاری قانون اور قاعدہ قرآن کے صریح خلاف ۔۔۔ رواۃپر کلی اعتماد کرکے فرماتے ہیں کہ امام کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ پڑھائی نہ کرے صرف سننے پر اکتفاء کرے اسکی نماز نہیں ہوتی صفحہ [ ۹۳]
2 ۔۔۔بلکہ اپنی کتاب جزء القرأت میں پر زور تعصب کا رنگ دکھاتے ہوئے۔صفحہ[ ۹۳]
3 ۔۔۔امام بخاری کا باب باندھنا ہی صاف جھوٹ ہو
ا صفحہ[ ۹۴]
4 ۔۔۔اما م بخاری کی خیانت یا بھول چوک صفحہ[ ۹۶]
5 ۔۔۔اگر بخاری صرف فاتحہ لیتے ہیں تو نری خیانت ہے
صفحہ [۹۷]
6۔۔۔مسلکی تعصب یہاں تک ایک محدث جلیل کو لے گیا کہ حدیث کانقشہ بھی بدل کر رکھ دیا صفحہ[ ۹۸]
7 ۔۔۔کا فروں کا قدیم زمانہ سے پیشہ چلاآرہا ہے ۔۔۔۔۔۔تو کافرچونکہ قرآن کی آواز سننا نہیں چاہتا لہذا اس کے عین مقابلہ میں نعت خوانی ڈوہڑا بازی شروع کردے گا یا قال قال رسول اللہ کی لڑھ مچادے گا (لڑھ سرائیکی کا لفظ ہے بمعنی آوارہ بے فائدہ فضول گفتگو )صفحہ[۸۷]
8 ۔۔۔تیسرا آپ ؐمیں جولاادری کا اندھیر اتھاوہ تو جبرائیل علیہ السلام کی پڑھائی سے دور ہورہا ہے (اس گستاخی پربھی نظر رہے آپ میں جو لاادری کی اندھیرا تھا)صفحہ [۸۸]
J جواب L
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو بوجہ شافعی المسلک ہونے کے یا بوجہ قریب الی الشوافع ہونے کے یا بوجہ حنبلی المسلک ہونے کے یا مجتہدمطلق ہونے کے سبب پورا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے نقطہ نظر کے مطابق عنوان قائم فرماویں اس میں کوئی قباحت نہیں۔
مگر روایت نقل کرنے میں ان کی دیانت تقوی وپرہیز گاری پر ذرہ برابر شک نہیں کیا جاسکتا ہے جس طرح احمد سعید نے اپنی اسی تالیف کے صفحہ نمبر[ ۹۸]پر کیا ہے لکھتا ہے
لیکن امام بخاریؒ چونکہ خلف الامام قرأت کا قائل تھا اس لیئے عمدًا اس سوال اور جواب کا ذکر اس حدیث سے اڑا دیا اورکچھ کاکچھ بیان کردیا
نعوذ باللہ من ذالک
صحیح بخاری اور احناف کے دلائل
1 ۔۔۔عن ابی ھریرہؓ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اذا قال الامام غیر المغضوب علیہم ولاالضالین فقولوا آمین ۔بخاری جلد[۲:[ صفحہ[۶۴۲]
اس میں صراحت ہے کہ قرأت کرنا امام کا کام ہے اور آمین کہنا مقتدی کا کام ہے۔
2۔۔۔حضرت ابوبکرۃ Z کی روایت جو رکوع میں آکر شامل جماعت ہوئے فاتحہ نہیں پڑھی مگر آنحضرت افرماتے ہیں۔ زادک اللہ حرصاً
بخاری جلد[۱] صفحہ[۱۰۸]
بطور نمونہ دو حدیثیں نقل کردی ہیں تفصیل کے لئے دیکھئے میری تالیف مسئلہ قرآت خلف الامام۔ مسئلہ ترک رفع یدین
میری گذارش کا مقصد یہ ہے کہ حضرت امام بخاریؒ کی دیانت وامانت میں شک نہیں کیا جاسکتا۔انہو ں نے احادیث طیبہ جمع فرمادیں ہیں جن میں احناف کے مستدلات بھی موجودہیں
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
احمد سعید یہ بحث چھیڑ کر احناف کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ اسی تالیف کے صفحہ [۱]پر یقول ہذا الخدا ع بین المسلمین کی عبارت نقل کرکے یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی کہ امام بخاری امام اعظم سیدنا امام ابوحنیفہ کو دھوکا باز اور فراڈی کہنا چاہتے ہیں۔ عبارت بلفظہ ملاحظہ فرماویں
امام ابوحنیفہ کے متعلق یہ لکھ دیا کہ یہ مسلمانوں سے دھوکہ اور فرا ڈ کرنے والا تھا یقول ہذاالخداع بین المسلمین
قرآن مقدس بخاری محدث صفحہ [۱]
ناظرین آپ یہ پڑھ کر ششدر رہ جائیں گے کہ الامہ احمد سعید نے اس عبارت کے لکھنے اور معنی کرنے میں دھوکہ اور فراڈ سے کام لیا ہے
بخاری شریف جلد [۲] صفحہ [۱۰۳۳]کتاب الحیل میرے سامنے ہے اس میں امام بخاری شفعہ کے ایک مسئلہ پر بحث فرمارہے ہیں جس میں ان کی رائے احناف کی رائے کے خلاف ہے۔
اب حضرت امام بخاری فرماتے ہیں کہ اگر احنا ف کی بات مان لی جائے تو یہ دھوکہ بنتا ہے مگر حنفیہ فرماتے ہیں دھوکہ اور چیز ہے اور حیلہ اور چیز ہے یہ اختلافی صورت از قسم حیلہ ہے دھوکہ نہیں ان میں بہت بڑا فرق ہے کیونکہ دھوکہ میں نیت گناہ کرنے کی ہوتی ہے اور جائز حیلہ میں نیت گناہ سے بچنے کی ہوتی ہے ۔
خیانت ہی خیانت :۔
1 ۔۔۔فاجاز ہذا الخداع کو یقول ہذا الخداع لکھاہے جس کے معنی میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔
2۔۔۔ مصدر کو اسم مبالغہ بنا کر پیش کیا جبکہ بخاری شریف کے اس مقام پر بین السطور صاف لکھا ہے بکسر الخاء یعنی یہ مصدر ہے اسم مبالغہ نہیں۔
3۔۔۔ ترجمہ میں دھوکہ کودھوکہ اور فراڈ کرنے والا لکھا ہے
ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہیے
خامہ انگشت بدنداں اسے کیا لکھیے
مگرہم اپنے ائمہ کی تحقیق پر مکمل اعتماد وعمل کرنے کے باوجود کسی بھی اہل علم کی توہین کو ناجائز سمجھتے ہیں ۔چاروں ائمہ برحق ہیں اہل السنۃ والجماعۃ کے امام ہیں اور ماجور من اللہ ہیں ۔
EE
تعارض نمبر{46}
قرآن مقدس کی ایک سورۃ اخلاص کے نام سے مشہو رہے لیکن امام بخاری۔۔۔۔۔۔ وہ سورۃ اخلاص کا حلیہ کچھ اور ہی بتاتے ہیں اللہ الواحد الصمد
J جواب L
اللہ تعالیٰ جب کسی پر ناراض ہوتے ہیں تو عقل سلب فرمالیتے ہیں جس کی زندہ مثال یہی موصوف ہیں۔
حضرت امام نے مستقل باب باندھا ہے باب فضل قل ہو اللہ احد جلد[ ۲] صفحہ[۷۵۰]پھر اسی کے تحت دو روایات حضرت سیدنا ابو سعید الخدری Z سے لائے ہیں ان میں بھی قل ہو اللہ احد ہے ۔
کتاب التفسیر میں صفحہ[ ۷۴۳] پر بھی قل ہو اللہ احدنقل فرماتے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ؒ سورۃ اخلاص کا حلیہ بگاڑدیں
رہے بخاری شریف میں فقال اللہ الواحد الصمد کے الفاظ تو اس پر حاشیہ ہی دیکھ لیا جاتا تو آپ کی مشکل حل ہوجاتی
اشارۃ الی سورۃ الاخلاص اذ فیہا ذکر الالوہیۃ والوحدۃ والصمدیۃ
اس کا مطلب یہ نہیں کہ سورۃ اخلاص کے الفاظ ہی اللہ الواحد الصمد ہیں بلکہ مقصد ہے کہ وہ سورۃ جس میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت، وحدانیت اورصمدیت کا ذکر ہے ۔ اس قسم کا جواب
عمدۃ القاری جلد[۱۳]صفحہ[۵۵۷]
ارشاد الساری جلد[۱۱] صفحہ[۳۳۲]پر دیکھا جاسکتا ہے
EE
تعارض نمبر{47}
قرآن پاک میں سورۃ نساء میں موجود آیت مبارکہ فمالکم فی المنافقین فئتین واللہ ارکسہم بما کسبو ا ان لوگوں کے خلاف نازل ہوئی جو مدینہ سے باہر مختلف قبائل میں مسلمان ہوگئے تھے ان کو کہا گیا ہجرت کرکے مدینہ آجاؤمگر وہ نہ آئے۔
ادھر سیاسی وجنگی ضرور ت کے تحت ان قبائل کو سزادینے کی ضرورت بھی تھی جن میں یہ اکا دکا نام نہاد مسلمان رہ رہے تھے تو ان مسلمانوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے اس میں اختلاف ہوگیا بعض صحابہ ان کے مسلمان ہونے کے سبب ان کے قتل کے حق میں نہ تھے جبکہ بعض کا خیال تھا کہ ہجر ت نہ کرنے کے سبب انکو بھی اس قبیلے کے ساتھ قتل کردیا جائے ۔
لیکن اخباری آدمی کا مطمع نظر چونکہ روایا ت جمع کرنا ہوتا ہے اسی لئے امام بخاری نے صفحہ [۵۸۰]پرقرآن کے صریح خلاف عدی بن ثابت کٹر رافضی پر اعتماد کرتے ہوئے یہ آیات منافقین مدینہ عبد اللہ بن ابی ابن سلول کے متعلق نازل ہوئی ہیں ۔حالانکہ یہ داستان ہی جھوٹی بنائی ہے لعنتی راویوں نے ملخصاًصفحہ[ ۱۰۰تا ۱۰۲]
J جواب L
حضرات مفسرین کرام نے اس آیت کے شان نزول میں مختلف اقوال نقل کیئے ہیں۔
1۔۔۔یہاں سے منافقین کے دو گروہوں کا حکم بیان کیا گیا ہے ایک وہ منافقین جو مدینہ سے دوسرے شہروں میں نکل گئے تھے ۔دوم وہ جو ایسے کافروں کے پاس جا کر پناہ گزین ہوگئے تھے جن کے اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ ہوچکا تھا اس آیت میں المنافقین سے منافقین کاپہلاگروہ مراد ہے ۔ تفسیر جواہر القرآن سورۃ نساء حاشیہ نمبر[ ۶۳] صفحہ[ ۲۳۳]
2۔۔۔ان منافقوں میں وہ لوگ داخل ہیں جو ظاہر میں بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ ظاہروباطن کفر پر قائم تھے لیکن حضرت ا اور مسلمانوں کے ساتھ ظاہری میل جول اور محبت کا معاملہ رکھتے تھے اور غرض ان کی یہ تھی کہ مسلمانوں کی فوج ہماری قوم پر چڑھائی کرے تو ہماری جان ومال اس حیلہ سے محفوظ رہیں ۔۔۔۔۔۔تفسیر عثمانی
3 ۔۔۔مذکورہ آیات میں تین فرقوں کا بیان ہے پہلی روایت بعض مشرکین مکہ سے مدینہ آئے اور ظاہر کیا کہ ہم مسلمان ہیں اور مہاجر ہو کر آئے ہیں پھر مرتد ہوگئے اور حضرت رسول مقبول اسے اسباب تجارت لانے کا بہانہ کرکے پھر مکہ چل دیے اور پھر نہ آئے ان کے بارے میں مسلمانوں کی رائے مختلف ہوئی ۔
معارف القرآن جلد[۲]صفحہ [۵۰۹۔۵۱۰]
ناظرین ذی وقار :۔
آپ نے اردو زبان میں مشہور تفاسیر کے اقتباسات پڑھے اس آیت کا شان نزول مختلف طور بیان ہوا ہے
مگر الامہ احمد سعید کا ہمنوا کوئی نہ بنا کہ ان کو ہجرت کرنے کا کہا گیا تھا مگروہ نہ آئے تو یہ آیات نازل ہوئیں یہاں تک کہ انکے استاذ محترم شیخ القرآن نے بھی ان کے سر پر ہاتھ نہ رکھا۔
اب سوال یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا شان نزول یہ فرمایا ہے کہ جب آپ ااحد کی طرف تشریف لے گئے تو عبداللہ بن ابی وغیرہ راستہ سے واپس لوٹ آئے تھے انہیں کے متعلق اصحاب رسول اکی آراء مختلف ہوگئیں ایک جماعت کہتی تھی نقاتلہم اور دوسری جماعت کہتی تھی لا نقاتلہم تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔
کیا یہ شان نزول جھوٹا ہے؟ جس طرح الامہ صفحہ[ ۱۰۲]پر رقمطراز ہیں۔
یہ ساری داستان ہی جھوٹی بنائی ہے لعنتی راویوں نے (نعوذ باللہ )
میرے پیارے :۔
ہمیں تو جینا مرنا اکابر اہل السنۃ والجماعۃ کے ساتھ ہے۔
1 ۔۔۔علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
ہذا ہو الاصح فی سبب نزولہا
عمدۃ القاری جلد[۱۲] صفحہ[۹۸]
2۔۔۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
ہذا ہو الصحیح فی سبب نزولہا ۔
فتح الباری جلد[۹]صفحہ [۱۲۶]
3۔۔۔علامہ قسطلانی رحمہ اللہ نے اس کے علاوہ اور کوئی شان نزول ہی ذکر نہیں کیا
ارشاد الساری جلد[۹] صفحہ [۱۱۶]
4۔۔۔مشہور مفسر قرآن علامہ قرطبیؒ دو شان نزول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں
والاول اصح نقلا وہو اختیار البخاری ومسلم وترمذی ۔تفسیر قرطبی جلد[۵] صفحہ[۳۰۷]
اکابرین اسلام جس کو اصح وصحیح فرمارہے ہیں یہ اسے جھوٹ بتا رہا ہے
دردمندانہ گزارش:۔
میں دردمندانہ گذارش کروں گا ان حضرات سے جو توحید کے نام پر اسکے دام فریب میں پھنسے ہوئے ہیں اسے چھوڑیئے اور اکابرکا دامن مضبوطی سے پکڑ یئے۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ بھی نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ بھی نہیں
EE
تعارض نمبر{48}
الامہ فرماتے ہیں ویؤ ثرون علی انفسہم ولوکان بہم خصاصۃکاشان نزول امام بخاری نے کتاب المناقب میں جو واقعہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ کے مہمان کو ایک صحابی اپنے گھر لے گئے جو کچھ تھا اس مہمان کی خدمت پیش کردیا ۔چراغ گل کرکے خود اس طرح ساتھ رہے کہ وہ سمجھے میرے ساتھ کھا رہے ہیں ( میں نے تو مہذبانہ جملے لکھے ہیں وہ لکھتا ہے کہ وہ ساتھ خالی چبکارے مارتے رہے صفحہ ۱۰۴) ملخصا۔ً یہ درست نہیں پھر ساتھ الامہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ بھی لکھ رہے ہیں
J جواب L
ہدایت کے دو ہی راستے ہیں یا آدمی خود صاحب نظر عالم ہو یا پھر کسی سے وابستہ ہو خیر سے یہ دونوں چیزیں آپ میں مفقود ہیں ۔کاش علماء کے قدموں میں بیٹھنا نصیب ہوتا تو پھر اس قسم کی ٹھوکریں نہ لگتی
اٹھائیے ۔عمدۃ القاری جلد [۱۱] صفحہ [۵۱۱] اور فتح الباری جلد نمبر [۸] صفحہ[ ۴۹۸] صاف لکھا ہے ہذا ہو الاصح فی سبب نزول ہذہ الایۃ
یعنی اقوال تو اور بھی ہیں مگر جو سبب نزول امام بخاریؒ نے نقل کیا ہے اصح ہے سب سے زیادہ صحیح ہے
ع پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
باقی تو ہین صحابیؓ کرتے ہوئے،، یہ جملے چبکارتے مارتے رہے ،،جو سرائیکی زبان میں انتہائی گھٹیا جانو ر کے کھانے پر بولا جاتاہے اس کا جواب خداوند قدوس اپنے منتقم ہاتھوں سے دیگا ہم بے بس اور عاجز ہیں وہ قادر ہے۔
EE
تعارض نمبر{49}
قرآن کریم میں اس کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آنحضرت ا کو مطلع فرمایا کہ جنات کے ایک گروہ نے بڑی توجہ کے ساتھ قرآن سنا قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن [الآیۃ]
مگر امام بخاریؒ کتاب المناقب میں فرماتے ہیں آپ اکو جنات کے آکر قرآن سننے کی اطلاع ایک درخت نے دی[ ملخصاً]
J جواب L
یقین جانیئے مجھے اس غریب کی کم علمی پر ہنسی آتی ہے اور بوڑھاپے کے عالم میں وہ جو کچھ سامان آخرت تیار کرکے لیجارہا ہے اس پر ترس بھی آتا ہے انسان کو اللہ تعالیٰ سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہیئے
ناظرین جو چیز تعارض بنا کر اس مرد شریف نے پیش کی ہے یہ تعارض تب بنتا جب آنحضرت اکی دنیوی زندگی مبارک میں جنات سے ملاقات اور ان کے استماع قرآن کا واقعہ ایک مرتبہ پیش آیا ہوتا
علامہ خفاجی فرماتے ہیں احادیث معتبرہ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے اس کے مطابق جنات کے وفود آنحضرت ا کی خدمت اقدس میں چھ مرتبہ حاضر ہوئے ہیں ۔معار ف القرآن جلد [۸ ]صفحہ [۵۷۷]
تو عین ممکن ہے کہ بعض کی اطلاع بذریعہ وحی دی گئی ہو اور باری تعالی ٰنے کسی ایک واقعہ میں درخت سے بھی گذارش کرادی ہوکیونکہ شجر حجر طیور وغیرہ کا آپ ا سے ہم کلام ہو نا احادیث میں موجود ہے
(۲) یہ بھی ممکن ہے کہ جنات کی آمد کی اطلاع درخت نے بھی گذارش کی پھر بذریعہ وحی الہی بھی مطلع کردیا گیا ہو ۔
نیت صاف منزل آسان
EE
تعارض نمبر{50}
اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کے علاوہ جہاد نہ کرنے والوں پر جہاد کرنے والوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا لا یستوی القاعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر الایۃ ۔۔۔لیکن بخاری صاحب(صفحہ ۳۹۷پر) قرآن کی عبارت سے سخت بے اعتنائی کرتے ہوئے کئی مرتبہ اپنی کتاب میں ٹانک دیتے ہیں کہ یہ آیت میں غیر اولی الضرر پہلے نازل نہیں ہوا تھا ابن ام مکتوم کے کہنے پر اللہ کے رسول انے از خود آیت میں لکھوادیا۔ لا حول ولا قوۃبلفظہ صفحہ [۱۰۶]
J جواب L
ناظرین گرامی :۔
یہ جملہ،، اللہ کے رسول انے از خود آیت میں لکھوادیا،، صفحہ[۱۰۶] حیثیت نبویؐ اور عصمت نبوت اپر کتنا زبردست حملہ ہے اس کی مثال نہیں ملتی ڈنمارک اور رشدی کا نام کیوں لیتے ہو اسے سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے جو لکھتا ہے اللہ کے رسول نے از خود آیت میں لکھوادیا۔
بتاؤ:۔دنیا کے آگے قرآن حکیم کے متعلق منزل من اللہ ہونے کا دعوی کرنے والو اس نے قرآن کے پلے کیا چھوڑا ؟
کیا اللہ کے نبی قرآن میں حسب منشا اضافہ فرمایا کرتے تھے ؟
استغفر اللہ تعالیٰ ربی من کل ذنب واتوب الیہ
ہیں کواکب کچھ اور نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
لیجیے بخاری شریف کتاب الجہاد صفحہ [۳۹۷]جس کا حوالہ دیکر زبان درازی کی گئی ہے۔ مکمل حدیث مع ترجمہ پڑھیئے۔
عن ابی اسحق قال سمعت البراء یقول لما نزلت لا یستوی القاعدون من المؤمنین دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیداًفجاء بکتف فکتبہا وشکی ابن ام مکتوم ضرارۃ فنزلت لا یستوی القاعدوں من المؤمنین غیر اولی الضرر
ابوسحق فرماتے ہیں میں نے حضرت براءؓ سے سنا کہتے تھے کہ جب یہ آیت لا یستوی القعدون من المؤمنین نازل ہوئی تورسول اللہ انے زید بن ثابتZ کو بلایا آپ Z ایک چوڑی ہڈی ساتھ لے کر حاضر ہوئے اور اس آیت کو لکھا اور ابن مکتوم Z نے جب اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو آیت یوں نازل ہوئی لا یستوی القاعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر
فرمایئے بخاری کیا کہتی ہے حضرت پاک انے از خود آیت لکھوائی یا فنزلت اللہ کی طرف سے نازل ہوئی۔
سبحانک ہذا بہتان عظیم
EEE
تعارض نمبر{51}
اللہ سے دعا کرتے ہوئے اور اس کا ذکر کرتے ہوئے چیخنا چلانا اور جہر کرنا یہ شان الوہیت میں سخت بے ادبی ہے ۔۔۔۔۔۔جب آمین دعا ہے اور اس پر تمام علماء حدیث کا اتفاق ہے تو پھر جہر سے دعا کرنا کیا قرآن کی آیت کے خلاف نہیں ہے؟۔۔۔۔۔۔بلفظہ صفحہ [۱۰۷۔۱۰۸]۔ بخاری صفحہ [۱۰۷]
J جواب L
حضور والا مسئلہ آمین کو چھیڑ کر آپ احناف کی ہمدردیاں حاصل نہیں کرسکتے تمھارا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے آپ کے غیر ذمہ دار قلم نے محدث وحدیث نبی واصحاب نبی کے خلاف جو زہر اگلا ہے اسکی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔
عندالاحناف اگرچہ آمین آہستہ کہنا ہی افضل ہے مگر جو ائمہ مجتہدین جہر کے قائل ہیں ہم ان کی عزت وعظمت بھی ضروری سمجھتے ہیں۔
دلائل کی دنیا بڑی وسیع ہے مگر دائرہ تہذیب میں رہنا ازحد ضروری ہے باقی بطور ضابطہ آپ کا یہ فرماناکہ اس کا ذکر کرتے ہوئے جہر کرنایہ شان الوہیت میں سخت بے ادبی ہے۔ درست نہیں۔
کیونکہ حدیث پاک میں
1۔۔۔ایک آدمی نے گذارش کی کونساحج افضل ہے ؟آپ انے فرمایا
العج والثج مشکوٰۃ جلد [۱] صفحہ [۲۲۲]
بہترین حج وہ ہے جس میں خوب پکار کر لبیک کہی جائے اور خون بہایا جائے(قربانی کیجائے)
2۔۔۔حضرت افرماتے ہیں میرے پاس جبرئیل تشریف لائے اور مجھے حکم دیا کہ میں صحابہؒؓ کو حکم دوں ان یرفعوا اصواتہم بالاہلال اوالتلبیۃ ۔تلبیہ میں خوب اچھی طرح آواز بلند کریں ۔مشکوٰۃ صفحہ [۲۲۳]
سنایئے تلبیہ ذکر ہے یا نہ؟
ع جنکی بہاریہ ہو پھر ان کی خزاں نہ پوچھ
EE
تعارض نمبر{52}
قرآن مقدس کا بیان ہے کہ نماز میں خشوع وخضوع اگر نہ ہو تو نماز ہی نہیں ہوتی اور جو خشوع کرے وہ نہ تو اپنے بدن اورکپڑے پر نظر رکھ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
دوسرا مسئلہ قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ پس پردہ غیب جاننے والا صرف اللہ کی ذات ہے لا تدرکہ الابصار وہو یدرک الابصار وہو اللطیف الخبیر
ملخصاً
لیکن امام بخاری صفحہ [۱۰۲]پرراویوں پر کلی اعتماد کرکے کہتے ہیں کہ آپ ااپنی پیٹھ مبارک کے پیچھے اپنے مقتدیوں کے خشوع کو بھی ان کے دلوں میں دیکھ لیتے تھے۔ بلفظہ صفحہ[۱۰۹]
J جواب L
کتنا اچھا ہوتا حضرت امام انقلاب شیخ التفسیر والحدیث علامہ احمد سعید ملتانی صاحب قرآن کریم کی وہ آیت بھی زیب قرطاس فرمادیتے جس کا لفظی ترجمہ یہی ہوتا ہے کہ اگر نماز میں خشوع وخضوع نہ ہو تو نماز ہی نہیں ہوتی ۔
الامہ صاحب ہوش سے بات کریں اور عقل کے ناخن لیں آپ اپنی کسی خاص محفل احباب میں بات نہیں کررہے کہ واہ واہ کی آواز آئیگی ۔آپ نے بطور دلیل قد افلح المؤمنون* الذین ہم فی صلوٰتہم خاشعون ذکر کیا ہے
فرمایئے کس مترجم نے اس کا معنی کیا ہے؟ کہ نماز میں خشوع وخضوع اگر نہ ہو تو نماز ہی نہیں ہوتی۔
صاحب روح المعانی نے کیا خوب فرمایا ہے
خشوع اجزاء صلوۃ کیلئے شرط نہیں ہاں قبول صلوٰۃ کے لئے شرط ہے نعم الحق انہ شرط القبول لا الاجزاء
روح المعانی جلد[۱۰] صفحہ [۴]
مگر شیخ الاسلام ؒ مزید فرماتے ہیں
میرے نزدیک یوں کہنا بہتر ہوگا حسن قبول کے لئے شرط ہے۔
تفسیر عثمانی صفحہ [۵۸۹]
رہی یہ فقہی جزئی ،،اور جو خشوع کرے وہ نہ تو اپنے بدن اور کپڑے پر نظر رکھ سکتا ہے صفحہ [۱۰۸]،، ہمیں چاروں فقہوں میں نظر نہیں آئی اور اگر غیر مدون فقہ چتروڑی میں ہے تو ہمارے اسے سات سلام
فرمایئے؟
آنکھیں بند کرکے نماز پڑھے یا منہ آسمان کی طرف کرکے نماز پڑھے گا ۔ اس کے علاوہ تو جسم پر بھی نظر پڑے گی او رکپڑوں پر بھی نظر پڑے گی ۔آپ فرماتے ہیں اس صورت میں خشوع گیا ۔خشوع گیا تو نماز گئی۔
چتروڑی صاحب جانے دیجیے۔ آپ کس چکر میں پھنس گئےُ سرلگاؤ،رقم کھری کرو، ڈنگ ٹپاؤاور بس۔ علم بہت دور کی بات ہے
چلو آپ کی اصلاح کردوں :۔
حضور آپ کو جس عبارت سے مغالطہ لگا ہے وہ ہدایہ شریف جلد[۱]صفحہ [۱۳۹]پر ہے ویکرہ للمصلی ان یعبث بثوبہ او بجسدہ یہاں نماز میں جسم اور کپڑوں سے کھیلنے کی بات تھی آپ نے دیکھنا سمجھ لیا۔
ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کردیا
سفید جھوٹ :۔
الامہ لکھتا ہے،، لیکن امام بخاریؒ راویوں پر کلی اعتماد کرکے کہتے ہیں کہ آپ ااپنی پیٹھ مبارک کے پیچھے اپنے مقتدیوں کے خشوع کو بھی ان کے دلوں میں دیکھ لیتے ہیں ،،صفحہ [۱۰۹]
پناہ بخداکذاب سنے تھے امام الکذابین سے اب واسطہ پڑا حضور آپ کا رقم کردہ جلد [۱] صفحہ[ ۱۰۲]میرے سامنے ہے اس میں تو صرف اتنا ہے انی لاراکم ورا ء ظہری اب فرمایئے ۔ان کے دلوں میں دیکھ لیتے ہیں کس کا معنی ہے ؟
کچھ خوف خد اکروخداکی پیشی بہت سخت ہے جہنم کا عذاب بڑا درد ناک ہے
وراء ظہری کا مطلب
اس پر علماء نے علم کے دریا بہادیئے ہیں۔تفصیل بڑی کتب میں ملاحظہ فرماویں خلاصہ یہ ہے کہ یہ آپ اکی دیگر خصوصیات کی طرح ایک خاصیت تھی ۔
علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
وقال الجمہوروہوالصواب انہ من خصائصہ علیہ الصلٰووالسلام ۔عمدۃالقاری ۔ جلد[۳]صفحہ[۴۰۴]
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
قال العلماء معنا ہ ان اللہ تعالیٰ خلق لہ ادرا کافی قفاہ یبصر بہ من وراۂ وقد انخرقت العادۃ لہ ﷺباکثر من ہذا ولیس یمنع من ہذا عقل ولا شرع بل وردا لشرع بظاہر ہ فوجب القول بہ
نووی علی المسلم جلد[۱]صفحہ [۱۸۰]
محمد بشر لا کالبشر
بل ہو یاقوت بین الحجر
EE
تعارض نمبر{53}
قرآن مقد س میں صاف لکھا ہوا ہے کہ آپ اکی کوشش او ر محنت کے باوجود ابو طالب کفر پر اڑا رہا اور کفر پر ہی مرا اور اللہ نے انک لا تھدی من احببت آیت بھی اسی کے کفر پر نص فرمائی اور پھر آئندہ ہمیشہ کے لئے آپ ا کو کسی بھی قریبی کے لئے سفارش سے منع کردیا وماکان للنبی والذین آمنوا ان یستغفرواللمشرکین ولو کانوا اولی قربٰیا ورانک لا تھدی آیت میں اللہ نے ہر کافر سے ہر قسم کے نفع دینے سے آپ کو مایوس فرمایا دیا بلفظہ صفحہ [۱۱۰]
امام بخاری کہتے ہیں کہ ابوطالب ۔۔۔۔۔۔لیکن آپ ہی کی وجہ سے عذاب کبیر سے بچا لیا گیا۔ بخاری صفحہ [۵۴۸]
J جواب L
تعارض نمبر[ ۷] میں یہی ہر دوآیات طیبات اور ابو طالب کے متعلق آپ کے ارشاد مبارک فیجعل فی ضحضاح من النار یبلغ کعبیہ یغلی منہ دماغہ ۔ کتاب المناقب صفحہ [۵۴۸]کولے کرآپ نے اعتراض کیا تھا مکمل جواب دیا جاچکا ہے یا تو جناب کا حافظہ ختم ہے یا پھر محض نمبر بڑھانے کے چکر میں ہیں
اور اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ابو طالب کو اتنا کم عذاب کیوں ہے تو حضور یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ میں مداخلت بنتی ہے جو کسی مسلمان کو حق نہیں پہنچتا آپ بھلے جو کہیں کہہ سکتے ہیں۔اور اگر اس عذاب وسزا پر آپ بہت ہی ناخوش ہیں تو بروز جزاء تبادلہ کی درخواست کرکے دیکھ لینا
کتاب اللہ پر جھوٹ :۔
الامہ صفحہ [۱۱۰] پر رقمطراز ہیں
قرآن مقد س میں صاف لکھا ہوا ہے کہ آپ اکی کوشش او رمحنت ومنت کے باوجود ابو طالب کفر پر اڑا رہا
ہماری درخواست ہے اس آیت کی نشاندھی بھی کردیجیے جس میں یہ صاف لکھا ہو کہ آپ ا کی کوشش اور محنت ومنت کے باوجود ابوطالب کفر پر اڑا رہا
سرخدا کہ عارف وزاہد بکس نگفت
درحیر تم کہ بادہ فروش ازکجا شنید
احمدسعید خدا کا خوف کرو قرآن کے نام پرجھوٹ اور کلام اللہ پر جھوٹ نہ بولو شان نزول اور چیز ہے قرآن مقد س میں صاف لکھا ہواہونا اور چیز ہے ۔کیاامام انقلاب بننے کے لئے قرآن میں تحریف کرنا بھی ضروری ہوتا ہے؟
EE
تعارض نمبر{54}
سورۃ ہود کی آیا ت الا انہم یثنون صدور ہم لیستخفوا منہ الاحین یستغشون ثیابہم[ الایۃ ]کاشان نزول یہ تھا کہ اہل مکہ حضرت ا کو دیکھ کر راستہ سے منتشر ہوجاتے گلی وغیرہ میں چلے جاتے اس ڈر سے کہ آپ قرآن سنانے لگے گیں [ملخصا]ً
مگر امام بخاری ؒ نے صفحہ [۶۷۷]پرابن جریج کے طریق سے آیت کی جو درگت بنائی ملاحظہ کریں اور قرآن کی آیت یثنو ن صدورہم کویثنونی صدورہم روایت کرنا بھی دیکھیں کہ امام بخاری کی قرآن کی طرف کس قدر توجہ تھی فرماتے ہیں اناس کانوا الخ یعنی کچھ لوگ پاخانہ کرتے یا بیویوں سے جماع کرتے ہوئے ستر کھولنے کی وجہ سے شرماتے تھے ۔۔۔۔۔۔یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی۔
لا حول ولا قوۃ الا باللہ
دیکھیئے آیت میں تحریف لفظی کے علاوہ تحریف معنوی کتنی بے دردی سے کی گئی بلفظہ صفحہ [۱۱۲۔۱۱۳]
J جواب L
جس طرح رافضی اختلاف قرأت کی روایات پیش کرکے ہمارے قرآن پر اعتراض کرتے ہیں اسی طرح احمد سعید شان نزول کے اختلاف کو پیش کرکے ہماری علم حدیث کی مشہور کتا ب پر اعتراض کررہا ہے۔
میرے والد گرامی شیخ المشائخ علامہ دوست محمد صاحب قریشی نوراللہ مرقدہ فرمایا کرتے تھے اہل السنۃ والجماعۃ کے مخالفین کے پاس سوائے مغالطہ دینے کے اور کچھ نہیں ہوتا
اس مقام پر بھی احمد سعید جسے تحریف لفظی کہہ رہا ہے وہ ایک قرأت ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ملاحظہ فرماویں۔
اللباب جلد [۱۰]صفحہ [۴۳۴]
صاحب لباب نے مختلف قرأتوں کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا
ونقل عن ابن عباس وابن یعمر ومجاہد وابن ابی اسحاق یثنونی صدورہم
اور جسے سعید تحریف معنوی کہہ رہاہے اس کا تعلق شان نزول کے اختلاف سے ہے تحریف سے نہیں مفسرین کرام نے اس آیت کے شان میں بہت کچھ ارشاد فرمایا ہے ۔مگر میں مناسب سمجھتا ہوں الامہ احمد سعید ملتانی کے استاذ مکرم شیخ القرآن کی تفسیر جواہر القرآن سے بات واضح کردوں
شیخ القرآن اس آیت کے دو شان نزول نقل کرتے ہیں
1 ۔۔۔امام رازی کی تفسیر کبیر سے
روی ان طائفۃ من المشرکین قالوا اذا اغلقنا ابوابنا وارسلنا ستورنا واسغشینا ثیابنا وثنینا صدورنا علی عداوۃ محمد فکیف یعلم بنا ۔
کبیر جلد[۱۷] صفحہ ]۱۸۵]
2۔۔۔مگر صحیح ترین بات وہی ہے جو حضرت ابن عباس Z نے فرمائی ہے کہ یہ آیت بعض مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جن پر حیاکا اس قدر غلبہ تھا کہ وہ استنجاء، جماع اور دیگر ضروریات کے وقت بدن کو ننگا کرنے سے شرماتے تھے ۔۔۔
صحیح بخاری ۔ جواہر القرآن سورہ ہود صفحہ [۴۹۵]
ناظرین :۔
جسے الامہ سعید احمد تحریف معنوی کہہ رہا ہے اس کے استاذ اسے صرف صحیح نہیں بلکہ صحیح ترین فرمارہے ہیں۔
حضور والا:۔دو میں سے ایک ہوگا۔یا بخاری کو سچا مانو یا شیخ القرآن کو غلط لکھو
عجب مشکل میں آیا سینے والا جیب داماں کا
ادھر ٹانکا ادھر ادھڑا ادھر ٹانکا ادھر ادھڑا
EE
خاتمہ اعتذار
خاتمہ اعتذارکا عنوان قائم کرکے آخر میں پھر لکھتے ہیں
اگرچہ من کل الوجوہ بخاری کو اصح تو درکنا ر صحیح کہنا بھی مشکل ہے ۔۔۔منافق قسم کے لعنتی راویوں نے یہ ساری تخریب کاری کی ہے اور معصوم عن الخطاء توامام بخاری بھی نہ تھے لہذا امام بخاری کو مطعون کرنے کی بجائے یہ سارا طعن رواۃ پر آتا ہے۔۔۔صفحہ [۱۱۴]
ستم سے باز آیا تو جفاکی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی
اس شریف کو اتنا علم بھی نہیں کہ بخاری کے رواۃ حضرت امام بخاری ؒ کے استاذ اور ااستاذ الاساتذہ ہیں ۔کیا ان کو طعن دینے سے امام بخاری کی جلالت شان محفوظ رہیگی۔ ہرگز نہیں
الغرض پوری کتاب امام بخاریؒ ، روا ۃ بخاری اور احادیث بخاری، کے خلاف غیر حقیقت پسندانہ مطاعن پر مشتمل ہے ۔منکرین حدیث اور معاندین اہل السنۃ والجماعۃ کو زہریلا مواد مہیا کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا گیا ۔تحقیق کے نام پر کھل کر اسلام کے خلاف تخریبی کاروائی کی گئی۔
مغالطہ دھوکہ دہی او ر کذب بیانی میں شاید یہ کتاب حرف آخر سمجھی جائے گی منہ زور قلم نے انتہائی گھٹیا بیہودہ اور بھونڈے انداز تحریر کا مظاہرہ کیا وہ اکابرین امت
جن کی علمی جلالت اخلاقی شرافت پر اسلام او ر اہل اسلام بجاطور پر فخر کرتے چلے آرہے ہیں ان کی تضحیک اور تمسخر اڑا کر دشمنان اسلام کے ہاتھ مضبوط کیے گیے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ اسلام اور اہل اسلام کی حفاظت فرماتے ہوئے ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق نصیب فرماویں۔آمین ثم آمین۔
Back to Conversion Tool